مروجہ ہنڈی کا کاروبار ایک شرعی و معاشی جائزہ

اس نظام کے تحت ایک مقام پر رقم جمع کرادی جاتی اور دوسرے مقام پر اس کی ادائی کردی جاتی تھی

دنیا کی معاشی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے ہمیشہ دولت کی منتقلی کے لیے ایسے ذرائع تلاش کیے جو سفر کے خطرات، فاصلے کی دشواریوں اور تجارتی ضرورتوں کو کم کر سکیں۔ انہی ذرائع میں ایک قدیم اور معروف نظام ’’ہنڈی‘‘ یا ’’حوالہ‘‘ بھی ہے، جو صدیوں تک مختلف خطوں میں غیررسمی مالیاتی نیٹ ورک کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ اس نظام کے تحت ایک مقام پر رقم جمع کرادی جاتی اور دوسرے مقام پر اس کی ادائی کردی جاتی تھی۔ قدیم ادوار میں، جب نہ جدید بینکنگ کا وجود تھا اور نہ محفوظ سفری سہولیات میسر تھیں، یہ نظام تاجروں اور مسافروں کے لیے بسا اوقات ایک بڑی سہولت کی حیثیت رکھتا تھا۔ لمبے سفر میں نقدی ساتھ لے جانے کے خطرات، ڈاکوؤں کے حملے، اور پُرخطر  راستوں کی غیر یقینی کیفیت نے اس نظام کو ایک عملی ضرورت بنا دیا تھا۔

لیکن جیسے جیسے دنیا کے معاشی اور قانونی ڈھانچے تبدیل ہوئے، ویسے ویسے ہنڈی کے نظام کی نوعیت بھی بدلتی چلی گئی۔ آج کا مروجہ ہنڈی سسٹم محض ایک سہولت بخش ذریعۂ ترسیلِ زر نہیں رہا، بلکہ اکثر صورتوں میں یہ ریاستی نگرانی، قانونی مالیاتی نظم اور باضابطہ بینکاری نظام سے ہٹ کر ایک غیررسمی اور غیرشفاف نیٹ ورک کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عصرِحاضر میں اس کا تعلق صرف غیررجسٹرڈ مالی لین دین تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ، مالی بدعنوانی اور دیگر مشتبہ سرگرمیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ چناؓںچہ موجودہ ہنڈی کے نظام کا شرعی حکم محض اس کے تاریخی پس منظر یا ظاہری عنوان کو دیکھ کر متعین نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کی حقیقی نوعیت، عملی طریقۂ کار اور اجتماعی نتائج کو سامنے رکھنا ناگزیر ہے۔چناںچہ شریعتِ  میں کسی معاملے کی ظاہری مشابہت یا اصطلاحی مماثلت کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی حقیقی نوعیت، قانونی حیثیت، معاشی اثرات اور مستقبل میں اس کے نتیجے میں جنم لینیت والے اثرات کو سامنے رکھ کر حکم لگایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے محض نام یا ظاہری ساخت کی بنیاد پر ناجائز معاملات کو جائز قرار دینے سے ہمیشہ احتراز کیا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا  یہی اصول ہے کہ کسی معاملے کا حکم صرف اس کے نام یا ظاہری صورت پر نہیں بلکہ اس کی حقیقت اور انجام پر مبنی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مروجہ ہنڈی کی بعض شکلیں اگرچہ بظاہر حوالہ، وکالت، قرض یا صرافہ کے بعض جائز عقود سے مشابہ دکھائی دیتی ہیں، لیکن محض ظاہری مشابہت کسی معاملے کو شرعاً جائز قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اگر کسی معاملے کی اصل حقیقت، اس کے قانونی پہلو اور اس کے معاشی و سماجی اثرات کو نظر انداز کر دیا جائے تو پھر معمولی فقہی تعبیرات کے ذریعے ایک سنگین مسئلے کو بھی بظاہر جائز عقود کے سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے، حالانکہ شریعت کا مزاج  کا حسن صرف ظاہری ڈھانچوں پر نہیں بلکہ حقیقی مصالح اور مفاسد پر مبنی ہے۔

