جنگ کا پھیلتا ہوا دائرہ، ناگزیر سفارت کاری

جنگ کا ایک اور پہلو جدید عسکری ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال ہے

مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست کے اس مرکز میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں ہر نئی عسکری کارروائی، ہر تازہ دھمکی اور ہر بڑھتی ہوئی کشیدگی پوری دنیا کے امن اور استحکام کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

دراصل تنازع اب صرف دو ریاستوں یا دو متحارب قوتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی لپیٹ میں عراق، مصر، خلیجی ممالک، بحیرہ احمر اور خطے کی اہم بحری گزرگاہیں بھی آتی دکھائی دے رہی ہیں، اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور سیاسی استحکام پر مرتب ہوں گے، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں جذبات کے بجائے تدبر، طاقت کے بجائے سفارت کاری اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکا ہے۔

 جنگ کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی تنازع کی اصل ہولناکی صرف اس کے آغاز میں نہیں بلکہ اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کا جغرافیہ مسلسل وسیع ہونے لگتا ہے۔ محدود فوجی کارروائیاں جب متعدد ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگیں تو پھر جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ بندرگاہوں، فضائی راستوں، تجارتی شاہراہوں، مالیاتی منڈیوں اور سفارتی تعلقات کو بھی متاثر کرنے لگتی ہے۔ یہی کیفیت اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کی جا رہی ہے، جہاں ہر نیا واقعہ ایک نئے ردعمل کو جنم دے رہا ہے اور ہر ردعمل مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

 عراق کے اندر فوجی کارروائیوں، بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو لاحق خطرات، مصر کی بندرگاہ دمیاطہ کے قریب پیدا ہونے والی صورتحال، ہرمز میں آئل ٹینکروں سے متعلق دعوؤں، اور مختلف ممالک کے ایک دوسرے پر عائد الزامات کا ذکر موجود ہے۔ ان تمام واقعات کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ یہ سب ایک وسیع جغرافیائی اور سیاسی تناظر کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک محاذ پر پیدا ہونے والی کشیدگی دوسرے محاذ پر بھی غیر متوقع اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

 دنیا کی معیشت اس وقت پہلے ہی متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ بلند افراطِ زر، سپلائی چین میں رکاوٹیں، قرضوں کا بوجھ، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عالمی تجارت میں سست روی جیسے عوامل نے بیشتر ممالک کی اقتصادی حالت کو کمزور کر رکھا ہے۔ ایسے میں اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ مزید پھیلتی ہے تو سب سے پہلے توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہوگی۔

تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات خوراک، صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، تعمیرات اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر شے پر پڑتے ہیں۔ اس کا نتیجہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا ہے، جس کی قیمت بالآخر عام شہری ادا کرتے ہیں۔

بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے سمندری راستے عالمی تجارت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان انھی راستوں سے گزرتا ہے، اگر ان بحری گزرگاہوں میں عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے تو شپنگ کمپنیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں، انشورنس کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، سامان کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے اور عالمی منڈیوں میں قیمتیں مزید بلند ہونے لگتی ہیں۔ اس کا اثر صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک پر نہیں بلکہ برآمدی معیشتوں پر بھی پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا استحکام عالمی اقتصادی استحکام سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

 جنگ کا ایک اور پہلو جدید عسکری ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی، بیلسٹک میزائل، فضائی دفاعی نظام اور جدید اسلحہ کے ذخائر کا ذکر اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید جنگیں اب روایتی میدانوں تک محدود نہیں رہیں۔ کم لاگت والے ڈرون، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، الیکٹرانک جنگ اور سائبر صلاحیتیں مستقبل کی جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہیں، تاہم اس عسکری ترقی کے باوجود ایک حقیقت تبدیل نہیں ہوئی کہ ہر جنگ اپنے پیچھے انسانی جانوں کا نقصان، معاشی تباہی، نفسیاتی مسائل اور سیاسی عدم استحکام چھوڑ جاتی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مختلف ریاستیں براہِ راست یا بالواسطہ ایک ہی تنازع کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ایسے حالات میں کسی ایک محدود کارروائی یا کسی غلط اندازے کے نتیجے میں بحران تیزی سے وسیع ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات میں غلط فہمیاں اکثر بڑے تصادم کو جنم دیتی ہیں، اگر رابطے کے ذرائع کمزور ہوں، سفارتی چینل غیر فعال ہوں اور فیصلے صرف عسکری نقطہ نظر سے کیے جائیں تو تصادم کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی ذمے داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ امریکا، چین، روس، یورپی ممالک اور خطے کی بااثر ریاستوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ عالمی معیشت پہلے ہی متعدد دباؤ کا شکار ہے اور ایک نئی علاقائی جنگ اس دباؤ کو عالمی بحران میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طاقت کے توازن کی سیاست سے آگے بڑھ کر اجتماعی سلامتی کے اصول کو ترجیح دی جائے۔

