چولستان کی آواز
جنوبی پنجاب میں چولستان کا صحرا ہزار سال کی تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، یہ صحرا بہاولپور شہر سے 30 میل دور سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا ایک سرا بھارت کی ریاست راجستھان سے ملتا ہے اور پھر یہ مغرب کی طرف گریٹر تھر ریگستان سے جا ملتا ہے، اس ریگستان میں قدیم قبائل پائے جاتے ہیں۔ قدیم ڈراور قلعہ بھی اسی ریگستان میں ہے۔ چولستان کی آبادی 2 لاکھ 30 ہزار سے 2 لاکھ 70 ہزار کے قریب ہے۔ اس ریگستان میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی آباد ہیں۔
آبادی کا بیشتر حصہ غلہ بانی اور کھیتی باڑی سے منسلک ہے مگر بارش نہ ہونے کی بناء پر اس ریگستان میں قحط کی صورتحال رہتی ہے۔ چولستان کا رقبہ 25 ہزار کلومیٹر سے 26 ہزار کلومیٹر تک محیط ہے مگر اتنے بڑے رقبہ میں ہر طرف بھوک نظر آتی ہے۔ اس ریگستان میں آبادی کا 42.5 فیصد حصہ خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ چولستان کے دیہی علاقوں میں 95 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ چولستان میں خواندگی کا تناسب 40 فیصد کے قریب ہے۔ مردوں میں خواندگی کا تناسب 44 فیصد اور خواتین میں یہ تناسب 24 فیصد کے قریب ہے، یوں چولستان پنجاب کا سب سے پسماندہ علاقہ ہے۔
انسانی حقوق کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم انسانی حقوق کمیشن HRCP اپنے قیام کے بعد سے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے حقوق کی آگاہی کی مہمیں منظم کرتی آئی ہے۔ ایچ آر سی پی نے اپنی روایت پر عمل کرتے ہوئے ملتان سے ایچ آر سی پی کی کونسل رکن لبنیٰ ندیم ایڈووکیٹ اور ریجنل کو آرڈینٹر فیصل تنگوانی پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو چولستان کونسل کی دعوت پر چولستان بھیجا۔ اس کمیٹی نے چولستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کیں۔
اس کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چولستان میں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کئی صدیوں سے چولستان میں آباد ہیں اس بناء پر چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قانون کے تحت زمینوں کے مالکانہ حقوق دیے جائیں۔ مقامی افراد کو یہ خدشہ ہے کہ پہلے حکومت ان سے بنجر زمین آباد کرائے گی اور پھر جب یہ زمین قابل کاشت ہوجائے گی تو کوئی نئی حکومت انھیں زمینوں سے محروم کردے گی اور خدشہ ہے کہ زمینیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے حوالے کردی جائیں گی۔ ان خدشات کے خاتمے اور عوامی اعتماد پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بے زمین کسانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ زمین الاٹ کی جائیں۔ لبنیٰ ندیم ایڈووکیٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ چولستان میں اب بھی آبادی کی اکثریت چرواہوں کا کام کرتی ہے۔
ان غریب لوگوں کو زمین کاشت کرنے کے لیے دینے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں زمینوں کا حق ملکیت منتقل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ایچ آر سی پی نے متحدہ چولستان کونسل کے جامع منشور کے مطالبات کی مکمل حمایت کی ہے۔ ایچ آر سی پی کے لاہور کے مرکزی دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ چولستان کونسل کا یہ مطالبہ درست ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں چولستان کو نظرانداز کرنے کی پالیسی کو ترک کریں اور چولستان کی پسماندگی کے خاتمہ اور ترقی کے لیے عوام کے حقوق کے تابع جامع ترقیاتی منصوبہ تیار کیا جائے۔ اس منصوبہ میں زرعی زمینوں کے مالکان حقوق، پانی کی مسلسل فراہمی کے منصوبوں، مقامی برادریوں کے تحفظ اور بہتر ہیلتھ سروس کی فراہمی کو شامل کیا جائے۔
