نئے صوبے، نئے نظام کی ’’نئی تلاش‘‘
سیاسی نقار خانے میں پہلے ہی شور کی کیا کمی تھی جو ایک اور ہنگامہ آن وارد ہو گیا۔ کچھ اس پر واہ واہ کر رہے ہیں اور کچھ سر پیٹ رہے ہیں۔
’’ہمارا سسٹم گر چکا ہے، نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے پڑیں گے، جب تک نئے یونٹس نہیں بنیں گے اور نئی لیڈرشپ نہیں آئے گی، مسائل ختم نہیں ہوں گے… ہم ایک عام آدمی کو بنیادی سہولت، اپنی حکومت کے ساتھ رابطہ اور بروقت انصاف نہیں دے پا رہے… حل ایک ہی ہے، نئے انتظامی یونٹس یا صوبے۔
نظام کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔ نظام درست کر لیں، نئے صوبے بنائیں ورنہ نوجوان یا کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو سب الٹ سکتے ہیں‘‘۔ یہ کلام وزیرداخلہ محسن نقوی کا ہے اور جائے کلام اسلام آباد میں منعقدہ اکنامک سمٹ تھی۔
اس رو میں انھوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کو اس حال تک پہنچانے میں اس کے ذمے دار جتنے لوگ ہیں وہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایک چیز جو 70/ 80 سال سے نہیں چل رہی، اس کے پیچھے کوئی وجہ ہوگی۔ کچھ لوگ اسی مطالبے کو کچھ عرصے سے مختلف فورمز پر بالاصرار پیش کر رہے ہیں، اس پیشکش کے ساتھ کہ اس ہاتھ صوبے بنائیں، ان کی تجویز کردہ اصلاحات کریں، دوسرے ہاتھ دو سو ارب ڈالرز کی ایکسپورٹ لیں۔
یہ لوگ کاروبار اور سرمایہ کاری سے منسلک لوگوں کے لیے ہر صوبے سے سینیٹ، صوبائی اور قومی اسمبلی میں چند نشستیں مخصوص کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
مین اسٹریم اور سوشل میڈیا ابھی وزیرداخلہ کے بیان کے بال کی کھال اتارنے میں مصروف تھے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں اس تجویز کے حق میں اپنا وزن ڈال دیا۔
یوں بحث ’’کیوں‘‘ کے مرحلے سے کنی کترا کر ’’کیسے‘‘ کے موڑ پر آن پہنچی ہے۔ قانونی موشگافیوں کا دفتر کھل گیا کہ آئین میں اس کی گنجائش ہے بھی یا نہیں؟ کچھ قانونی دماغوں کے مطابق فلاں کلاز کو فلاں سے ملا کر یوں کی بجائے یوں کردیں تو گنجائش نکل آئے گی۔
ہم قانون دان ہیں نہ سیاسی حرکیات کے ماہر، اس لیے ان تجاویز کے پیچ وخم کھولنے کے قابل نہیں البتہ حافظہ جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر بتا رہا ہے کہ یہ سب سنا سنا سا ہے بلکہ دیکھا دیکھا سا ہے۔ نئے ملک میں بوجوہ نیا آئین بنانے میں نو سال لگ گئے۔
نیا آئین نافذ ہوا تو دو سال بعد ہی نئے حاکم وقت نے فرمایا کہ یہ نظام تو نہیں چلے گا، سو آئین کو چلتا کیا۔ ایک نیا آئین چار سال بعد بنایا ( یاد رہے کہ تب پاکستان دو بازوؤں پر مشتمل تھا)۔ سات آٹھ سال بعد اس نظام پر بھی سوالات اٹھ گئے۔
پاکستان دو لخت ہوا۔ مغربی بازو ہی پورا پاکستان کہلایا۔ نیا متفقہ آئین بنا۔ چند سال بعد ایک اور صاحب مالک اقتدار ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ یہ نظام نہیں چلے گا۔ مثبت نتائج کی کھوج میں وہ غیرجماعتی نظام لائے۔ ان کے جانے کے بعد وہ نظام بھی نہ چلا۔
نوے کی دہائی میں نظام کی مدافعت اور ایک دوسرے پر برتری کی مارا ماری نے دائرے کا سفر جاری رکھا۔ موجودہ وزیرداخلہ کے ایک اور نیم ہم نام نے پرویز مشرف کے دور میں نہ صرف بتایا کہ نیا نظام درکار ہے بلکہ نیا نظام بنا کر نافذ کر دیا۔
ڈی سی کا ڈنک نکال کر ضلع چیئرمین کو دے دیا اور ڈی سی کے ساتھ ’’او‘‘ کا لاحقہ جوڑ دیا۔ ایک ڈی سی ہی کیا، پولیس، تعلیم اور صحت سمیت سب ضلعی انتظامیہ کی ’’او‘‘ پر تنزلی کر دی گئی۔ وقت نے چند سال بعد ایک اور کروٹ لی تو بتایا گیا کہ یہ نظام نہیں چلے گا۔ ’چلو اک بار پھر سے اجنبی بن‘ کر ’’او‘‘ مارکہ نظام سے جان چھڑائی۔
گزشتہ 18/19 سالوں کے دوران چلنے والے نظام کی آنکھ ناک درست کرنے، کان اینٹھنے اور کولہے و گھٹنے تک تبدیل کرنے کے بعد اب بتایا جا رہا کہ یہ نظام گر رہا ہے بلکہ ’’کاکروچ اکٹھے ہوکر اسے پلٹ سکتے ہیں!‘‘ اس پر ہمیں بے ساختہ معروف آرٹسٹ اور مزاحیہ قلمکار فاروق قیصر یاد آئے جن کا ایسے موقعوں پر ایک سکہ بند ڈائیلاگ ہوا کرتا تھا… لو، کر لو گل!
