یکم اگست، ورلڈ وائیڈ ویب کا عالمی دن

ورلڈ وائیڈ ویب ڈے، وہ انقلاب جس نے دنیا کو ایک کلک کی دوری پر لاکھڑا کیا

ماضی میں ہمیں پی ٹی وی پر طارق عزیز کے ’’نیلام گھر‘‘ اور اسلم آزاد کے سندھی پروگرام ’’پرکھ‘‘کا شدت سے انتظار رہتا تھا کہ کچھ معلومات تک ہماری رسائی ہو اور اسی طرح ریڈیو پر محمد نقی کے پروگرام ’’ذہانت شرط ہے‘‘بھی۔ کبھی معلومات تک رسائی کےلیے لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی تھی یا پھر اردو بازار یا صدر کے اقبال بک ڈپو سے معلومات عامہ کی کتابیں خریدتے تھے۔ معلومات کے حصول کےلیے ہمارے پاس صرف پرنٹ میڈیا ہی تھا۔

پھر کمپیوٹر کا دور آیا اور ’’انٹارکا‘‘اور ’’برٹانیکا‘‘انسائیکلوپیڈیا CD پر دستیاب ہوئے۔ یا کبھی معلومات کےلیے کسی دوسرے ملک میں موجود رشتے دار سے بات کرنے کے لیے کئی منٹ کی مہنگی بین الاقوامی کال بک کرانا پڑتی تھی، جبکہ سرکاری دستاویزات، بینکنگ، خریداری اور تعلیم جیسے معمول کے کام بھی وقت طلب ہوتے تھے۔

اگر دوسری جانب ہم تصور کریں کہ آج یکم اگست 1970 ہے اور جاپان میں ایک سائنس دان نے ایک اہم تحقیق مکمل کی ہے، جرمنی میں ایک انجینئر اسی موضوع پر تجربات کر رہا ہے، جبکہ امریکا کی ایک یونیورسٹی میں اسی مسئلے پر الگ سے تحقیق جاری ہے۔ تینوں کے پاس قیمتی معلومات موجود ہیں، مگر ایک دوسرے کے کام سے تقریباً بے خبر ہیں۔ اگر انہیں کسی تحقیقی مقالے کی ضرورت ہو تو وہ ڈاک، فیکس یا مہنگی بین الاقوامی فون کالز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ دوسرے ملک پہنچنے میں کئی دن بلکہ بعض اوقات کئی ہفتے لگ جاتے ہیں اور یہ صرف سائنس دانوں کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ پوری دنیا معلومات کے بکھرے ہوئے جزیروں میں تقسیم تھی۔

کمپیوٹر موجود تھے، انٹرنیٹ بھی اپنی ابتدائی شکل میں موجود تھا، مگر معلومات تک فوری اور آسان رسائی کا کوئی عالمی نظام نہیں تھا۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس نے انسانی تاریخ کی ایک عظیم ترین ایجاد کو جنم دیا، جسے آج ہم ورلڈ وائیڈ ویب (World Wide Web) کے نام سے جانتے ہیں اور جس کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے۔

1980 کی دہائی کے آخر تک دنیا بھر کے تحقیقی ادارے لاکھوں دستاویزات تیار کر رہے تھے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان دستاویزات کو آپس میں جوڑنے والا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ برطانوی کمپیوٹر سائنس دان Tim Berners-Lee نے اسی مسئلے پر غور کیا۔ ان کے ذہن میں ایک ایسا تصور آیا جس میں ہر دستاویز کو دوسرے دستاویز سے Hyperlink کے ذریعے جوڑا جاسکتا تھا، تاکہ ایک موضوع سے متعلق معلومات تک چند لمحوں میں پہنچا جاسکے۔ یہ خیال بظاہر سادہ تھا، لیکن اس کے اثرات غیرمعمولی ثابت ہوئے۔ پہلی مرتبہ معلومات کو ایک ایسی زنجیر میں پرو دیا گیا جہاں دنیا کا کوئی بھی شخص ایک صفحے سے دوسرے صفحے تک صرف ایک کلک سے پہنچ سکتا تھا۔

