بھارتی جین زی نے مودی سرکار کی مقبولیت کا بُت توڑ دیا
سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
انڈین جین ذی کی جنتر منتر دہلی پر برپا ہونے والی موجودہ تحریک دنیا بھر کے باشعور عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی۔میں نے بھی اپنی سوشل میڈیا پر اس کا بغور مشاہدہ کیا۔ اس تحریک کے مشاہدے کے دوران میں نے محسوس کیا کہ احتجاج میں شریک انڈین تعلیم یافتہ نوجوان اور دیگر افراد بہت باشعور ہیں اور اپنے تعلیمی سیاسی معاشی سماجی اہداف کے بارے میں کسی ابہام کا شکار نہیں ہیں۔
یہ پہلو انتہائی اہم ہے کہ تحریک ایک ماہ کے دوران جمہوری دائرہ میں رہی اور کبھی پرتشدد رنگ اختیار نہیں کیا حالانکہ ان پر پولیس کی طرف سے بہیمانہ تشدد بھی کیا گیا۔ تحریک نے مین سٹریم میڈیا کے بغیر صرف سوشل میڈیا کا موثر استعمال کرکے یہ ثابت کردیا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ابلاغ کا بہت بڑا ہتھیار ہے اور اس کے ذریعے تعلیمی' سیاسی' معاشی' سماجی جنگیں بھی جیتی جاسکتی ہیں۔ CJP کی راہنما نیہا بورا ، دلت راہنما نیہا بھارتی اور دیگر نوجوانوں کے خیالات سن کر جہاں میں ان کے شعور اور فکر کی بلندی کا معترف ہوا وہیں یہ امید بھی بندھی کہ جبر اور خوف کے ماحول کے باوجود انڈیا میں سیکولر آوازیں ابھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں اور BJP ' RSS کے اکھنڈ بھارت کے خواب کی راہ میں کمزور سہی لیکن مزاحمت موجود ہے۔ انڈین جین ذی کی تحریک کی کامیابی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی اس تحریک کی کامیابی سے ملک میں سیاسی اور سماجی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اس تحریک کی سب سے بڑی اور فوری کامیابی کے طور پر سامنے آیا جس نے بی جے پی حکومت کے عوامی طاقت اور مقبولیت کے بت میں دراڑیں ڈال دیں۔ بی جے پی حکومت نے اپنی عوامی طاقت کے زعم میں ایک ماہ تک نوجوانوں کے پرامن احتجاج کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ طاقت کے بھرپور استعمال کے ذریعے ختم کرنے کی کوششں کی لیکن امتحانی پیپرز کے تنازع اور سسٹم کی بدانتظامی پر نوجوانوں کے شدید دباؤ 'طویل دھرنے اور احتجاج کے بعد حکومت کو نوجوانوں کے مطالبات پر مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔
مظاہرین اور حکومت کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے تحت تحریک کو فی الوقت معطل کیا گیا ہے۔جبکہ نوجوان رہنماؤں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ ملک بھر میں احتجاج کے شرکا پر درج تمام ایف آئی آر فوری طور پر واپس لی جائیں اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔ لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ تاحال بہار'پٹنہ اور کلکتہ میں مظاہرین کے خلاف نہ ہی ایف آئی آرز ختم کی گئیں اور نہ گرفتار شدہ افراد ’جن میں زیادہ تر مسلمان ہیں‘ کو رہا کیا گیا۔ احتجاجی تحریک کے راہنما بہار سمیت مختلف ریاستوں میں احتجاجی طلبہ کے خلاف درج ایف آرز ختم کرنے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مطالبہ نہ ماننے پر دوبارہ شدید احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
انڈین سپریم کورٹ کی طرف سے بھی ان افراد کی رہائی کی ہدایات دی گئی ہیں۔دوسری طرف جنتر منتر پر احتجاجی طلبہ کو کھانا کھلانے والے مسلمان فلاحی کارکن جنید اور اسکی فیملی کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہیں گرفتار کر کے زیر تفتیش رکھنے کے واقعات سامنے آئے ہیں اور یو پی ریاستی بی جے پی حکومت نے مسلم دشمنی میں رام پور اتر پردیش میں قائم محمد علی یونیورسٹی کے کچھ حصوں کے انہدام کا فیصلہ کیا ہے جس کے خلاف طلبہ و طالبات سراپا احتجاج ہیں تاہم ابھی تک CJP اور AISA راہنماؤں کی طرف سے اس تحریک کی حمایت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
کاکروچ پارٹی کی احتجاجی تحریک کی کامیابی نے بھارت کے دیگر طبقات اور سول سوسائٹی کے اندر بھی ایک نیا حوصلہ پیدا کیا ہے۔ دوسری وزارتوں اور پالیسیوں کے خلاف بھی اس طرز کی نئی تنظیمیں اپنے مطالبات کے ذریعے سر اٹھانے لگی ہیں۔اس تحریک نے روایتی و گودی میڈیا کے اثر کو رد کرتے ہوئے انسٹاگرام اور دیگر سوشل نیٹ ورکس کو اپنے اتحاد اور مؤقف کی ترویج کا بنیادی ذریعہ بنایا جس کا اعتراف اب ابلاغ عامہ کے ماہرین بھی کر رہے ہیں۔
