مشرق وسطیٰ بحران کے دور رس اثرات

پاکستان کی اس اتحاد میں شمولیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔

مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسی کشیدگی کی گرفت میں آ چکا ہے جس کے اثرات کسی ایک ملک یا چند ریاستوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، بین الاقوامی تجارت، توانائی کی رسد اور عالمی سلامتی کے پورے ڈھانچے پر مرتب ہوں گے۔ ایران پر امریکی فضائی حملوں، تہران کی جوابی کارروائیوں، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات سے متعلق متضاد دعوؤں، بحری ناکہ بندی کے تسلسل، باب المندب اور بحیرہ احمر میں نئی عسکری صف بندی، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی بے یقینی اور غزہ میں جاری انسانی المیے نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت، اطلاعات اور تزویراتی مفادات کے ہر محاذ پر بیک وقت لڑی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں کسی ایک واقعے کو الگ کرکے دیکھنا ممکن نہیں، کیونکہ ہر نئی پیش رفت دوسری پیش رفت کو متاثر کر رہی ہے اور یہی باہمی ربط موجودہ بحران کو غیر معمولی بنا رہا ہے۔

امریکا اور ایران دونوں اپنی اپنی عسکری کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں اور فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رہی ہے کہ نہ صرف اس کے جنگی وسائل محفوظ ہیں بلکہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بھی نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔

جنگی حالات میں اس قسم کے متضاد بیانات کوئی نئی بات نہیں۔ جدید دور کی جنگوں میں اطلاعات بھی ایک ہتھیار بن چکی ہیں اور ہر فریق اپنے عوام، اتحادیوں اور مخالفین پر نفسیاتی برتری قائم رکھنے کے لیے اپنی کامیابیوں کو نمایاں اور مخالف کے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تاہم اس تمام اطلاعاتی جنگ کے باوجود ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ پورے خطے کو ایک ایسی غیر یقینی کیفیت میں دھکیل رہا ہے جس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔

 امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایران سے منسلک افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں بھی اسی دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہیں جس کے ذریعے واشنگٹن تہران کی اقتصادی اور عسکری صلاحیت کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ایران یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ صرف دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ جوابی کارروائی کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کشمکش میں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کس فریق کے دعوے زیادہ درست ہیں، بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ تصادم مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات کہاں تک جائیں گے۔ عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی مختلف نوعیت کے تنازعات کا شکار ہیں۔ ایسے میں کسی بھی نئی جنگ کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈیوں، مالیاتی نظام اور تجارتی سرگرمیوں پر پڑے گا۔

یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے تحفظ کیلیے چودہ ممالک پر مشتمل بحری دفاعی اتحاد کا قیام معمول کا واقعہ نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔ دنیا کی بڑی تجارتی شاہراہوں میں شمار ہونے والے یہ بحری راستے صرف مشرقِ وسطیٰ کیلیے نہیں بلکہ ایشیا، یورپ اور افریقہ کی معیشتوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ انہی راستوں سے گزرتا ہے، جب کہ تیل اور گیس کی بڑی مقدار بھی انہی گزرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہے، اگر ان آبی راستوں میں بدامنی پیدا ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ صرف جہازرانی کی مشکلات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اشیائے ضروریہ کی لاگت میں بڑھوتری اور عالمی سپلائی چین میں تعطل کی صورت میں بھی سامنے آئے گا۔ اسی لیے مختلف عرب، افریقی اور اسلامی ممالک نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے تاکہ اجتماعی طور پر بحری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان کی اس اتحاد میں شمولیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ بحیرہ عرب اور بحرہند میں پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے قدرتی طور پر ایک اہم بحری ریاست بناتا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بحری صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرے، کیونکہ مستقبل میں اقتصادی سرگرمیوں کا بڑا انحصار سمندری تجارت پر ہوگا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ متوازن رہی ہے۔ ایک طرف اس کے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی طویل سرحد اور ہمسائیگی کا رشتہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے سب سے موزوں راستہ یہی اپنایا ہے کہ وہ کسی نئی علاقائی محاذ آرائی کا حصہ بننے کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کی ہر ممکن کوشش کرے۔