اگرچہ حضرت مفتی مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زیدہ مجدہ  نے بعض شرائط کے ساتھ حکومتی اجازت کی صورت میں گنجائش کا ایک علمی احتمال ذکر فرمایا ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ شرط ایسی معلوم ہوتی ہے جسے اہلِ منطق کی تعبیر میں امرِ غیرمترقَّب الوقوع کہا جا سکتا ہے؛ یعنی ایسی صورت جس کا عملی طور پر ظہور ہونا نا ممکن ہو۔ اس لیے محض ایک بعید اور غیرمتوقع مفروضے کی بنیاد پر جواز کو قائم رکھنا محل ِ تامل محسوس ہوتا ہے، خصوصاً جب ریاستی و معاشی نظام اس کے برخلاف مضبوط قانونی اور انتظامی رکاوٹیں کھڑی کرچکا ہو۔

اگر موجودہ دور میں رائج ہنڈی سسٹم کو محض فقہی عنوانات سے ہٹ کر اس کے عملی عرف، معاشی اثرات اور ریاستی نظم کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس میں کئی ایسی قباحتیں سامنے آتی ہیں جو اس کے عدمِ جواز کی طرف دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آج ہنڈی کا نظام اکثر ممالک میں سرکاری مالیاتی ڈھانچے کے بالمقابل ایک غیرقانونی اور غیررجسٹرڈ نظام کے طور پر چل رہا ہے۔ چوںکہ اس کے ذریعے رقوم کی منتقلی ریاستی نگرانی، ٹیکس نظام اور مالیاتی شفافیت سے باہر ہو جاتی ہے، اس لیے حکومتیں اسے ملکی معیشت اور مالی نظم کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہوئے اس پر پابندی عائد کرتی ہیں۔

شریعتِ اسلامیہ میں بھی ایسے قوانین کی پابندی کو ضروری قرار دیا گیا ہے جو عوامی مصلحت اور اجتماعی نظم کے تحفظ کے لیے بنائے جائیں اور شریعت کے کسی قطعی حکم سے متصادم نہ ہوں۔ اسی وجہ سے قرآنِ مجید میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا اور احادیثِ مبارکہ(مَنْ شَذَّ شَذَّ فِی النَّارِ) میں بھی نظمِ اجتماعی کو برقرار رکھنے کے لیے حکام کی اطاعت پر زور دیا گیا ہے۔ لہٰذا جب حکومت کسی خاص مالیاتی طریقے، جیسے مروجہ ہنڈی، کو ممنوع قرار دے دے تو اس پابندی کو نظر انداز کرنا صرف قانونی خلاف ورزی نہیں رہتا بلکہ شرعی اعتبار سے بھی محلِ اشکال بن جاتا ہے۔

خصوصاً فقہِ حنفی میں اس اصول کو مزید وسعت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حاکمِ وقت کو اجتماعی مصالح کے تحفظ کے لیے بعض مباح امور میں بھی نظم و ضبط قائم کرنے کا اختیار حاصل ہے، اور جب وہ کسی معاملے میں باقاعدہ حکم نافذ کردے تو وہ حکم عملی طور پر لازم الاتباع ہوجاتا ہے۔ چناںچہ مشہور حنفی عالم  ابن نجیم اپنی کتاب  اشباہ ونظائر میں کلیہ بیان کرتے ہیں ''حکم الحاکم فی  مسئلۃ الاجتھاد یرفع الخلاف'' اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حکومتی فیصلہ ایسے معاملات میں عملی  اختلاف کو ختم کر دیتا ہے جن میں مختلف آراء کی گنجائش موجود ہو۔ چناںچہ اگر بالفرض ہنڈی کی بعض جزوی صورتوں میں فقہی اعتبار سے گنجائش نکالی جاسکتی ہو، تب بھی جب ریاست اسے معاشی نقصان، منی لانڈرنگ یا مالی بدنظمی اور دہشت گردی  جیسے مضبوط  خدشات کی بنا پر ممنوع قرار دے دے تو اس کے بعد اس میں ملوث ہونا شرعاً بھی درست نہیں رہے گا، کیوںکہ اب معاملہ صرف ایک  شخصی لین دین کا نہیں بلکہ پورے معاشی نظم اور اجتماعی مصلحت کا بن چکا ہے۔