نوجوانوں کی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے اپنے وعدوں کے مطابق تمام مقدمات کے خاتمے اور تحریری ضمانت پر عمل نہ کیا تو وہ دوبارہ سڑکوں پر آ سکتے ہیں۔اس نئی بیداری نے مودی حکومت کے لیے مستقبل میں پالیسی سازی اور حکومتی گڈ گورننس کے معاملات پر نوجوان نسل کے کڑے سوالات کا سامنا کرنے کا ایک مستقل دروازے کھول دئیے ہیں۔ اس تحریک نے سیکولر انڈیا کے بیانیے کو مزید طاقت بخشی ہے اور مودی کی مسلم دشمنی کی پالیسی کو بے نقاب کرکے انڈین معاشرے میں مذہبی بھائی چارے کو فروغ دینے کا پیغام دیا ہے۔
اس تحریک کے پس منظر اور مقاصد کا جائزہ لیں تو کہا جاسکتا ہے کہ بھارت میں نوجوان نسل (جین زی) کی کامیاب احتجاجی تحریک بے روزگاری، انتظامی نااہلی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر سامنے آئی۔ اس تحریک نے سوشل میڈیا کے مؤثر استعمال اور روایتی میڈیا کے بائیکاٹ کے ذریعے حکومتی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اگر ہم اس تحریک کے اہم محرکات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مستقبل کے عدم تحفظ نے اس تحریک کو جنم دیا۔سرکاری پالیسیوں اور مسابقتی امتحانات یا تعلیمی نظام کے مسائل پر طلبہ میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔سوشل میڈیا (خصوصاً ایکس) پر اٹھنے والی ایک عام آواز دیکھتے ہی دیکھتے اس احتجاجی لہر کا نمایاں چہرہ بن گئی۔
نوجوانوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو باہم رابطہ کاری اور بیانیہ تشکیل دینے کے لیے بطور بنیادی ہتھیار استعمال کیا روایتی اور سرکاری اثر و رسوخ والے میڈیا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ یہ تحریک روایتی سیاسی جماعتوں کی بجائے براہ راست زمینی اور ڈیجیٹل رابطہ کاری پر مبنی تھی۔ اس تحریک نے مودی سرکار اور متعلقہ انتظامیہ کے لیے شدید سیاسی دباؤ اور امتحان کی صورتحال پیدا کی۔تحریک کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دباؤ کے باعث مرکزی سطح پر سیاسی ہلچل مچی جو وزیر تعلیم کے استعفے کی صورت میں سامنے آئی۔اس تحریک نے ثابت کیا کہ ڈیجیٹل دور کی نئی نسل روایتی دباؤ کو مسترد کر کے اپنے حقوق کے لیے منظم طاقت رکھتی ہے اسی کے نتیجے میں اس بھارتی جنتا پارٹی کے اہم رکن اور وزیر تعلیم استعفی دینے پر مجبور ہوگئے جس کا یہ دعویٰ اور غرور تھا کہ ہمارے کابینہ استعفے دینے کیلئے نہیں بنی۔یہ تحریک یقیناً مودی سرکار کے لیے بڑا سیاسی امتحان اور دھچکا ثابت ہوئی ہے اور BJP کے خوف کے بت کو کسی حد تک توڑ دیا ہے۔
اس تحریک نے مودی سرکار کی انتظامی نااہلیوں کو دنیا بھر کے سامنے عیاں کرکے بھارت میں مودی میڈیا گٹھ جوڑ کو بے نقاب کردیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ بھارت کی جین زی تحریک میں طلبہ نے 'گودی میڈیا' کا مکمل بائیکاٹ کیا جب کہ سوشل میڈیا کو مؤثر ہتھیار بنایا دوسری طرف سونم وانگچوک جیسے سماجی رہنماؤں' بھارتی اپوزیشن'فلم سٹارز نے بھی اس کی سرپرستی کا اعلان کیا جس سے اس تحریک کو قومی و بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی۔ بھارت کی حکمران پارٹی بی جے پی کی ضد تھی کہ اس کے وفاقی وزیر تعلیم ہرگز، ہرگز اور ہرگز مستعفی نہیں ہوں گے لیکن احتجاج کرنے والے طلبا و طالبات پولیس تشدد اور پیلٹ گنوں کے سامنے بھی ثابت قدم رہے۔
اس سے قبل بنگلہ دیش سری لنکا اور بھوٹان کے طلبا و طالبات نے اپنی اپنی مضبوط ترین، جابر ترین حکومتوں کو الٹا دیا تھا۔ جنوبی ایشیا کی یہ مثالیں تمام حکمرانوں کیلئے ایک پیغام اور سبق ہیں۔ دوسرا سبق ہے نوجوان سیاسی کارکنوں اور جین ذی کے لیے ہے کہ پرامن جمہوری جہدوجہد میں تشدد توڑ پھوڑ جلاو گھیراؤ مسلح جتھوں کی شمولیت کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان اور نیلسن منڈیلا کی سیاسی جدوجہد اسکی اہم مثالیں ہیں۔ پھر وہ اس مقصد کے لیے اس تحریک کی راہنما نیہا بورا' نیہا بھارتی اور دیگر کم عمر طلبہ و طالبات کی ویڈیوز دیکھیں ان کی گفتگو سنیں۔ ان کے منہ سے کوئی گالی نہیں نکلی، انہوں نے نے کسی جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا نہیں لیا۔ کہیں پر تشدد احتجاج کی بات نہیں کی سارا زور دلیل پر رہا۔ میں نے ایسے ہی کئی دیگر ویڈیو کلپس دیکھے، ہر کوئی لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پیلٹ گنز کے جواب میں صرف زوردار دلیل کا سہارا لیتا رہا اور مودی سرکار کے خلاف پیش قدمی کرتا رہا اور بالاآخر ان کے عزم کے سامنے مودی سرکار کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور آج دنیا بھر میں ان کی جمہوری جدوجہد کو سراہا جارہا ہے۔