ورلڈ وائیڈ ویب کے موجد برطانوی کمپیوٹر سائنس دان Tim Berners-Lee ہیں، جو 1989 میں یورپی تحقیقی ادارے CERN میں کام کر رہے تھے۔ انہیں احساس ہوا کہ مختلف ممالک کے سائنس دانوں کے پاس موجود معلومات کو ایک ایسے نظام کے ذریعے جوڑا جاسکتا ہے جہاں ہر دستاویز دوسری دستاویز سے منسلک ہو۔ اسی تصور نے بعد میں ورلڈ وائیڈ ویب کی شکل اختیار کی۔ 1990 میں انہوں نے پہلا ویب براؤزر، پہلا ویب سرور اور ویب کی بنیادی ٹیکنالوجیز تیار کیں، جبکہ 6 اگست 1991 کو دنیا کی پہلی ویب سائٹ info۔cern۔ch عوام کے لیے دستیاب ہوئی۔ یہ ویب سائٹ خود ورلڈ وائیڈ ویب کے تعارف اور استعمال کے بارے میں تھی۔

ورلڈ وائیڈ ویب کی کامیابی کا سب سے اہم راز شاید یہ تھا کہ 30 اپریل 1993 کو CERN نے اس کی بنیادی ٹیکنالوجی کو عوام کے لیے آزاد (Public Domain, Open Licence) کردیا۔ اگر اس ایجاد پر سخت تجارتی پابندیاں یا لائسنس فیس عائد کردی جاتیں تو ممکن ہے آج کی ڈیجیٹل دنیا بالکل مختلف ہوتی۔ اسی فیصلے نے دنیا بھر کے پروگرامرز، جامعات، اداروں اور کمپنیوں کو آزادانہ طور پر ویب سائٹس اور ویب ایپلی کیشنز بنانے کا موقع دیا، جس کے نتیجے میں ویب چند برسوں میں عالمی انقلاب بن گئی۔ ورلڈ وائیڈ ویب نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا۔ تعلیم اب صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہی۔ اخبارات کاغذ سے نکل کر ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہوگئے۔ ای کامرس نے خریداری کا انداز بدل دیا۔ آن لائن بینکنگ نے مالی لین دین آسان بنا دیا۔

اسی تصور نے بعد میں ایچ ٹی ایم ایل Hyper Text Markup Language)، اور یو آر ایل (Uniform Resource Locator) جیسی بنیادی ٹیکنالوجیز کو جنم دیا، جو آج بھی ویب کی بنیاد ہیں۔ جب ویب عام لوگوں تک پہنچی تو اس نے صرف کمپیوٹر استعمال کرنے کا طریقہ نہیں بدلا بلکہ پوری انسانی تہذیب کے معلوماتی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا۔ اخبارات ڈیجیٹل ہوگئے، کتابیں آن لائن آگئیں، بینک موبائل فون میں منتقل ہوگئے، سرکاری دفاتر کی خدمات ویب پر دستیاب ہونے لگیں، یونیورسٹیوں نے آن لائن تعلیم شروع کر دی، کاروبار عالمی منڈیوں تک پہنچ گئے اور چند برسوں میں دنیا واقعی ایک ’گلوبل ولیج‘ بن گئی۔

آج ایک طالب علم کراچی میں بیٹھ کر لندن، ٹوکیو یا نیویارک کی یونیورسٹیوں کے لیکچرز دیکھ سکتا ہے، ایک مریض دوسرے ملک کے ڈاکٹر سے مشورہ لے سکتا ہے، جبکہ ایک چھوٹا کاروباری شخص اپنی مصنوعات پوری دنیا میں فروخت کرسکتا ہے۔ اسی ورلڈ وائیڈ ویب کی بدولت آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی کونے کی خبر، تحقیق، کتاب، ویڈیو یا نقشہ ہماری اسکرین پر موجود ہوتا ہے۔ اگرچہ ورلڈ وائیڈ ویب اقوامِ متحدہ کا باضابطہ عالمی دن نہیں، تاہم دنیا بھر میں اسے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جس نے انسانی زندگی، تعلیم، معیشت، صحافت، تحقیق اور سماجی روابط کو بنیادی طور پر بدل دیا۔

