دہشت گردی کا خاتمہ اس کے پیچھے کار فرما عوامل کو ختم کئے بغیر ممکن نہیں

روز گار، تعلیم، سماجی انصاف، قانون کی حکمرانی اور سیاسی مفاہمت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے

پاکستان میں دہشت گردی پر بحث عموماً کسی حملے کے بعد شروع ہوتی ہے اور چند سوالوں کے گرد گھوم کر ختم ہو جاتی ہے: حملہ آور کون تھا، کس تنظیم نے ذمہ داری قبول کی، وہ کہاں سے آیا اور سکیورٹی میں رخنہ کیسے پڑا؟ یہ سوال ضروری ہیں، مگر اب ناکافی ہیں۔

اصل سوال اس سے بڑا ہے: دہشت گرد کے پیچھے موجود پورا نظام کون سا ہے؟ کوئی منظم شدت پسند تنظیم صرف چند مسلح افراد کے جوش سے برسوں زندہ نہیں رہ سکتی۔ اسے سرمایہ چاہیے، اسلحہ چاہیے، تربیت چاہیے، محفوظ پناہ گاہیں، نقل و حرکت کے راستے، مواصلاتی نظام، سہولت کار اور ایسا بیانیہ چاہیے جو نئے افراد کو اس کے لیے جان دینے اور جان لینے پر آمادہ رکھے۔ لہٰذا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی آئندہ حکمتِ عملی کا مرکز صرف جنگجو نہیں، اس کا پورا ایکو سسٹم ہونا چاہیے۔

پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور متعدد بڑے نیٹ ورکس کی عسکری صلاحیت توڑی ہے۔ لیکن اس جنگ کی نوعیت بدل رہی ہے۔ آج سرحد پار پناہ گاہ، ڈیجیٹل پروپیگنڈا، غیر قانونی مالیات، مذہبی تعبیر کا غلط استعمال، سیاسی انتشار اور نوجوانوں کی مایوسی ایک دوسرے سے جڑ کر ایک نئی نوعیت کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کو محض قانون نافذ کرنے یا فوجی کارروائی کا مسئلہ سمجھنا اب اس خطرے کو کمتر سمجھنے کے مترادف ہوگا۔

سب سے پہلے دہشت گردی کی مالی بنیاد پر توجہ دینا ہوگی۔ یہ سوال مسلسل پوچھا جانا چاہیے کہ اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟ تربیت کون دیتا ہے؟ جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے اخراجات کون اٹھاتا ہے؟ سرحد پار نقل و حرکت کس نیٹ ورک کے ذریعے ممکن ہوتی ہے؟ پروپیگنڈا مواد کون تیار کرتا اور پھیلاتا ہے؟ لیکن یہاں بھی ذمہ دارانہ رویہ ضروری ہے۔ بغیر قابلِ تصدیق شواہد کسی مخصوص ریاست، خفیہ ادارے یا عالمی طاقت کو ہر واقعے کا ذمہ دار قرار دینا قومی سلامتی کے بیانیے کو کمزور کرتا ہے۔

وسائل کے ذرائع متعدد ہو سکتے ہیں: اسمگلنگ، بھتہ، منشیات، غیر قانونی تجارت، جرائم پیشہ نیٹ ورکس، بیرونی فنڈنگ اور ریاستی یا غیر ریاستی سہولت کار۔ ریاست کا کام قیاس نہیں، ثبوت تک پہنچنا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا غلط تصور بھی ہمارے سیاسی مباحثے میں پیدا ہو چکا ہے۔ بعض حلقوں کو لگتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی موقف کی حمایت کا مطلب حکومت یا اداروں کی ہر پالیسی کی غیر مشروط حمایت ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ حکومت، پارلیمنٹ، ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں اور طاقت کے تمام مراکز تنقید اور احتساب کے دائرے میں آتے ہیں۔

ناقص حکمرانی، بدعنوانی، مہنگائی، سیاسی عدم استحکام، انصاف میں تاخیر، ادارہ جاتی کمزوریاں اور اختیارات کے غلط استعمال پر سوال اٹھانا ایک ذمہ دار شہری اور قلم کار کا حق ہے۔ لیکن ایک اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے: الزام ثبوت کے ساتھ، تنقید دلیل کے ساتھ اور احتساب بلا امتیاز۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دہشت گردی جیسے واضح جرم کو بھی سیاسی پسند ناپسند کے تابع کر دیا جائے۔ کوئی حملہ ہوا تو فوراً کسی کے نزدیک ریاست خود ذمہ دار، کسی کے نزدیک بیرونی طاقت، کسی کے نزدیک سیاسی مخالف تحقیق اور ثبوت آنے سے پہلے فیصلے صادر ہو جاتے ہیں۔ یہ ماحول دہشت گرد تنظیموں کے لیے بہترین ہے، کیونکہ ان کا اصل مقصد صرف جانیں لینا نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد توڑنا بھی ہے۔ اسی لیے سیاسی پولرائزیشن خود قومی سلامتی کا مسئلہ بن سکتی ہے۔

اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن جب ہر قومی سانحہ سیاسی جنگ کا ہتھیار بن جائے تو اجتماعی دفاع کمزور ہوتا ہے۔ پاکستان کو کم از کم دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور انتہا پسند مسلح تنظیموں کے حوالے سے ایک بنیادی قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔

