کراچی؛ اغوا کے بعد قتل نوجوان آئی بی اے کا طالبعلم تھا، والد نے تفصیلات بتا دیں
گلستان جوہر سے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے رہائشی مغوی نوجوان کی لاش ملنے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، دوران تفتیش پولیس کو کئی اہم کلیو ملے ہیں جن پر باریک بینی سے تفتیش جاری ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بدھ کو گلستان جوہر تھانے کے علاقے گلستان جوہر بلاک 2 شادی قلعہ شادی ہال کے قریب جھاڑیوں سے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے رہائشی مغوی نوجوان 25 سالہ میر رضا علی کی لاش ملنے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ دوران تفتیش پولیس کو کئی اہم لیڈز ملی ہیں جن پر باریک بینی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
یہ پڑھیں: اغوا نوجوان کی لاش گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے مل گئی
مقتول نوجوان کے والد میر حسین علی نے ایکسپریس کو بتایا کہ ان کا بیٹا اٹھائیس جولائی کو رات چار بجے لاپتا ہوا تھا اور بدھ کو بیٹے کی لاش گلستان جوہر سے ملی، میر رضا ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور آئی بی اے سے بی بی اے کر رہا ہے، ان کا بیٹا گزشتہ پانچ سال سے اپنا ذاتی کاروبار کر رہا تھا، بیٹے کی بہادر آباد اور نارتھ ناظم آباد میں وافرلکس کے نام سے ڈزٹ شاپ تھیں۔
مقتول نوجوان کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹا بہت محنت کرکے نیچے سے اوپر آیا تھا، بیٹے میں کوئی عیب نہیں تھا نہ ہی اس کی کسی جماعت سے سیاسی وابستگی تھی، بیٹے کا قتل کاروباری حسد بھی ہوسکتا ہے، بیٹا جتنا مشہور ہو رہا تھا اس کا حسد بھی ہوسکتا ہے لیکن وہ کسی پر کوئی شک نہیں کر رہے۔
مقتول نوجوان کے والد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور بیٹے کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے سزا دی جائے۔
دریں اثنا اکیس سال کی عمر میں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے والا میر رضا علی اے آئی کی مدد سے اپنے کاروبار میں جدت لارہا تھا، دوسری جانب سوشل میڈیا پر جسٹس فار میر رضا علی کا ٹرینڈ بن گیا۔