موجودہ بحران کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خلیجی ممالک پہلی مرتبہ اس شدت سے آبنائے ہرمز کے مسئلے پر چین کے کردار کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کئی دہائیوں تک خطے میں سلامتی کے ضامن کے طور پر امریکا کو مرکزی حیثیت حاصل رہی، لیکن حالیہ جنگ نے عرب ریاستوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ صرف عسکری طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں۔ چین آج ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے اور خلیجی ممالک کے تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی۔ یہی اقتصادی تعلقات اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت دیتے ہیں، اگر بیجنگ اپنے معاشی اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ عالمی سیاست میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی واضح علامت ہوگی۔ چین کی خارجہ پالیسی عمومی طور پر فوجی مداخلت کے بجائے اقتصادی روابط اور سفارتی مفاہمت پر مبنی رہی ہے، اسی لیے خلیجی ممالک کو توقع ہے کہ وہ تہران پر ایسا سفارتی اثر ڈال سکتا ہے جو کسی فوجی دباؤ سے ممکن نہیں۔

یہ صورت حال اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔ اب صرف فوجی قوت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں رہی بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بندرگاہیں، بحری راستے اور سفارتی اثرورسوخ بھی اتنی ہی اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں ہر بڑی طاقت اپنی عسکری حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دے رہی ہے، جب کہ اس پوری کشمکش کی سب سے بڑی قیمت ہمیشہ کی طرح عام شہری ادا کر رہا ہے۔

 موجودہ بحران نے ایک اور حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ عالمی نظام بتدریج یک قطبی سے کثیر القطبی سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکا بدستور ایک بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت ہے، لیکن چین کی معاشی قوت، روس کی تزویراتی اہمیت اور علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار نے عالمی سیاست کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب کسی ایک طاقت کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ تنہا کسی بڑے بحران کا حل مسلط کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران، خلیجی ممالک، چین، امریکا، روس اور یورپی ممالک سب اپنے اپنے مفادات کے مطابق نئی صف بندیاں کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ اگر مختلف طاقتیں ایک دوسرے کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کریں گی تو تصادم کے امکانات بھی بڑھتے جائیں گے۔

 پاکستان کے لیے یہ تمام پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف ملک توانائی کی ضروریات، بیرونی تجارت اور سمندری راستوں کے تحفظ سے براہ راست وابستہ ہے، دوسری طرف اس کے ایران، سعودی عرب، چین، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات موجود ہیں۔

ایسے میں پاکستان کو انتہائی محتاط اور متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ کسی بھی علاقائی کشیدگی کا پہلا اثر تیل کی قیمتوں، درآمدی اخراجات، زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی پر پڑتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے صرف سفارتی توازن ہی نہیں بلکہ معاشی تیاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، علاقائی تجارت، بندرگاہوں کی استعداد، بحری سلامتی اور اقتصادی خود انحصاری جیسے شعبوں پر فوری توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 مشرقِ وسطیٰ آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا محور بن چکا ہے۔ یہاں ہونے والا ہر فیصلہ، ہر حملہ، ہر پابندی اور ہر سفارتی پیش رفت پوری دنیا کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ انصاف کے توازن سے بھی قائم رہتا ہے، اگر انصاف، قانون اور انسانی جان کی حرمت کو عالمی فیصلوں کا حقیقی مرکز بنا لیا جائے تو شاید آنے والی نسلیں ایک زیادہ محفوظ اور مستحکم دنیا دیکھ سکیں، لیکن اگر طاقت ہی واحد معیار بنی رہی تو یہ بحران وقتی وقفوں کے ساتھ نئے ناموں اور نئے محاذوں پر دوبارہ جنم لیتا رہے گا اور اس کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ وہ عام انسان ادا کرے گا جس کا جنگ کے فیصلوں میں کبھی کوئی کردار نہیں ہوتا۔

Load Next Story