لائبریری کا زوال؟
ایک زمانہ وہ بھی تھا جب گلی محلوں میں ایک نہ ایک لائبریری ہوا کرتی تھی جہاں سے مطالعے کے شوقین اپنی من پسند کتابیں نہایت سستے کرائے پر لے جاتے تھے۔ کبھی چار آنے روزانہ پر کبھی آٹھ آنے پر۔ اس وقت ایک روپے میں چونسٹھ پیسے اور سولہ آنے ہوا کرتے تھے۔ میرے والد مختلف لائبریریوں سے کتابیں لایا کرتے تھے، کچھ کتابیں میری والدہ کے لیے کچھ میرے لیے۔ بعض لوگ بتاتے ہیں کہ ہر محلے میں ایک آنہ لائبریری ہوا کرتی، کراچی کے برنس روڈ پر فریسکو چوک کے قریب ایک سرتاج لائبریری ہوا کرتی تھی۔
سرتاج صاحب دلی کے رہنے والے تھے، دلی میں بھی ان کی لائبریری تھی۔ بٹوارے کے بعد وہ صرف اپنی کتابیں بچا کر لانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ والد صاحب ایک بار مجھے بھی وہاں لے گئے، ان کے پاس لاتعداد کتابیں تھیں۔ میرے والد لائبریری کی کتابوں پر پیلے براؤن کاغذ کا کور چڑھاتے تھے تاکہ کتاب کا سرورق خراب نہ ہو۔ یہ میری بھی عادت بن گئی، لائبریری کی کتابوں پر میں بھی کور چڑھا کر پڑھتی تھی، یہ عادت آج تک قائم ہے۔
1980 کی دہائی تک لائبریریاں قائم تھیں، ویسے تو کراچی میں بہت سی لائبریریاں تھیں لیکن بطور خاص انجمن ترقی اردو کی لائبریری اور مرزا ظفر الحسن کی کوششوں سے قائم کی گئی ’’غالب لائبریری‘‘ آج بھی قائم ہے۔ انجمن ترقی اردو کا کتب خانہ پہلے چاند بی بی روڈ پر کتب خانہ عام تھا اور اوپر کی منزل میں کتب خانہ خاص۔ کتب خانہ عام میں کتابیں گھر لے جانے کی اجازت تھی، لیکن کتب خانہ خاص سے کتابیں ایشو نہیں ہوتی تھیں۔ انجمن کا کتب خانہ اب یونیورسٹی روڈ پر بہت دور چلا گیا ہے، اس لیے اس سے استفادہ اب ممکن نہیں رہا۔ غالب لائبریری شہر کے بیچ میں ہے، لیکن وہ صرف شام کو کھلتی ہے۔
اس لیے وہاں جانے کا اتفاق اب بہت کم ہوتا ہے۔ انجمن ترقی اردو کے پاس بڑی نایاب کتابیں ہیں، لائبریری سارا دن کھلی رہتی ہے۔ اس کا وقت صبح نو بجے سے پانچ بجے تک ہے۔ 1968 میں جب میں کراچی کالج فار ویمن کی طالبہ تھی، اس وقت میں تقریباً روز ہی لائبریری جاتی تھی۔ وہاں ایک صاحب تھے محفوظ صاحب، جو کتب خانے کے انچارج تھے، بڑی محبت کرنے والے انسان تھے۔
ایک اور صاحب بھی تھے جن کا نام حاجی نعیم ہے، وہ کچھ ماہ پہلے انجمن ترقی اردو سے وابستہ تھے۔ میں جو بھی کتاب لے کر جاتی تھی اس پر کور چڑھا کر اور نام لکھ کر واپس کرتی تھی۔ محفوظ صاحب مجھے ہر کتاب گھر لے جانے کے لیے دیتے تھے۔ ایک بار غالب پر ایک کتاب ایشو کروا کر لے گئی، مجھے غالب کے خطوط پر ایک اسائنمنٹ بنانا تھا۔ جب کھولی تو پورے پندرہ صفحے غائب تھے، یہی صفحات مجھے درکار تھے۔ دوسرے دن میں وہ کتاب لے جا کر اردو کالج میں قائم انجمن ترقی اردو کے دفتر میں محفوظ صاحب کے سامنے رکھی اور مسئلہ بتایا۔ انھوں نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ کس کی حرکت ہے سو انھوں نے ان صاحب کو بلایا جو مجھ سے پہلے کتاب ایشو کروا کے لے گئے تھے۔
1990 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں پاکستان میں انٹرنیٹ آ گیا اور یہ غضب ہوا کہ آہستہ آہستہ کتب بینی کا زوال ہوا۔ آہستہ آہستہ لائبریریاں ختم ہونے لگیں۔ پہلے محلوں میں لائبریریاں قائم تھیں لیکن اب جو صورت حال ہے وہ بقول گلزار:
کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں
لیکن اب بھی چند سر پھروں کا تعلق کتابوں اور لائبریریوں سے ہے۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا چسکا بچپن ہی سے تھا، میری ایک کالج فیلو سمیعہ نے مجھے ایک دن بتایا کہ ہمارے گھر سے قریب ایک جعفر لائبریری ہے۔ ہمارا گھر پی ای سی ایچ سوسائٹی میں ہل پارک کے نزدیک تھا۔ مجھے لائبریری دیکھنے کا شوق چرایا ، کیونکہ اب والد صاحب پندرہ دن میں ایک مرتبہ کسی نہ کسی لائبریری جاتے تھے جہاں سے وہ اپنے اور میرے لیے کتابیں لاتے تھے، لیکن جعفر لائبریری چونکہ گھر کے قریب تھی، جعفر لائبریری سوسائٹی قبرستان کے مقابل پروین منزل پر تھی۔ جب میں اپنی دوست کے ساتھ جعفر لائبریری پہنچی تو وہاں ایک بہت بڑا کمرہ تھا، ایک صاحب کرسی پر بیٹھے تھے، سر گنجا تھا، سفید کرتا اور پاجامہ پہنے تھے۔ عمر ہوگی یہی کوئی چالیس سال۔ ان کے دونوں ہاتھ اندر کی طرف مڑے ہوئے تھے۔