ایچ آر سی پی نے اس اعلامیہ میں کہا ہے کہ چولستان کی مقامی تنظیموں نے جو مطالبات کیے ہیں ایچ آر سی پی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ان مطالبات کو درست قرار دیتی ہے۔ ان تنظیموں نے چولستان میں پانی کی عدم فراہمی کے خاتمہ، صحت کی سہولتوں کی فراہمی اور اسکولوں و کالجوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے وفاق اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ ان بنیادی منصوبوں کی فراہمی کے لیے مقامی برادریوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اقلیتوں کے حقوق اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے تحفظ کے لیے خاطرخواہ اقدامات کیے جائیں۔ ایچ آر سی پی نے مقامی تنظیموں کے اس مطالبہ کو درست قرار دیا ہے کہ چولستان کا پرانا نام ’’روہی‘‘ بحال کیا جائے اور چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو مکمل خودمختاری دی جائے ، نیز اس اتھارٹی کے سربراہ کو خصوصی اختیارات ملنے چاہئیں اور مقامی اداروں کے 50 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کے لیے مختص کی جائیں۔
اسی طرح چولستان میں قائم اسپتالوں کا معیار بلند کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اسپتالوں میں قابل ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا تقرر کیا جائے۔ اسی طرح ایمرجنسی سروس کو پورے چولستان تک پھیلایا جائے۔ مقامی تنظیموں کی کونسل نے ایک اور اہم مطالبہ کیا ہے کہ پورے چولستان میں پانی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے اور آبپاشی کے اداروں سے منظورشدہ 250 کیوسک پانی ہر صورت میں چولستان کو ملنا چاہیے۔ پانی کی یہ مقدار انسانوں کے علاوہ غلہ پانی، زراعت اور جنگی مخلوقات کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے ۔ کونسل نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ 1978ء سے متاثرہ افراد کے حقوق بحال کیے جائیں اور زمینوں کے الاٹمنٹ کی فیس 5000 روپے سے کم کر کے پرانی فیس 400 روپے فی یونٹ کے حساب سے بحال کی جائے اور 2019ء کی پالیسی کے تحت زرعی زمینیں الاٹ کی جائیں۔
اسی طرح چولستان میں کسی صورت کارپوریٹ فارمنگ اور زمینوں پر قبضہ پر پابندی عائد ہونی چاہیے اور چراگاہوں کو تحفظ ملنا چاہیے۔ اسی طرح حکومت چولستان میں آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے منصوبے شروع کرے۔ چولستان کے ریگستان کی چراگاہوں کے نام پر زمین غیر ملکی شہریوں کو الاٹ نہیں ہونی چاہیے۔ مقامی تنظیموں کی کونسل نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ چولستان کو ڈسٹرکٹ کا درجہ دینا چاہیے۔ اسی طرح چولستان کے شہریوں کی پنجاب اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ مقامی تنظیموں کی کونسل کا یہ متفقہ مطالبہ ہے کہ چولستان میں طلبا اور طالبات کے لیے علیحدہ کالج قائم ہونے چاہئیں۔ اسی طرح کونسل کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ حکومت چولستان میں گندے پانی کی نکاسی اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانہ پر اقدامات اٹھائے ۔اسی طرح بیواؤں اور ان کے بچوں کو زمینوں کی الاٹمنٹ میں پہلی ترجیح دی جائے۔
اسی طرح چولستان میں نادرا کے دفاتر کے علاوہ ریسکیو 1122 کے سینٹر بھی قائم ہونے چاہئیں۔ مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پرمٹ سسٹم ختم ہوجائے اور موبائل اور انٹرنیٹ کی سروس پورے چولستان میں بحال ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی پرانی سڑکوں کی مرمت اور نئی سڑکوں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت مداخلت کرے۔ کونسل کا ایک اور نیا مطالبہ یہ رہا ہے کہ چولستان میں 4نئے شہر آباد ہونے چاہئیں۔ چولستان پاکستان کا غریب ترین علاقہ ہے۔
کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ پنجاب کی بیوروکریسی ہمیشہ چھوٹے صوبوں کا استحصال کرتی ہے۔ اس استحصال کی صورتحال میں چولستان میں احساسِ محرومی تیزی سے پھیل رہا ہے۔انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ مطالبات چولستان کے عوام کی آواز ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کے مطالبات کو فوری طور پر منظور کرے تاکہ طالع آزما قوتوں کو منفی پروپیگنڈہ کرنے کا موقع نہ ملے اور چولستان ہمیشہ کی طرح ایک پرامن علاقہ رہے۔