روزمرہ گفتگو میں ہماری اکثریت انٹرنیٹ اور ورلڈ وائیڈ ویب کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ دونوں میں بنیادی فرق ہے۔ انٹرنیٹ دراصل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کمپیوٹر نیٹ ورکس کا ایک عالمی نظام ہے، جبکہ ورلڈ وائیڈ ویب انٹرنیٹ پر موجود ویب صفحات، ویب سائٹس اور ہائپر لنکس کا ایسا مربوط نظام ہے جس تک رسائی ویب براؤزر کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو انٹرنیٹ ایک شاہراہ ہے اور ورلڈ وائیڈ ویب اس شاہراہ پر سفر کرنے والی معلومات کا وسیع نیٹ ورک ہے۔

سرکاری خدمات تیزی سے ڈیجیٹل ہورہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور آن لائن تعاون کے بیشتر نظام ویب کی بنیاد پر قائم ہیں۔ صحافت بھی اس انقلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے۔ آج ایک خبر چند لمحوں میں دنیا بھر کے قارئین تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اس رفتار نے غلط معلومات، افواہوں اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ جیسے نئے چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔

ورلڈ وائیڈ ویب نے معلومات تک رسائی کو جمہوری بنا دیا، لیکن اس کے ساتھ ذمے دارانہ استعمال کی ضرورت بھی بڑھ گئی۔ سائبر جرائم، آن لائن فراڈ، ڈیٹا چوری، جعلی خبریں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ گمراہ کن مواد اس دور کے اہم مسائل ہیں۔ اسی لیے آج صرف ویب استعمال کرنا کافی نہیں بلکہ ڈیجیٹل خواندگی، مستند ذرائع کی پہچان اور ذاتی معلومات کا تحفظ بھی ہر صارف کی ذمے داری بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ویب اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت، ورچوئل رئیلٹی، آگمینٹڈ رئیلٹی، تیز رفتار نیٹ ورک اور اسمارٹ ایپلی کیشنز اس کے استعمال کو مزید مؤثر بنائیں گی۔ ساتھ ہی صارفین کی پرائیویسی، کھلے معیار اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول پر بھی پہلے سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ورلڈ وائیڈ ویب صرف ایک تکنیکی ایجاد نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے علم، تحقیق، کاروبار، صحافت اور ابلاغ کو نئی جہت عطا کی۔

ورلڈ وائیڈ ویب نے شاید سب سے زیادہ اثر صحافت پر ڈالا۔ ایک وقت تھا جب صبح کا اخبار ہی معلومات کا بنیادی ذریعہ ہوتا تھا۔ آج خبر وقوع پذیر ہونے کے چند سیکنڈ بعد دنیا بھر میں پہنچ جاتی ہے۔ ویڈیوز، تصاویر، لائیو نشریات اور ڈیجیٹل آرکائیوز نے رپورٹنگ کا انداز ہی بدل دیا ہے۔ لیکن اس تیزی نے ایک نیا چیلنج بھی پیدا کیا ہے۔ جھوٹی خبریں، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جرائم اور سوشل میڈیا پر غلط معلومات کی برق رفتار ترسیل اب صحافت اور معاشرے دونوں کے لیے بڑا امتحان ہیں۔

اب دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، خودکار سرچ، آواز سے چلنے والے نظام اور ورچوئل رئیلٹی وغیرہ۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ ویب مستقبل میں کتنی ترقی کرے گی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس طاقتور ٹیکنالوجی کو ذمے داری، دیانت اور انسانی بھلائی کےلیے استعمال کرسکیں گے؟ ورلڈ وائیڈ ویب صرف کمپیوٹر سائنس کی ایک ایجاد نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ہے جس نے علم کو سرحدوں، فاصلے اور وقت کی قید سے آزاد کردیا۔ آج جب ہم کسی ویب سائٹ پر صرف ایک کلک کرتے ہیں تو شاید ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس ایک کلک کے پیچھے کئی دہائیوں کی سائنسی جدوجہد اور تحقیق پوشیدہ ہے۔

یکم اگست کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معلومات تک رسائی کا یہ غیر معمولی نظام محض سہولت نہیں بلکہ ایک ذمے داری بھی ہے۔ اگر ہم اس کا استعمال تحقیق، سچائی، تعلیم اور انسانیت کی خدمت کے لیے کریں تو یہی ایجاد آنے والی نسلوں کے لیے بھی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوگی۔ یکم اگست ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جس ویب نے دنیا کو ایک کلک کی دوری پر لا کھڑا کیا، اس کا محفوظ، ذمے دارانہ اور مثبت استعمال بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story