ٹرمپ کی اسرائیل کی بقا کی جنگ اور ناراض امریکی عوام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’’ابراہم اکارڈ‘‘ کے بڑے پرچارک ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام عرب ممالک اس اکارڈ میں شامل ہوجائیں مگر عرب ممالک اور دیگر مسلم ممالک اس پر تیار نہیں ہیں۔ اس معاہدے کا مطلب فلسطینیوں کو اسرائیل کی مستقل غلامی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
اس وقت خلیجی ممالک میں صرف ایک ہی ملک ہے جس نے ’’ابراہم اکارڈ‘‘ پر دستخط کر رکھے ہیں جس نے شاید ٹرمپ کے دباؤ یا پھر مودی کی محبت میں یہ معاہدہ کرکے باقی تمام خلیجی ممالک سے علیحدہ راستہ اختیار کیا ہے جو سراسر فلسطینیوں کے کاز سے متصادم ہے۔
سوال یہ ہے کہ ’’ابراہم اکارڈ‘‘ کی ٹرمپ کو کیوں ضرورت پیش آئی؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ صدر ٹرمپ کس قدر اسرائیل کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ اس کے مفاد کے خلاف کوئی بھی قدم نہیں اٹھا سکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ جب وہ 2016ء میں امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے، انھوں نے اس وقت اسرائیل کو تمام عرب ممالک سے تسلیم کرانے کا مشکل ٹاسک اپنے ذمہ لیا تھا اور اپنی کوششوں سے کئی خلیجی اور افریقی مسلم ممالک کو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر راضی کر لیا تھا البتہ سعودی عرب نے اس وقت بھی ٹرمپ کی لاکھ کوششوں کے باوجود اسرائیل کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور یہ شرط رکھی تھی کہ جب فلسطین کا مسئلہ حل ہو جائے گا، وہ اسرائیل کو تسلیم بھی کر لیں گے اور ’’ابراہم اکارڈ‘‘ پر دستخط بھی کر دیں گے۔
حال میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کوشش کی مگر سعودی عرب کی حکومت اپنے مؤقف پر اٹل ہے کہ پہلے فلسطینیوں کے لیے آزاد وطن کا اہتمام کرو پھر وہ ’’ابراہم اکارڈ‘‘ کا معاملہ دیکھا جائے گا۔
صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کے بہت بڑے خیرخواہ اور محافظ ہیں ۔اس کی بقا کے لیے وہ ہر قدم اٹھا سکتے ہیں۔ اسرائیل کی ایران سے دشمنی کی وجہ بھی اس کا ایٹمی پروگرام ہے مگر ایرانی قیادت کئی مرتبہ اپنے ملک کو ایٹمی قوت بنانے سے انکار کر چکی ہے، وہ صرف سول نیوکلیئر سہولت کا حصول ضرور چاہتی ہے مگر اسرائیل کو یہ بھی پسند نہیں ہے حالانکہ امریکا کو ایران سے کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور آگے بھی نہیں ہو سکتا مگر صدر ٹرمپ اسرائیل کی بقا کو محفوظ بنانے کے لیے کہ ایران کہیں چوری چھپے ایٹم بم نہ بنا لے جس سے اسرائیل کو نقصان پہنچ سکے چنانچہ وہ ایران سے آر پار کی جنگ پر تل گئے تھے۔
امریکی عوام ٹرمپ کی اسرائیل کی بقا کی جنگ ایران سے لڑنے کی پالیسی کے سخت خلاف نظر آتے ہیں ،اسی لیے ٹرمپ کی مقبولیت میں اتنی کمی آ چکی ہے کہ لگتا ہے کہ ان کا مڈٹرم الیکشن میں جیتنا مشکل ہے۔ اب تو امریکی عوام کے ساتھ امریکی اعلیٰ عہدیدار جن میں نائب صدر جے ڈی وینس اور فوجی سربراہ جنرل ڈین کین شامل ہیں، بھی ٹرمپ کی اسرائیل کے دفاع کی جنگ پر برہم نظر آتے ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ امریکی مفادات کو پس پشت ڈال کر اسرائیل کے لیے امریکی وسائل بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس ایک امن پسند اور امریکی مفادات کا خیال رکھنے والے رہنما ہیں۔ لگتا ہے انھوں نے صدر ٹرمپ کی سیماب صفت طبیعت کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے کئی ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی تھیں، وہ کئی دن تک سوئٹزرلینڈ میں ہی ٹھہرے رہے تھے۔
وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس معاہدے کے بعد ٹرمپ ایران سے کسی بھی قسم کی چھیڑچھاڑ کریں مگر اسرائیل اس معاہدے کے سخت خلاف تھا کیونکہ وہ تو پورے مشرق وسطیٰ کو میدان جنگ بنا کر اپنے دیرینہ مفادات کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ امریکا کی ایران سے جنگ کے دوران فائدہ اٹھا کر لبنان کے جنوبی علاقے پر قبضہ کر چکا ہے، ساتھ ہی غزہ میں جنگ بندی کے بعد بھی وہاں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان کی کوششوں سے اسلام آباد معاہدے کے تحت مشرق وسطیٰ میں جنگ تو رک گئی تھی، اسی دوران ٹرمپ نیٹو کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ترکیہ آ گئے تھے، واپسی پر موساد نے ایک سازشی منصوبے کے تحت ٹرمپ کو ڈرایا کہ ایران ان کے جہاز کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے جب کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں تھا تاہم اس کے بعد ایران کی جانب سے بھی ایسے بیانات سامنے آئے کہ وہ اپنے رہبر اعلیٰ اور دیگر شہدا کی ٹرمپ کے ہاتھوں شہادت پر ٹرمپ سے بدلہ لینے کے لیے بے چین ہیں۔
ان بیانات نے نہ صرف موساد کی سازشوں کو کامیاب بنا دیا اور ٹرمپ کو یقین آ گیا کہ ایران انھیں قتل کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی قیادت کی اس بے صبری اور غیرسیاسی سوچ نے ٹرمپ کو پھر سے ایران پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا اور اس کے بعد دونوں ممالک میں پہلے سے زیادہ شدت سے جنگ چھڑ گئی، اس طرح اسلام آباد معاہدہ بھی بے اثر ہو گیا اور عالمی معیشت پر بھی اس کے مضر اثرات مرتب ہوئے۔
اب کچھ امید کی کرن نظر آ رہی ہے کہ امریکی نائب صدر اور فوجی سربراہ کے ریڈ سگنل نے ٹرمپ کے اسرائیل نوازی کے بخار کو اتار دیا ہے اور اب وہ ایران سے پھر سے مذاکرات کے لیے تیار نظر آتے ہیں مگر لگتا ہے نیتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے نے انھیں اسرائیل نوازی پر راغب کر دیا ہے۔
شاید اسی لیے وہ کہہ رہے ہیں کہ امریکی اسلحے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے مگر اسے کیا کہیے کہ خود امریکی ادارے جو امریکی اسلحے کے ذخیروں پر گہری نظر رکھتے ہیں، وہ امریکی نائب صدر اور امریکی فوجی سربراہ کی اسلحے کی کمی کے بارے میں بیان کی تصدیق کر رہے ہیں۔