نواز شریف اور سردار قیوم

آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج نے مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان مرحوم کی یاد تازہ کر دی۔ سردار صاحب سادہ مزاج آدمی تھے۔

farooq.adilbhuta@gmail.com

آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج نے مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان مرحوم کی یاد تازہ کر دی۔ سردار صاحب سادہ مزاج آدمی تھے۔ کراچی تشریف لاتے تو مہنگے ہوٹلوں میں قیام کرنے کے بہ جائے قصر ناز میں ٹھہرتے۔ قصر ناز سرکار کے زیر انتظام چلنے والا سادہ سا ریسٹ ہاؤس ہے جس کی حالت ان دنوں قابل رحم ہے۔ وہ تشریف لاتے تو ایک سویٹ ان کے لیے بک ہو جاتا۔ وہ یہیں کارکنوں سے ملتے۔ سرکاری مصروفیات نمٹاتے اور صحافیوں سے ملاقات فرماتے۔ ایک بار تشریف لائے تو استاد گرامی سعود ساحر کے توسط سے ان سے ملاقات ہوئی۔ برادر عزیز ارشاد محمود بھی ساتھ تھے۔

اِن دنوں انھوں نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا، اب تو ماشااللہ ان کا شمار نمایاں اہل فکر میں ہوتا ہے۔ وہ اس سیاست کا زمانہ تھا جسے نوے کی دہائی کی سیاست کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں محمد نواز شریف کے درمیان تلخیوں میں بسی ہوئی سیاست۔یہ عین وہی زمانہ تھا جب مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند بھی بھارتی سامراج کو للکار رہے تھے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ اس دیو استبداد کا طلسم اب ٹوٹا کہ ٹوٹا۔ فطری طور پر گفتگو کا آغاز یہیں سے ہوا۔ مقبوضہ کشمیر تحریک آزادی کے جس ماڈل پر کام ہو رہا تھا، اِس پر ان کے تحفظات تھے ۔ہمارے سوالات کا سلسلہ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہوا اور آزاد کشمیر تک پہنچا۔ آزاد کشمیر اور پاکستان جیسے یک جان اور یک قالب ہیں، اسی طرح گفتگو بھی احساس دلائے بغیر پاکستانی سیاست کی طرف مڑ گئی۔

پاکستان میں ان دنوں دو موضوعات زیر بحث تھے۔ ٹھیک سے یاد نہیں، مغرب اور خاص طور پر امریکا سے اس قسم کی آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیے جانے کا خدشہ ہے یا جلد یا بدیر یہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔ محترم قاضی حسین احمد صاحب ان دنوں جماعت اسلامی کے امیر تھے جن کی گفتگو اور حکمت عملی قومی سیاست ہی کو زیر و زبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی بلکہ افغانستان والے بھی امید بھری نظروں سے ان کے سرخ و سپید چہرے اور کشادہ پیشانی کی طرف دیکھا کرتے تھے۔

 سوویت یونین کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکا ہمارا بازو مروڑ رہا تھا اور چاہتا تھا کہ افغانستان کا مستقبل اس کے احکامات کے مطابق حل کیا جائے جب کہ پاکستان مزاحمت کر رہا تھا۔یہ ایک طرح کی بلیک میلنگ تھی۔ دبا ؤمیں کچھ اور اضافہ ہو گیا تو قاضی حسین احمد صاحب نے ایک بیان میں کہہ دیا کہ وہ ہمیں دیوالیہ کرنا چاہتے ہیں یا دہشت گرد قرار دینا چاہتے ہیں تو یہ شوق بھی پورا کر لیں، ہم تیار ہیں۔ قاضی صاحب کے بیان سے قومی سطح پر بحث چل نکلی۔ سردار صاحب کے ساتھ انٹرویو میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سردار صاحب کے جواب نے ہمیں حیران کر دیا۔

انھوں نے فرمایا کہ قاضی صاحب کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان کو دہشت گرد یا دیوالیہ ملک قرار دیا جائے۔

' سر، انھوں نے یہ بات دو ٹوک کہی ہے۔'