دوسری بڑی شرعی خرابی جو مروجہ ہنڈی سسٹم میں پائی جاتی ہے وہ سود (ربا) کا احتمال اور بعض صورتوں میں اس کا واضح وقوع ہے۔ یہ بات اس وقت سامنے آتی ہے جب ہنڈی محض رقم کی محفوظ ترسیل کے بجائے ایک ایسا مالی تبادلہ بن جائے جس میں ایک ملک میں رقم دے کر دوسرے ملک میں اس سے کم یا زیادہ رقم وصول کی جائے، یا ادائی کو وقت کے ساتھ مشروط کرکے اضافی فائدہ شامل کردیا جائے۔ شریعتِ اسلامیہ کے مطابق کرنسی کا تبادلہ چوںکہ ’’بیع الصرف‘‘ کے تحت آتا ہے، اس لیے اس میں بنیادی شرط یہ ہے کہ تبادلہ فوری ہو اور کسی بھی فریق کو تاخیر یا ادھار کی بنیاد پر اضافی فائدہ حاصل نہ ہو۔ جب ہنڈی کے بعض معاملات میں یہ صورت پیدا ہوتی ہے کہ رقم ایک جگہ جمع کرا کر بعد میں کسی دوسرے مقام پر زائد رقم وصول کی جاتی ہے، یا کرنسی کی منتقلی کے بدلے میں تاخیر یا رسک کے نام پر اضافی رقم لی جاتی ہے، تو یہ عمل ربا النسیئہ کے دائرے میں داخل ہونے کا قوی اندیشہ پیدا کر دیتا ہے۔ اس طرح کے لین دین میں اصل رقم کے بجائے وقت، ضمانت یا ترسیل کے فرق کو مالی فائدے کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے، جو شریعت کی رو سے سودی معاملات کی بنیادی علامات میں شمار ہوتا ہے، اور اسی بنا پر اسے نہایت سنگین شرعی خرابی قرار دیا جاتا ہے۔

مزید برآں، مروجہ ہنڈی کے معاملات عموماً غیررسمی اور غیردستاویزی ہوتے ہیں، جن میں قانونی ضمانت اور تحفظ کا فقدان پایا جاتا ہے۔ چناںچہ فریقین کا اعتماد زیادہ تر ذاتی تعلقات اور غیررسمی واسطوں پر قائم ہوتا ہے۔ اس بنا پر رقم کے ضائع ہوجانے یا بروقت وصول نہ ہونے کا ایک غیرمعمولی خطرہ موجود رہتا ہے۔ فقہی اصطلاح میں ایسی غیریقینی کیفیت، جب وہ معاملے کے بنیادی مقصود کو متاثر کرے، غرر کے مفہوم میں داخل ہوسکتی ہے، جس سے شریعت نے احتراز کی تعلیم دی ہے۔

یہاں تک  ہنڈی کے نظام کے بنیادی شرعی نقائص کو قرآن و حدیث اور فقہی اصولوں کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کی، اور یہ بات سامنے آئی کہ اس کے اندر سود، غرر اور قانونی خلاف ورزی جیسے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اب جب اس پورے معاملے کو صرف نصوص کے زاویے سے نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشی و معاشرتی نظام کے طور پر دیکھا جائے تو کچھ ایسے عملی اور عقلی پہلو بھی سامنے آتے ہیں جو اس کے عدمِ جواز کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

