کراچی کی قدیم تعمیرات کا ثقافتی ورثہ بکھر رہا ہے
دن بھر کی شکم سیری اور رات گزارنے کا محفوظ ٹھکا نا۔ بس ان دو احتیاج کے گرد، انسان نے صدیاں گزاردیں۔
بعد ازاں شعور نے اسے کچھ راستے سجھائے، جس کے تحت اس نے بھوک اور ٹھکانے کی مستقل منصوبہ بندی کی کوششیں شروع کیں۔
اس حکمت عملی کے نتیجے میں معاشرے کی تشکیل کی بنیادیں استوار ہونے لگیں۔
یوں جب معاشرتی سماج نے جنم لیا، تو روزگار کے مختلف النوع ذرائع سے ہونے والی آمدنی کے الگ الگ تناسب نے انسانی معاشرے میں طبقاتی تقسیم کو جنم دے دیا۔
اس تقسیم کے نتیجے میں زر کی افراط کے حامل افراد، عین انسانی فطرت کے موجب اپنا اظہار چاہنے لگے۔
غیرسنجیدہ راستوں کے برعکس اس اظہار کے دیگر راستوں میں نسبتاً ایک سنجیدہ راستہ یہ قرار پایا کہ ان کی رہائش گاہ کی تعمیر کا انداز جداگانہ اور منفرد ہو، اور دور سے نظر آنے والے اس کے درودیوار، صاحب خانہ کی حیثیت کا پتا دیتے ہوں۔
ان انفرادی اظہاریوں کے علاوہ اپنے اپنے وقت کی طاقتور سلطنتوں کے شہنشاہوں نے بھی اپنے ادوار میں اپنی طاقت اور حیثیت کے اظہار و دوام کے لئے فن تعمیر کے نادر شاہ کار تخلیق کیے۔
حسن تعمیر کے یہ فن پارے مصری، یونانی، رومی، اسلامی اور مغلیہ عہد کے جدا گانہ عکاس ہیں۔
یونانی عہد کے گول ستون، رومی، دور کی عمارتوں میں محراب اور پھر اسلامی و مغلیہ دور کے فن تعمیر میں گنبد و میناروں کی آمیزش، بتدریج فن تعمیر کو خوبصورتی بخشتے رہے۔ ان ادوار کے یہ تمام فن پاروں کا جائزہ لینے پر معلوم ہوگا کہ یہ سب اپنے عہد کی ثقافت، جمالیاتی ذوق اور دستیاب وسائل کی نشان دہی کرتے ہیں۔
تعمیراتی حسن و جمال کے اس پس منظر میں ہم انگریزوں کے کراچی آمد سے قبل اور پھر بعد کے برسوں میں حکم رانوں اور عوام کے تعمیری ذوق کے ساتھ ساتھ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اٹھارویں، انیسویں اور بیسویں صدی میں نجی و سرکاری شعبے میں منفرد و جدا گانہ طرز تعمیر کے حامل ان خوبصورت ورثے کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔
1729 یعنی اٹھارویں صدی کے تیسرے عشرے میں کراچی کی بندرگاہ پر درآمدی و برآمدی تجارت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی سرگرمیوں کی بنا پر یہاں کچے مکانوں کے سنگ، گراؤنڈ پلس ون عمارات تعمیر ہوئیں۔ یہ عمارت سازی پتھروں، چکنی مٹی اور لکڑی کے ملاپ سے کی گئی، مگر امتداد زمانہ اور عدم توجہی کی بنا پر ایسی کوئی ایک عمارت محفوظ نہ رہ سکی۔ بعد ازآں 1840 ڈ کے آس پاس یعنی انیسویں صدی کے وسط میں انگریزوں کی یہاں آمد سے کاروباری سرگرمیاں ایک بار پھر عروج کو چھونے پر رہائشی مکانات کی قلت کو پورا کرنے کے لئے نبستاً وسیع رقبے پر کہیں ایک اور کہیں دو منزلہ عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ ذاتی رہائش اور کمرشل بنیادوں پر تعمیر کی جانے والی ان عمارات کی ہیئت میں فرق واضح تھا۔ گو کہ ابھی تک ان کے بنیادی اجزاء وہی پتھر، چکنی مٹی اور لکڑی پر ہی مشتمل تھے۔