چین اور روس سمیت دیگر بااثر ممالک کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے کہ آیا وہ اپنے سفارتی اثرورسوخ کو کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا عالمی سیاست محض طاقت کے توازن کی ایک نئی کشمکش میں تبدیل ہو جاتی ہے،اگر بڑی طاقتیں اپنے اپنے اتحادیوں کی غیر مشروط حمایت تک محدود رہیں گی تو امن کی کوششیں کمزور پڑ جائیں گی۔ اس کے برعکس اگر وہ مذاکرات کے لیے مشترکہ سفارتی پلیٹ فارم تشکیل دیں تو بحران پر قابو پانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کا کردار بھی اس مرحلے پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اگرچہ عالمی ادارے اپنی ساختی اور سیاسی محدودیتوں کے باعث ہر تنازع کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتے، تاہم وہ مکالمے، جنگ بندی، انسانی امداد اور اعتماد سازی کے لیے ایک موثر فریم ورک فراہم کر سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ سفارتی سرگرمیوں کو محض رسمی بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کی جائے۔

پاکستان نے حالیہ بیانات میں خطے میں امن، مذاکرات اور ثالثی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے ایران، خلیجی ممالک اور دیگر مسلم ریاستوں کے ساتھ تاریخی تعلقات اسے یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی کم کرنے کی ہر تعمیری کوشش کی حمایت کرے۔ پاکستان کا بنیادی مفاد بھی اسی میں ہے کہ خطے میں استحکام قائم رہے، کیونکہ کسی بھی بڑے علاقائی تصادم کے معاشی اور سفارتی اثرات پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

 امریکا اور ایران کے تعلقات میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں، لیکن دونوں ممالک کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر کبھی بند نہیں ہوئے۔ براہِ راست یا بالواسطہ رابطے ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے ہیں۔ یہی حقیقت مستقبل کے لیے بھی امید پیدا کرتی ہے، اگر دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر سفارتی ذرائع کو فعال کرتے ہیں تو نہ صرف موجودہ بحران کو محدود کیا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں اعتماد سازی کے ایک نئے عمل کا آغاز بھی ممکن ہے۔یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ جدید دنیا میں کوئی بھی جنگ صرف فوجی مسئلہ نہیں رہتی۔ اس کے اثرات خوراک کی قیمتوں، توانائی کی دستیابی، عالمی مالیاتی منڈیوں، سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی تقریباً ہر بڑی معیشت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس خطے میں پیدا ہونے والی بے یقینی کا اثر دنیا کے ہر براعظم تک پہنچتا ہے۔

انسانی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہر جنگ کے بعد سب سے زیادہ نقصان عام شہری اٹھاتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ فریق تحمل، تدبر اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کریں۔ اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، ان کا حل جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جانا چاہیے۔ عالمی برادری سمیت چین اور روس کو چاہیے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کرے، رابطوں کے تمام دروازے کھلے رکھے اور ایسے ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کرے جس میں باعزت مذاکرات ممکن ہو سکیں۔

دنیا کو اس وقت مزید محاذ آرائی، مزید عسکری اتحادوں اور مزید تباہی کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے سیاسی قائدین، سفارت کاروں اور اداروں کی ضرورت ہے جو اختلافات کو مکالمے میں تبدیل کر سکیں، اگر امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں، علاقائی ممالک اعتماد سازی کے اقدامات اختیار کرتے ہیں اور عالمی طاقتیں اپنے اثرورسوخ کو جنگ بڑھانے کے بجائے امن قائم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگیں ختم ضرور ہوتی ہیں، مگر امن ہمیشہ مذاکرات ہی سے جنم لیتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جسے اختیار کرنا آج پوری انسانیت کے مفاد میں ہے۔

Load Next Story