جعفر صاحب کو کتابیں پڑھنے کا بڑا شوق تھا، چونکہ ان کے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اندر کی طرف مڑی ہوئی تھیں۔ اس لیے وہ اپنے ہاتھ سے کھانا بھی نہیں کھا سکتے تھے۔ انھیں ایک شخص اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا تھا۔ مزاج کے ذرا ٹیڑھے تھے۔ میں نے والد صاحب کو بھی جعفر لائبریری کے بارے میں بتایا، وہ بھی وہاں سے کتابیں ایشو کروانے لگے۔ جعفر لائبریری کا کرایہ آٹھ آنے روزانہ تھا۔ میرے والد کے پاس کافی کتابیں تھیں، انھیں جعفر پر بہت رحم آیا اور انھوں نے اپنی بیشتر کتابیں جعفر لائبریری کو عطیہ کر دیں۔
کراچی میں اب بھی لائبریریاں ہیں لیکن ان تک پہنچنا ذرا مشکل ہے۔ سب سے پہلے میں ’’بیدل لائبریری‘‘ کا ذکر کروں گی جس کے کرتا دھرتا زبیر صاحب ہیں۔ اس علمی کتب خانے کی بنیاد ڈاکٹر محمد ظفر الحسن عظیم آبادی نے رکھی تھی۔ 1974 میں اس لائبریری کا آغاز محض ایک کمرے اور تین سو کتابوں سے ہوا تھا۔ یہ لائبریری شرف آباد میں قائم ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ پچاس ہزار سے زائد کتب اور رسائل موجود ہیں۔ یہاں اخباروں کا ریکارڈ 1978 سے لے کر اب تک کے بڑے اخبارات جیسے ایکسپریس، جنگ، ڈان اور نوائے وقت کی فائلیں موجود ہیں۔ یہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے حضرات و خواتین آتے ہیں۔ یہاں کا عملہ خاص طور سے زبیر صاحب بڑا تعاون کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چند اور بھی لائبریریاں ہیں جن سے طلبا و طالبات استفادہ کرتے ہیں۔ جیسے کراچی یونیورسٹی کی لائبریری ڈاکٹر جمیل جالبی لائبریری جو کراچی یونیورسٹی ہی میں قائم ہے۔ ان کے علاوہ لیاقت نیشنل لائبریری اسٹیڈیم روڈ پر قائم ہے۔ اس کے علاوہ فریئر ہال لائبریری۔ بیدل لائبریری KMC کے زیر انتظام چلتی ہے اس کے علاوہ عباسی کتب خانہ کھارادر میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ ایک بہت اہم لائبریری نارتھ کراچی میں قائم ہے۔
یہ مشفق خواجہ صاحب کا کتب خانہ ہے جو پہلے ناظم آباد میں ان کے گھر میں قائم تھا۔ مشفق خواجہ صاحب نے یہ وصیت اپنی زندگی میں کر دی تھی کہ یہ کتب خانہ کراچی سے باہر نہیں جائے گا۔ ان کے علاوہ نارتھ ناظم آباد میں بھی ایک لائبریری ہے جہاں بہت کتابیں ہیں۔ میں اس لائبریری کا نام بھول گئی ہوں۔ اس لائبریری میں کتابوں کی الماریوں میں رکھی کتابوں پر مٹی جمی رہتی ہے۔ صفائی کا انتظام مناسب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ فیڈرل بی ایریا بلاک 13 میں بھی ایک بہت اچھی لائبریری ہے۔ یہاں خواتین کے لیے الگ پورشن بھی ہے۔ اس لائبریری کا نام ہے ناصر عارف حسین میموریل لائبریری۔ یہ ریسرچ سینٹر بھی ہے۔ تین منزلہ عمارت میں یہ لائبریری قائم ہے۔ یہ لائبریریاں علم کی پیاس بجھانے کے کام آتی ہیں۔ لائبریریوں کا زوال ایک بڑا سانحہ ہے، اب نہ لوگ لائبریری جاتے ہیں نہ اخبار پڑھتے ہیں۔ ماحول بہت خراب ہو چکا ہے۔
پہلے طلبا و طالبات کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی کتاب ضرور ہوتی تھی، کبھی کسی شاعر کا مجموعہ یا کوئی تنقیدی کتاب۔ لیکن اب مہنگا موبائل شناخت کا ذریعہ ہے۔ لوگ کتابوں اور لائبریریوں سے دور ہو گئے ہیں۔ لائبریریوں کا بہت بڑا احسان ہے۔ لائبریریوں کے ذریعے انسان اپنی تہذیب اور معاشرے سے جڑا رہتا ہے۔ لائبریریاں علم کا خزانہ ہوتی ہیں، انسان کو اپنے ذوق کے مطابق کتابیں پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔ یہ لائبریریاں علم کا خزانہ ہوتی ہیں۔
لائبریریاں روشنی کا مینار اور علم کا سمندر ہیں۔ لائبریری کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ معاشرے کے ہر طبقے کے لیے علم کے دروازے کھولتی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کی نوجوان نسل کے مطالعے کے شوق میں چھپا ہوتا ہے۔ لائبریری مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہاں کا پرسکون ماحول انسان کو ذہنی یکسوئی فراہم کرتا ہے جس سے ناصرف معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ غور و فکر کے نئے دریچے بھی کھلتے ہیں۔