ایک نمایاں تبدیلی ان عمارتوں میں بالکونیوں کا اضافہ تھا۔ یہ بالکونیاں لوہے کی گرل کی جگہ بانس کی کھپچیوں اور کہیں لکڑی کی پٹیوں سے آراستہ ہوتی تھیں۔ خوش قسمتی سے یہ عمارتیں کراچی کے قدیم علاقوں، کیماڑی، صدر، لی مارکیٹ اور اولڈ ٹاؤن کے دیگر علاقوں میں اب بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک عمارت کراچی کے تعمیری و تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کی جا سکتی ہے۔
بعد ازآں 1890 ء اور 1920 نہ کے درمیان یعنی بیسویں صدی کے آغاز میں عمارات، دل کشی کے ایک خوب صورت دور میں داخل ہوئیں۔ جب انھیں تراشیدہ اور منقش پتھروں سے تعمیر کیا جانے لگا۔ ان پتھروں کو ریت اور چونے کے آمیزے سے جوڑا جاتا تھا۔ طرزتعمیر کا یہ انداز، ذاتی جاہ و جلال کا ایک بہترین اظہار تھا۔ ان ہی وقتوں میں ذاتی، رفاہی اور انتظامی امور کی ادائی کے لیے قائم کی جانے والے یہ شاہ کار اب بھی کراچی کے قدیم علاقوں میں بوسیدہ یا قابل رہائش حالت میں ثقافتی ورثے کے امینوں کے منتظر ہیں۔
1925 کے بعد گھروں کی بالکونیوں میں لوہے کی گرل لگانے کا آغاز ہوا۔ بلاشبہہ یہ دور کراچی کے مکینوں کی باہمی رواداری کی ایک اعلیٰ مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
بالکونیوں میں لوہے کی گرل کے رواج پانے پر رہائشی عمارتوں کے اکثر مالکان اپنی مذہبی شناخت یا دیگر وابستگیوں کو ان لوہے کی گرل میں آشکار کرنے لگے۔ مثلاً مسلمان اپنی رہائشی عمارت کی بالکونیوں کی گرل پر اکثر چاند تارے کی شبیہہ کندہ کرواتے، تو ہندو ’’اوم‘‘ کندہ کرواتے۔ سکھ حضرات اپنے مذہبی پیشوا کی تصویر کے ساتھ مذہبی نشان میں دل چسپی رکھتے تھے۔ یہودیوں کے مکانات کی گیلریوں پر ان کا مذہبی نشان ڈیوڈ اسٹار لگا ہوتا۔ ان مذہبی علامتوں سے ہٹ کر کچھ حضرات مہاتما گاندھی کی تصویر اور کچھ ملکہ برطانیہ کی تصویر میں دل چسپی رکھتے کہیں ہندوستان کے راجہ اور مہاراجہ بھی نظر آجاتے۔ سازوآواز سے دل چسپی رکھنے والے اپنے مکانوں کی گیلریوں پر گراموفون کندہ کرواتے۔ ان علامات کی حامل عمارات بھی کراچی کے قدیم رہائشی علاقوں بولٹن مارکیٹ، صدر، جوبلی، پاکستان چوک اور اردو بازار کے آس پاس کے علاقوں میں رکھوالوں کی منتظر ہیں۔
بیسویں صدی میں انگریزوں کے دور کی کراچی میں قائم کی گئی عمارات برصغیر کے روایتی آرکیٹیکچر انداز سے یکسر مختلف تھیں۔ ابتداء میں انہوں نے 'فیرئیر ہال‘ اور ’میری ویدر ٹاور‘، وکٹورین اور گوتھک طرز پر تعمیر کیا۔ بعد کے عرصے میں بندر روڈ پر قائم ’کے ایم سی‘ کی عمارت کی تعمیر میں ہندوستانی، مصری اور یونانی فنِ تعمیر کے امتزاج کو اپنایا۔ بلا شبہ یہ حسین اور پر شکوہ عمارت کراچی کے ماتھے کا جھومر ہے۔ کراچی کے دامن میں اس کی تاریخ کے اوراق، منفرد طرز تعمیر اور ثقافتی ورثے کے ایسے انمول شاہکار کے طور پر بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ اینٹ، گارے اور پتھر کے ڈھانچے نہیں بلکہ شہر کی تاریخ کا تسلسل ہے۔
اس تاریخ کو بچائے رکھنا متعلقہ حکام کے ساتھ اس شہر کے مکینوں کا بھی فرض ہے۔