ہم نے کہا تو وہ مسکرائے اور کہا قاضی صاحب کا بیان جیسے کو تیسا(Tit for Tat) کی تعریف میں آتا ہے۔ سیاست دان جب کوئی بات کہتا ہے تو اس کے معنے صرف وہی نہیں ہوتے جو بہ ظاہر دکھائی دیتے ہیں۔ زیرک سیاست دان کی باتوں میں بہت کچھ پس پردہ بھی ہوتا ہے۔ سیاست کو سمجھنا ہے تو… سردار صاحب نے ابھی اتنا ہی کہا ہو گا کہ چائے آ گئی اور سردار صاحب نے شفقت کے ساتھ کہا کہ پہلے چائے پی لیجیے۔ چائے ہمارے سامنے رکھ دی گئی تو انھوں نے وہ بات مکمل کی جس میں چائے کی آمد نے رخنہ ڈال دیا تھا. انھوں نے فرمایا:

'  کسی بھی معاملے یا گفتگو کے سمندر میں اترنا سیکھو۔'

نوجوان ذہن مزید الجھ گئے لہٰذا ہم نے سوال کیا کہ پھر فیصلہ کیسے ہو گا؟ انھوں فرمایا کہ ہمیں دہشت گرد قرار دیے جانے کا چیلنج درپیش ہے تو سب سے پہلے کرنے کا کام یہ ہے کہ ایک بیلنس شیٹ بنا لی جائے جس کے ایک طرف دہشت گرد قرار دیے جانے کے فائدے لکھ لیں اور دوسری طرف نقصانات۔ فیصلہ آسان ہو جائے گا۔ سردار صاحب نے نہایت آسانی کے ساتھ ہمیں ایک سبق دے دیا تھا۔

سبق یہ تھا کہ ہر تصویر کا دوسرا بلکہ تیسرا رخ بھی ہوتا ہے۔ ان رخوں کو دیکھنے کا طریقہ کیا ہے، یہ ہر کوئی نہیں جانتا۔ سردار صاحب نے اس روز ہمیں یہ طریقہ بھی سکھا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاست ہو یا زندگی کا کوئی بھی پہلو، توازن ہی وہ خوبی اور نعمت ہے جس کے بطن سے کامیابی برآمد ہوتی ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ سردار صاحب توازن کا پیکر تھے۔ کچھ سال اوپر تین دہائیاں گزرتی ہیں، سردار نے اس روز بیلنس شیٹ بنا کر فیصلہ سازی کا جو سبق سکھایاتھا، اُس نے زندگی کا اسلوب بدل دیا۔

توازن کے اسی پیکر نے اس روز ایک بات اور بھی کہی جو نا تجربہ کاری کے اس زمانے میں مجھے بہ ظاہر غیر متوازن لگی۔ سردار صاحب نے کہا تھا' نواز شریف فرزند پاکستان بھی ہے اور فرزند کشمیر بھی۔ کشمیر کی آزادی ہو یا پاکستان کا سنہری مستقبل، میری تمام تر امیدیں اسی سے وابستہ ہیں۔'

یہ بات میں نے سنی تو معنی خیز نظروں سے شاہ صاحب یعنی سعود ساحر کی طرف دیکھا۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو الجھتے نہیں، مزید سوال کرتے ہیں۔ ہمیں مزید سوال نہیں کرنے پڑے۔ سردار صاحب کی باتیں عقدے کھولتی چلی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو بڑے مسائل ہیں جن کا تعلق براہ راست پاکستان کی سلامتی اور استحکام سے ہے۔ ان میں ایک کشمیر کا مسئلہ ہے اور دوسرے کا تعلق پاکستان کی معیشت سے ہے۔ ان دونوں مسائل کی اہمیت کا جیسا شعور اور ان کے حل کا نقشۂ کار جس وضاحت کے ساتھ نواز شریف کے ذہن میں ہے، صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے برصغیر میں کسی کے ذہن میں نہیں۔

آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج نے سردار صاحب کی یاد تازہ کر دی۔ ان نتائج نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ کشمیر کی سیاست کو محض نعروں اور وقتی جذبات سے نہیں، اس کے گہرے سیاسی شعور اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلق کے وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی سردار صاحب کی قبر کو نور سے بھر دے، مجھے یقین ہے کہ ان کی بے پایاں دانش کے گل بوٹے سرزمین کشمیر پر ہمیشہ خوشبو دیتے رہیں گے، ان شا اللہ۔

Load Next Story