ثواب دیدی، صواب دیدی
barq@email.com
جب سے ہم نے یہ میٹھی مزیداردل خوش کن خبر سنی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کاصوابدیدی فنڈ ایک کروڑ روپے ہے تب سے ہمارے دل میں ’’یوں یوں‘‘ اور’’کچھ کچھ‘‘ بلکہ بہت کچھ ایک ساتھ ہونے لگا ہے کہ اگر کسی طرح ’’پہنچاجائے ‘‘ تو ہمارے بھی وارے نیارے ہوجائیں گے لیکن پھر یہ سوچ کر رہ جاتے ہیں کہ ’’وہاں پہنچنا‘‘ یا وہاں وہاں تک پہنچنا ہمارے بس میں ہوتا تو یوں کنگال کنگلا کی بجائے مالا مال نہ ہوچکے ہوتے ۔ لیکن ہماری قسمت میں ثواب تو بہت ہے لیکن صواب کوئی نہیں ہے یہ کوئی پرانا زمانہ تو ہے نہیں کہ لوگ آسانی سے ’’وہاں‘‘ پہنچیں جہاں پہنچنا چاہتے اور’’صواب‘‘ لیتے تھے۔ یہ صرف قصوں اورحکایتوں میں ہوتا تھا اورشاید اب بھی ہوتا ہو لیکن وہاں صوابدیدی مقامات تک پہنچنا؟
بر سماع راست ہرکس چیر نیست
طعمہ ہرمرغکے انجیر نیست
بلکہ صوابدید نیست کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالرحیم خان خانان کے پاس ایک ہم جیسا شخص آیا۔ عبدالرحیم خان خانان اکبر کے نورتنوں میں سے ایک رتن تھا چونکہ ان رتنوں کے پاس اکبر کا دیا ہوا اورعوام کے خون پسینے سے کشید کیا ہوا بہت ہوتا تھا اس لیے خان خانان کے ’’خانہ خانی‘‘ پر انکم سپورٹ کا دستر خوان جاری رہتا تھا۔ جسے اس زمانے میں خوان نعیما … اورآج صوابدیدی کہتے ہیں لیکن خان خانان کے اس خوان صوابدیدی کی خاص بات یہ تھی کہ پکوانوں اورشوربے کے برتنوں میں کچھ سکے یا ہیرے موتی بھی ہوتے تھے جس کو جو کچھ مل جاتا اسی کاہو جاتا یعنی ہم خرما وہم صواب۔
ایک دن ایک فقیر کھانے بیٹھا اور’’صواب‘‘ کا سکہ اس کے برتن میں نکل آیا تو وہ اس سکے کو انگلیوں میں پکڑ کر رونے لگا ۔خانان خان نے دیکھ لیا تو رونے کا سبب پوچھا ، فقیر نے کہا میرا ارمان ہے کہ اکادکا سکوںکے بجائے ایک لاکھ سکے کبھی ایک ساتھ دیکھوں۔ صرف دیکھوں اوربس
خان خانان نے فوراً ایک لاکھ اشرافیاں منگوائیں اورفقیر کے سامنے ڈھیر کرتے ہوئے کہا یہ لو ایک لاکھ اشرفیاں اوراچھی طرح دیکھ لو۔فقیر کافی دیر تک اشرفیوں کے ڈھیر کو دیکھتا رہا اورخوش ہوتا رہا ، پھر شکریہ ادا کرکے جانے لگا تو خان خانان نے کہا ، تمہاری ’’دیکھنے ‘‘ کی آرزو تو پوری ہوئی ۔ لیکن میری ’’صوابدید‘‘ یہ ہے کہ اٹھا لو یہ ساری اشرفیاں اب تمہاری ہوئیں، فقیر کی آرزو تو پوری ہوئی لیکن ہماری آرزو تشنہ ہے کاش بلکہ کاش کاش کہ کبھی رسائی بھی صوابدیدی ’’محبوبا‘‘ تک ہوجائے لیکن کوئی ’’ممندے زرگر‘‘ کہاں سے لائیں جو ہمیں وہاں تک پہنچائے ، درمیان میں ناقابل تسخیر بھول بھلیاں جو ہیں ۔
