کامن ویلتھ گیمز نے یوگنڈا کے باکسر کے نسل پرستی کے الزامات مسترد کر دیے

یوگنڈا کے باکسر نے ریفری پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ایک سیاہ فام افریقی ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا

کامن ویلتھ گیمزکے صدر ڈونلڈ روکیرے نے یوگنڈا کے باکسر عزیز عبدل کی جانب سے نسل پرستی کے لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ روکیرے نے کہا ہے کہ مقابلوں میں تمام کھلاڑیوں کے ساتھ بلاامتیاز اور منصفانہ سلوک کیا جاتا ہے۔

گلاسگو میں جاری کامن ویلتھ گیمز کے سپر ہیوی ویٹ مقابلے میں انگلینڈ کے ڈامر تھامس کے خلاف عزیز عبدل کو تیسرے راؤنڈ میں ہیڈ بٹ کرنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔

فیصلے کے بعد یوگنڈا کے باکسر نے ریفری پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک سیاہ فام افریقی ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم یوگنڈا سے ہی تعلق رکھنے والے ڈونلڈ روکیرے نے کہا کہ یہ رنگ میں ہونے والا تکنیکی فیصلہ تھا اور غالب امکان ہے کہ باکسر نے جذبات میں آکر ایسے بیانات دیے۔

ان کے مطابق ورلڈ باکسنگ کے ساتھ بہترین تعاون موجود ہے اور تمام ایتھلیٹس کو یکساں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ورلڈ باکسنگ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ افریقی ممالک اب تک گیمز میں باکسنگ کے کم از کم آٹھ تمغے یقینی بنا چکے ہیں۔

عزیز عبدل اس سے قبل بھی اس وجہ سے خبروں میں رہے تھے کہ وہ یوگنڈا کے سابق حکمران عیدی امین کے پوتے ہیں۔

Load Next Story