دنیا کا کوئی بھی منظم معاشی نظام آخرکار ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ اور ’’جواب دہی‘‘ پر کھڑا ہوتا ہے۔ یہی اصول تجرباتِ انسانی کا نچوڑ ہے کہ جہاں نگرانی کم زور ہوجائے، وہاں بے قاعدگی، استحصال اور بدعنوانی بڑھنے لگتی ہے۔ ہنڈی اور حوالہ کا غیررسمی نظام اسی بنیادی کی پیداوار ہے کہ اس میں نہ شفاف ریکارڈ ہوتا ہے، نہ ریاستی نگرانی، اور نہ ہی کسی واضح ادارہ جاتی جوابدہی کا تصور۔ نتیجتاً اس میں موجود معمولی بے ضابطگی بھی بڑے پیمانے پر معاشی بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے بجلی چوری کی ایک معروف مثال دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک زمانے میں بعض لوگ یہ رائے رکھتے تھے کہ بجلی چوری کو مکمل طور پر ناجائز قرار دینا درست نہیں، کیوںکہ ان کے نزدیک اس کا نقصان براہِ راست کسی فردِواحد کو نہیں بلکہ حکومت یا بڑی نجی کمپنیوں کو ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ استدلال بھی پیش کیا جاتا تھا کہ جب حکومت عوام کو مناسب سہولیات فراہم نہیں کرتی یا کمپنیاں غیرمعمولی منافع حاصل کرتی ہیں، تو ایسی صورت میں بجلی کے غیرقانونی استعمال کو سخت اخلاقی جرم قرار دینا محل نظر ہے۔ چناںچہ ظاہری طور پر اس عمل کو بعض لوگ ایک قابلِ برداشت یا نسبتاً کم سنگین معاملہ سمجھنے لگے تھے، حالاںکہ حقیقت میں اس کے معاشی اور اجتماعی نقصانات بالآخر پورے معاشرے اور خود عوام ہی کو برداشت کرنا پڑتے ہیں لیکن یہاں ایک بنیادی نکتہ نظر انداز ہوجاتا ہے۔ بجلی کا نظام ہو یا کوئی بھی اجتماعی سہولت، اس کا بوجھ اجتماعی اصولوں پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر کسی محلے میں مثال کے طور پر پچاس یونٹ بجلی چوری ہو جاتی ہے تو کمپنی کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ہر فرد کو الگ الگ ٹریس کرے، اس لیے وہ اس نقصان کو پورے محلہ پر تقسیم کردیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی نقصان بالواسطہ طور پر تمام صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یوں ایک فرد کا عمل اجتماعی بوجھ بن جاتا ہے۔

اگر انہی اصولوں کو ہنڈی اور حوالہ کے موجودہ نظام پر منطبق کیا جائے تو معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔ یہ محض چند افراد کے درمیان رقم کی منتقلی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے مالیاتی نظام، ریاستی معیشت اور عام شہری کی زندگی تک پھیلتے ہیں۔ بظاہر ایک شخص کو اس سے وقتی سہولت یا معمولی فائدہ حاصل ہوجاتا ہے، لیکن جب یہی طرزِعمل اجتماعی صورت اختیار کر لیتا ہے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ریاستی ریونیو متاثر ہوتا ہے، مالیاتی شفافیت کم زور پڑتی ہے، اور بالآخر اس کا بوجھ انہی عام لوگوں پر منتقل ہو جاتا ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ بعض لوگ ہنڈی کے جواز کے لیے حکومتی کمزوریوں، معاشی ناانصافیوں یا نظام کی خرابیوں کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں، لیکن کسی خرابی کا علاج ایک اور بے قاعدہ راستہ اختیار کرنا نہیں ہوتا۔ اگر ہر شخص اپنی سہولت کے مطابق اجتماعی نظام سے ہٹ کر متبادل غیر رسمی ذرائع اپنانا شروع کردے تو پھر نظمِ اجتماعی کا تصور ہی باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام منظم معیشتیں مالیاتی معاملات کو ضابطے اور شفافیت کے دائرے میں رکھنے پر زور دیتی ہیں، کیوںکہ غیررسمی راستے وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں، مگر طویل مدت میں اجتماعی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔

اس لیے مروجہ ہنڈی و حوالہ کا معاملہ صرف ایک فقہی بحث یا شخصی معاملہ نہیں، بلکہ یہ اجتماعی ذمہ داری، معاشی عدل اور سماجی امانت کا مسئلہ بھی ہے۔ جب کسی عمل کے اثرات فرد سے نکل کر پورے معاشرے تک پہنچنے لگیں تو پھر اس کا جائزہ بھی محض شخصی فائدے کی بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے ہمیشہ ایسے معاملات میں اجتماعی مصلحت، شفافیت اور عدل کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اور اسی میں معاشرے، معیشت اور خود افراد کی حقیقی بھلائی بھی پوشیدہ ہے۔  n

Load Next Story