چلئیے یہ محبوبا اوربھول بھلیاں اورممندے زرگرکا قصہ بھی آپ کو سناتے ہیں ۔
یہ بنیادی طورپر ایک یونانی اسطورہ ہے جس میں ایک مینوثور نامی نیل انسان نیم بیل نامی مخلوق کا ذکرہے جسے کریٹ کے بادشاہ نے ایسی بھول بھلیاں میں رکھا کہ جس تک پہنچنا ممکن نہ تھا ۔اسی کہانی کو لوگوں نے پشاور پر منطبق کیا ہوا ہے یہاں کے اکثر لوگوں کاعقیدہ ہے کہ وہ بھول بھلیاںیامحبوبا کاقلعہ اب بھی پشاورمیں کہیں زیر زمین موجود ہے ، اس کہانی میں ایک بادشاہ نے اپنی بیٹی شہزادی محبوبا کو زریر زمین بھول بھلیاں میں چھپا کررکھا تھا جو کوئی امیدوار بن کر آتا تھا ، بادشاہ اسے ڈھونڈنے اورپانے کے لیے کہتا لیکن شرط یہ تھی کہ محبوبا کو ڈھونڈ نہیں پائے تو جان سے جاؤ گے ۔
یوں ایک اوربادشاہ کے چھ بیٹے اس مہم میں قتل ہوگئے جو محبوبا تک نہیں پہنچ پائے ان شہزادوں کاساتواں اورچھوٹا بھائی ’’جلات‘‘ بھی اس مہم پر نکلا ، لیکن وہ ہوشیار تھا ،سیدھا نقارہ بجانے کی بجائے اس ممندے نامی زرگرکاپتہ لگایا، جو شہزادی محبوبا کے زیور بناتا تھا اوراس کی ان بھول بھلیوں میں جاتا تھا ، جلات اس ممندے زرگر کا شاگرد بن گیا، جس کی ماں کا ان بھول بھلیوں میں آنا جانا تھا ، آگے کی کہانی سب کو معلوم ہے لیکن یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ ہم بھی اس صوابدیدی شہزادی تک پہنچنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک ہم کسی ممندے کو نہیں ڈھونڈ پائے ہیں ۔
جن جن ممندیوں کی وہاں تک رسائی ہے اوراگر وہ چاہیں تو دھاگہ بچھا کر ہمیں وہاں تک پہنچاسکتے ہیں لیکن پرابلم یہ ہے کہ ہم تو ان ممندیوں کو جانتے ہیں لیکن وہ ہمیں نہیں جانتے ۔ اپنا ایم این اے ایک ممندے ہوکر ہمیں اس شہزادی محبوبا تک پہنچاسکتا ہے اورہم اس کے نام ومقام سے واقف بھی ہیں لیکن اسے یہ تک معلوم نہیں کہ ہم بھی زیر سایہ رہتے ہیں اورایم پی اے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اب تو اس نے وزارت کے کھنگروبھی پہن لیے ہیں ، ایک امید تھی کہ شاید معاون خصوصی برائے اطلاعات کوہم اپنا ممندے بناسکیں کہ بہرحال وہ ہمارے قبیلے سے ہیں اورہم ابھی ان تک پہنچنے کاارادہ کررہے تھے کہ وہ بھی ترقی کر کے وزیر بن گئے یعنی ایک سیڑھی اوراوپر چڑھ کر ہماری پہنچ سے مزیددورہوگئے ۔
گویا ایک مرتبہ پھر ہم سیڑھی کی بجائے سانپ کے خانے میں پہنچ گئے ۔ گویا صواب دیدی کی بجائے ثواب چچی کے حوالے ۔ ہائے صواب ’’دیدی‘‘ کیا ۔۔۔’’دیدی‘‘ ہے
کوئی جھنکار ہے نغمہ ہے صدا ہے کیا ہے
تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ صبا ہے کیا ہے ؟