قدرتی وسائل اور مینگرو پارک

اس پارک کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں سیرکے لیے کشتیاں موجود ہیں

پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن اس بات سے قبل کہ میں پاکستان میں خوشی اور خوشحالی و ترقی کا ذکر کروں تو پہلے میں چھپے ہوئے خزانے کی خوشخبری سنانا چاہتی ہوں، یہ خزانہ بالکل ’’ علی بابا چالیس چور‘‘ کے خزانے کی ہی مانند ہے بس تھوڑا سا ہی فرق ہے وہاں کھل جا سم سم کے الفاظ ادا کرنے پڑتے ہیں اور یہاں خوشگوار سفرکا مرحلہ طے کرنا اور اپنی صحت و سلامتی کی بقا کا راز جاننے کے لیے خوبصورت اور دلکش منظر کا حصہ بننا ضروری ہوتا ہے۔

صحت کے مقابلے میں سونا، چاندی، ہیرے ، جواہرات بے معنی اور بے وقعت ہیں، اس کی حقیقت ایک وہ بیمار انسان ہی بتا سکتا ہے جو بستر علالت پر ہو اور لذیذ کھانوں پر پابندی ہو، گھومنے پھرنے، سیر و تفریح کرنے سے معذور ہو۔ دل اس کا مردہ ہوگیا ہو چونکہ بیماری ہے ہی زندگی کی تازگی اور خوشیوں سے محروم کرنے والی۔

اس وقت صحت کے حوالے سے ایک حدیث قدسی یا پھر یہ کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا جواب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سوال کرنے پر یاد آگیا ہے۔

ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے اللہ! دنیا کی ایسی کون سی قیمتی چیز ہے جو رب سے سب سے پہلے طلب کی جائے؟ رب کریم نے فرمایا، اے موسیٰ! وہ قیمتی اور بیش بہا شے اور جس کا کوئی بدل نہیں وہ ہے ’’صحت‘‘۔ بے شک صحت کسی خزانے سے کم نہیں۔

تو پھر آئیے آج ہم آپ کو ایسی ہی جگہ لے جانا چاہتے ہیں جس کے بارے میں لوگ کم ہی جانتے ہیں اور جہاں کی سیر، تندرستی کی ضامن ہے۔ بے شک ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے خواہ وہ تندرستی ہو یا مال و اسباب، حیات و ممات ۔

چند ہی دنوں کی بات ہے جب ماہنامہ ’’اطراف‘‘ کے چیف ایڈیٹر محمود شام نے اطراف کے لکھاریوں، صحافیوں اور وی لاگرز کو حکومت سندھ کی طرف سے پارک جانے کی خوشخبری سنائی اور ہم نے بڑی توجہ سے سنی۔ چنانچہ ہم سب مقررہ وقت پر PITHM Parking Area پہنچ گئے، چالیس منٹ کا سفر تھا۔ جو چنچل ہواؤں اور موسم کی مہربانی کے باعث پل بھر میں گزرگیا اور اب مینگرو پارک (کورنگی کریک) ہماری متجسس نگاہوں کے سامنے تھا۔

یہ پارک کراچی کے ساحلی علاقے پر واقع ہے اور سب سے خاص بات یہاں سکون ہی سکون ہے، یہ ساحلی پٹی بحیرہ عرب ڈیلٹا کا حصہ ہے جہاں سمندری اور میٹھا پانی آپس میں ملتے ہیں۔ پارک میں مینگروز (تمر کے جنگلات) کا جال پھیلا ہوا ہے، اس پارک کی اہمیت یہ ہے کہ یہاں گھنے جنگلات ہیں جنھیں مینگروزکہا جاتا ہے، اس کی افادیت کے کئی پہلو ہیں۔ یہ درخت شہر کی آلودگی کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسے کراچی کے قدرتی پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ قدرت کا یہ انمول اور منافع بخش تحفہ ہے جو ساحلی تحفظ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ اس طرح سے بھی فائدہ مند ہے کہ یہ درخت سمندری طوفانوں، تیز لہروں اور زمین کے کٹاؤ کے خلاف ایک ڈھال کا کام کرتے ہیں۔

جنگلی حیات کا مسکن (Biodiversity) یہ جنگلات مچھلیوں، کیکڑوں اور جھینگوں کی نرسری کہلاتے ہیں۔ اس پارک میں بے شمار سمندری حیات جنم لیتی ہیں، ساتھ میں ہجرت کرنے والے پرندے (Migratory Birds) موسم سرما میں سائبیریا اور دیگر سرد علاقوں سے مینگرو پارک کا رخ کرتے ہیں۔ یہ سیاحوں کے لیے ایک دلفریب منظر ہوتا ہے۔ پرندوں میں بگلے، مرغابیاں، فلیمنگو خاص طور پر مینگروز کو اپنی منزل بنا لیتے ہیں۔

تفریح کرنے والوں کے لیے جنگل کے درمیان میں لکڑی کے خوبصورت راستے بنائے گئے ہیں، جن پر چل کر مینگروز کے درختوں، ان کے پتوں اور بیجوں کو ہاتھ سے چھو کر دیکھ سکتے ہیں، جس کا لطف انوکھا سا محسوس ہوتا ہے اور واک کے مزے کو دوبالا کر دیتا ہے۔

اس پارک کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں سیرکے لیے کشتیاں موجود ہیں جو سیاحوں کو جنگل کے اندرونی حصوں کی تفریح کے لیے مختص ہیں۔ مینگروز کے درختوں کا شمار عام درختوں میں نہیں کیا جاتا بلکہ یہ ان سے ہٹ کر خاص الخاص ہیں۔

یہ سمندر کے نمکین پانی میں نہ کہ زندہ رہتے ہیں بلکہ تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں جب کہ عام درختوں کا نمکین پانی میں زندہ رہنا ناممکن ہے ان کی جڑیں زمین سے باہر ہوا میں نکلی ہوتی ہیں۔ پارک بننے سے پہلے لوگوں کی اکثریت مینگروز کے درختوں کو جھاڑیاں ہی سمجھتے تھے لیکن پارک بننے کے بعد لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے۔

جس طرح صوبہ سندھ قدرتی وسائل اور تاریخی عمارتوں، قدیم قبرستانوں اور مساجد کی وجہ سے اپنی شناخت رکھتا ہے، اسی طرح پورا پاکستان اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات اور قدرتی خزانوں سے مالا مال ہے۔ معدنیات، زرخیز زمین اس میں پیدا ہونے والا اناج، پھل، سبزیاں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی بیش بہا مثال ہے۔

ان اہم وسائل میں تھر کا کوئلہ، سوئی کی گیس، معدنی تیل، کچا لوہا، تانبا، جپسم، سونا، سنگ مرمر اس کے علاوہ بلوچستان کے علاقے چاغی میں ریکوڈک اور سیندک کے مقام پر تانبے اور سونے کے بہت بڑے ذخائر موجود ہیں۔

پاکستان میں مختلف رنگوں کا سنگ مر مر بھی پایا جاتا ہے اگر ان تمام اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا استعمال منصوبہ سازی کے تحت کیا جائے تو پاکستان دوسرے ممالک کی ترقی سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے اور رعایا چین کا سانس لے۔

Load Next Story