ڈکٹیٹر زبان اور مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت معلومات میں انسان سے آگے نکل سکتی ہے مگر حکمت میں نہیں

ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں زبان کے ساتھ مشینیں ہماری سوچ کو تشکیل دے رہی ہیں۔ ہم جو الفاظ استعمال کرتے ہیں، وہی آہستہ آہستہ ہماری دنیا کی حدود متعین کرنے لگتے ہیں۔ ہم اکثر کہتے ہیں میں جانتا ہوں یا انگریزی میں I know ۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا جملہ ہے لیکن اس کے اندر ایک بنیادی فکری مسئلہ پوشیدہ ہے، کیا ہر ’جاننا‘ ایک جیسا ہوتا ہے؟

فرض کیجیے آپ جانتے ہیں کہ لاہور کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ بادشاہی مسجد مغلیہ دور کی عظیم یادگار ہے۔ یہ معلومات درست ہیں، مگر کیا یہی لاہور کو جاننا ہے؟ دوسری طرف ایک شخص ہے جو پرانے لاہور کی گلیوں میں بھٹکا ہے، گرمی میں وہاں پسینہ بہایا ہے، کسی چائے والے کے ساتھ بیٹھ کر اس نے گھنٹوں گفتگو کی ہے اور شام کے سائے میں بادشاہی مسجد کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے شہر کی روح کو محسوس کیا ہے۔ اس کا ’جاننا‘ پہلی قسم کے جاننے سے یقیناً بہت مختلف ہے۔

بدقسمتی سے انگریزی زبان ان دونوں کے لیے صرف ایک لفظ Know استعمال کرتی ہے، جبکہ عربی، اردو، فرانسیسی اور جرمن جیسی زبانیں اس فرق کو بہتر انداز میں محفوظ رکھتی ہیں۔ عربی میں علم اور معرفت دو الگ حقیقتیں ہیں۔ علم معلومات کا نام ہے جبکہ معرفت وہ کیفیت ہے جو تجربے، احساس اور زندگی کے مشاہدے سے انسان کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے۔

یہ فرق آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت صرف پہلی دنیا میں رہتی ہے۔ وہ لاکھوں کتابیں پڑھ سکتی ہے، اربوں الفاظ کا تجزیہ کر سکتی ہے اور چند لمحوں میں بہترین جواب لکھ سکتی ہے، مگر وہ کبھی کسی ماں کی جدائی کا درد محسوس نہیں کرسکتی، کسی مزدور کی تھکن نہیں جان سکتی، کسی بچے کی معصوم خوشی کا تجربہ نہیں کرسکتی۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت علم پیدا کر سکتی ہے مگر معرفت نہیں۔ اور جہاں معرفت موجود نہ ہو، وہاں حکمت بھی ادھوری رہتی ہے۔

قدیم مفکرین نے صدیوں پہلے اس حقیقت کو سمجھ لیا تھا۔ ان کے نزدیک انسانی ترقی کے تین درجے تھے۔ علم، جو سکھایا جاسکتا ہے۔ معرفت، جو صرف محسوس کی جاسکتی ہے۔ حکمت، جو علم اور معرفت کے امتزاج سے پیدا ہوتی ہے اور انسان کے فیصلوں میں جھلکتی ہے۔ جدید دنیا نے پہلے درجے میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کرلی ہے مگر دوسرے اور تیسرے درجے کو تیزی سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔

معلومات کی فراوانی نے ہمیں یہ گمان دے دیا ہے کہ معلومات ہی شعور ہے، حالانکہ معلومات صرف نقشہ ہے، منزل نہیں۔ اصل خطرہ یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان سے زیادہ ذہین ہوجائے گی۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ انسان خود کو صرف معلومات تک محدود کرلے گا۔ اپنے تجربے، احساس، خاموشی اور باطنی بصیرت کو غیر ضروری سمجھنے لگے گا۔ اس دن مشینیں ہم پر اس لیے حکمران نہیں ہوں گی کہ وہ طاقتور ہیں بلکہ اس لیے کہ ہم نے اپنی فکری آزادی انہیں سونپ دی ہوگی۔ شاید اسی لیے آج ہمیں موقع پر خود سے دو سوال ضرور کرنے ہیں کہ کیا میں صرف معلومات جمع کر رہا ہوں، یا حقیقت کو محسوس بھی کررہا ہوں؟ اور کیا میرے فیصلے میری اپنی بصیرت سے جنم لیتے ہیں، یا کسی زبان، کسی الگورتھم اور کسی اسکرین نے نتیجے میں۔ یعنی زبان و مشین نے پہلے ہی میرے لیے طے کرلیا ہے؟

انسان کی اصل برتری رفتار میں نہیں، شعور میں ہے۔ مشینیں جواب دے سکتی ہیں مگر زندگی نہیں بسر کرسکتیں۔ وہ معلومات ترتیب دے سکتی ہیں مگر معنی پیدا نہیں کرسکتیں۔ وہ راستہ دکھا سکتی ہیں مگر منزل کا ذوق نہیں دے سکتیں۔ آنے والے زمانے میں سب سے قیمتی انسان وہ نہیں ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ معلومات ہوں گی بلکہ وہ ہوگا جو معلومات کو تجربے، اخلاق، احساس اور حکمت میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

شاید اسی حقیقت کو فلاسفر نے ان الفاظ میں سمو دیا تھا، حکمت کا آغاز اپنی لاعلمی کو جاننے سے ہوتا ہے۔ جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ معلومات اور حکمت ایک چیز نہیں، اس وقت اس کےلیے سیکھنے، سمجھنے اور بدلنے کے دروازے کھلتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت معلومات میں انسان سے آگے نکل سکتی ہے مگر حکمت میں نہیں کیونکہ حکمت صرف دماغ سے نہیں، ایک زندہ انسان کی پوری زندگی، اس کے تجربات، اس کے اخلاق، اس کے دکھ، اس کی محبت اور اس کی ذمے داری سے جنم لیتی ہے۔ یقیناً مستقبل کا سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کیا جانتی ہے؟ بلکہ یہ ہوگا کہ انسان اب بھی کیا محسوس کرتا ہے، کیا سمجھتا ہے اور کس بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story