ایک دوسرا اہم میدان افغانستان ہے۔

کابل کے ساتھ مستقل کشیدگی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ملکوں کو تاریخ، جغرافیہ، تجارت، قبائلی روابط اور لاکھوں انسانی رشتے جوڑتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو افغان حکومت کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطہ برقرار رکھنا چاہیے۔ لیکن تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان اپنی جائز سلامتی کی تشویش سے دستبردار ہو جائے۔ کابل سے پاکستان کا بنیادی مطالبہ سادہ ہے: افغان سرزمین کسی ایسے ملک یا مسلح گروہ کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے جو پاکستان کے شہریوں یا ریاستی اداروں پر حملے کرے۔ یہ مطالبہ نہ غیر معمولی ہے نہ غیر قانونی۔ ہر خود مختار ریاست اپنے پڑوسی سے یہی توقع رکھتی ہے۔ پاکستان کو طالبان حکومت کے ساتھ سفارت کاری، تجارت اور اقتصادی روابط کو ایک مربوط پالیسی میں استعمال کرنا چاہیے۔

سرحدی تجارت اور ٹرانزٹ کابل کے لیے اہم ہیں؛ پاکستان کو انہیں سزا کے آلے کے بجائے ترغیب اور دباؤ کے متوازن امتزاج کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ چین، قطر، ترکی، سعودی عرب اور دیگر اثر رکھنے والے ممالک کو بھی اس مکالمے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگر افغانستان مستحکم اور پاکستان کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات اختیار کرتا ہے تو اس کی سرزمین میں کسی بھی مخالف خارجی اثر، بشمول پاکستان مخالف بھارتی سرگرمی، کے لیے جگہ خود بخود محدود ہو سکتی ہے۔ مغربی سرحد پر سکیورٹی اور سفارت کاری کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا غلطی ہوگی۔ دونوں کو ایک دوسرے کی قوت بننا چاہیے۔ بارڈر مینجمنٹ مضبوط ہو، آمدورفت دستاویزی ہو، انٹیلیجنس شیئرنگ کا قابلِ عمل میکنزم بنایا جائے، غیر قانونی راستے بند کیے جائیں اور کابل کو واضح کر دیا جائے کہ دو طرفہ تعلقات کا معیار دہشت گردی کے خلاف عملی تعاون بھی ہوگا۔ تاہم اس سارے مسئلے کا سب سے طویل المیعاد پہلو نظریاتی ہے۔ ایک نوجوان خودکش حملہ آور ایک دن میں تیار نہیں ہوتا۔ اس کے ذہن میں پہلے عدم برداشت، پھر نفرت، پھر تکفیر اور بالآخر تشدد کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ عمل بندوق سے پہلے شروع ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو ایک قومی فکری انسدادِ انتہا پسندی پالیسی درکار ہے۔

تعلیم کا نظام اس کا بنیادی ستون ہونا چاہیے۔ ہمارے اسکول اور جامعات ایسے شہری پیدا کریں جو مذہب سے وابستہ بھی ہوں، آئین سے واقف بھی، سوال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں اور اختلاف برداشت کرنا بھی جانتے ہوں۔ مدارس کو دشمن سمجھنے کے بجائے انہیں شراکت دار بنایا جائے۔ پاکستان کے جید علماء شدت پسند تعبیرات کے خلاف سب سے طاقتور علمی دفاع فراہم کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ریاست کو روایتی، دفاعی رویے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ انتہا پسند گروہ چند سیکنڈ کی ویڈیو میں جذبات بھڑکا دیتے ہیں جبکہ ریاست کئی دن بعد ایک خشک پریس ریلیز جاری کرتی ہے۔

یہ عدم توازن ختم کرنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کو اپنی داخلی کمزوریاں درست کرنا ہوں گی۔ ناانصافی، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، ناقص حکمرانی اور سیاسی عدم استحکام دہشت گردی کا جواز نہیں، لیکن انتہا پسند تنظیمیں انہی شکایات کو اپنے بیانیے کا ایندھن بناتی ہیں۔ اس لیے اچھی حکمرانی بھی انسدادِ دہشت گردی ہے۔ روزگار بھی انسدادِ دہشت گردی ہے۔ تعلیم بھی انسدادِ دہشت گردی ہے۔ انصاف بھی انسدادِ دہشت گردی ہے۔ اور قومی سیاسی مفاہمت بھی انسدادِ دہشت گردی ہے۔ ہماری کامیابی اس دن مکمل ہوگی جب ہم صرف اس شخص کو نہیں روکیں گے جو بارودی جیکٹ پہنتا ہے، بلکہ اس شخص، نظام اور سوچ کو بھی روک دیں گے جو اسے اس مقام تک پہنچاتی ہے۔ پاکستان نے میدانِ جنگ میں دہشت گرد کو بہت حد تک پہچان لیا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم دہشت گرد کے پیچھے کھڑے پورے نظام کو پہچانیں۔ اسی میں اس جنگ کی اگلی، اور شاید فیصلہ کن، کامیابی پوشیدہ ہے۔ 

Load Next Story