اس ہفتے ایک سابق بیوروکریٹ اور چالیس سال تک ان نظاموں کے کلید بردار رہنے والے ظفر محمود کی ایک کتاب زیرمطالعہ ہے: سرکار کی رہ گزر سے۔ موصوف اسسٹنٹ کمشنر سے سیکریٹری تک کے عہدوں پر جاگزیں رہے۔ چھ محکموں کے وفاقی سیکریٹری اور واپڈا کے چیرمین رہے۔ جی بھرنے پر قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی۔
دل کے پھپھولے سینے کے داغ سے جلنے لگے تو نظاموں کے حشر کو نشر کرنے کے لیے کالم لکھے۔ کالموں کے مجموعے پر مشتمل اس کتاب میں بہت سے واقعات ذہن کے جالے صاف کرنے اور شہادتیں ڈھول بجاتی خوش گمانیوں کی آسودگی کا سامان ہیں، یہ ان سوالوں کے جواب ہیں جو شہاب جعفری نے یوں پوچھے:
تو اِدھر اُدھر کی بات نہ کر یہ بتا کہ قافلے کیوں لٹے
تری رہبری کا سوال ہے ہمیں راہ زن سے غرض نہیں
چند حسب حال اقتباسات پیش ہیں: سرکاری اہلکاروں کی تعیناتی کی مدت قانونی طور پر حکمرانوں کے عرصہ خوشنودی سے منسلک ہو گئی۔ یہ نہیں سوچا گیا کہ اس تبدیلی سے اختیارات کے استعمال میں غیرجانبداری کا جنازہ نکل جائے گا… بیوروکریسی سیاست کا دباؤ کب تک برداشت کرتی۔ بارگاہِ اقتدار میں سجدہ ریز ہوئی تو شریکِ جرم بنی۔
کلیدی عہدوں پر تعیناتی کے لیے قانون اور ضابطوں میں لچک پیدا کرنا قابلیت کا معیار ٹھہرا۔ غیرسیاسی سول سروس کا نظام، سیاست زدہ ہو کر حکمران پارٹی کے ساتھ ہم آہنگ ہوا۔ جو اہلکار اس گروہ بندی کا حصہ بنے وہ عطا اور عنایت کی بارش میں نہا گئے۔
… قانون کے احترام کی عادت ہم نے آہستہ آہستہ ختم کی۔ اب حکومت کی رٹ مستقل طور پر کمزور ہو چکی ہے۔ ایک کامیاب اور ناکام ریاست میں بنیادی فرق صرف مؤثر انتظامی ادارے ہیں۔ پارلیمنٹ قانون بنائے، حکومتی عہدے دار اعلانات کرتے رہیں، اگر سرکاری اہلکار سیاست زدہ، نااہل اور بدعنوان ہوں تو عملدرآمد میں کمزوری رہ جائے گی۔
انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے اسے سیاست سے علیحدہ رکھنا لازم ہے۔ بدعنوانی کی روک تھام کے لیے اچھی تنخواہ اور احتساب کا نظام ضروری ہے۔ سب سے اہم شرط ریاست کی طرف سے اس اہلکار کا مکمل دفاع جو راستی پر ہو اور قانون پر بغیر تفریق عمل کرے۔
…پاکستان کی سیاست آسان نہیں، یہ دوسرے ملکوں سے مختلف ہے۔ یہاں غیرسیاسی قوتیں عوامی قیادت پر نہ اعتماد کرتی ہے نہ انھیں ملک کا انتظام چلانے میں آزادی دیتی ہیں۔ ملکی مفاد کے بارے میں نظریات کا اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ قائدانہ صلاحیت کا اصل امتحان ملک میں موجود دوسری سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر غیرسیاسی قوتوں کو اپنے نقطہ نظر پر قائل کرنے میں ہے۔
ایک صحت مند درمیانی راستے کی تلاش قائدانہ صلاحیت کا اصل امتحان ہوگی ورنہ پاکستان میں غیریقینی صورتحال جاری رہے گی اور عوام بیچارے روزانہ شام ٹیلی ویژن اسکرین پر اچھے مستقبل کا امکان تلاش کرتے نظر آئیں گے۔