بدلتی ہوئی تاریخ
www.facebook.com/shah Naqvi
کیا تاریخ واقعی گزرے ہوئے کل کا ایک ایسا ٹھوس ریکارڈ ہے جسے کبھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ یا پھر یہ کہ ہر آنے والی نسل اپنی سیاست اور طاقت کے مطابق اسے دوبارہ لکھتی ہے۔ یہ بہت گہرا سوال ہے۔ اگر تاریخ انسانوں نے لکھی ہے تو کیا یہ کبھی مکمل طور پر غیر جانبدار ہو سکتی ہے۔ ماضی کے بارے میں ہم کچھ مان لیتے ہیں۔ اس میں سے کتنی تاریخی حقیقت ہے اور کتنا حصہ صرف مخصوص بیانیے پر مشتمل ہے۔
یہ سوالات اس لیے بھی انتہائی ضروری ہیں کیونکہ عام طور پر لوگ تاریخ کو ایک پتھر پر لکیر سمجھ لیتے ہیں۔ یعنی جو لکھا گیا وہی بس سچ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخ گزرے ہوئے واقعات کا کوئی بے جان مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی کی بہت مشہور کتاب بدلتی ہوئی تاریخ کے سب سے اہم پہلو کے مطابق روایتی نظریات کو پرکھنا ہے۔ جو نسلوں سے ہمیں سکھائے جاتے ہیں۔ اور یہ سمجھنا ہے کہ معاشرے اور سیاسی نظام کس طرح تاریخ کے دھارے کو مسلسل بدلتے ہیں۔ اگر اس پر تھوڑا غور کیا جائے تو تاریخ کسی آئینے کی طرح نہیں ہے۔ جو بس جیسا ہے ویسا عکس دکھا دے۔ بلکہ تاریخ تو ایک ایسی پینٹنگ کی طرح ہے جسے ہر نیا مصور ہر نیا دور اپنے رنگوں سے دوبارہ بناتا ہے۔
یہ پینٹنگ والی مثال بہت خوب ہے۔ "سب سے پہلا اور بنیادی سوال جو ذہن میں آتا ہے کہ تاریخ آخر لکھتا کون ہے اور کس کے لیے لکھی جاتی ہے"۔ کیونکہ کتاب اس بات پر بہت زور دیتی ہے کہ دنیا کے تمام معاشروں میں ایک خاص اور عام کے درمیان ہمیشہ سے ایک واضح فرق موجود رہا ہے۔ یہ فرق صرف دولت اور وسائل تک محدود نہیں رہا ۔ خاص طبقہ جسے ہم اعلیٰ طبقہ کہتے ہیں وہ اپنی اہمیت جتانے اور اپنے اقتدار کو جائز قرار دینے کے لیے ہمیشہ سے شجرہ یعنی نسبی سلسلوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہ شجرے عوام کو بتاتے ہیں کہ ان پر حکومت کرنے والے کسی اعلیٰ نسل سے ہیں۔
ان کا خون عام لوگوں سے مختلف ہے۔ کتاب میں نادر شاہ کی مثال دی گئی ہے جو اس پورے تصور کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ نادر شاہ والا واقعہ جب نادر شاہ کے بیٹے کی شادی ایک مغل شہزادی سے ہو رہی تھی۔ مغلوں کو اپنے شجرے پر بہت فخر تھا۔ تو انھوں نے نادر شاہ سے اس کے بیٹے کا حسب و نسب مانگا۔ ان کا خیال ہو گا کہ کوئی لمبا چوڑا شاہی خاندان کا حوالہ ملے گا۔ لیکن نادر شاہ کا جواب سننے والا تھا۔ اس نے کہا شمشیر ابن شمشیر ابن شمشیر۔ یعنی تلوار کا بیٹا تلوار اور اس کا بیٹا تلوار۔ اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بتا دیا تھا کہ میری اصل پہچان میری طاقت ہے۔ یہ اتنا گہرا بیان تھا کہ اصل شجرہ میری طاقت ہی ہے۔
کسی طاقت اور طبقاتی تقسیم کے اثرات کو سمجھنے کے لیے سال 800 عیسوی میں ایک اسلامی معاشرے کا بڑا دلچسپ حوالہ دیا گیا ہے۔ اس وقت کے ایک نظریے کے مطابق معاشرے کو واضح درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے نمبر پر حکمران تھے جو طاقت کی علامت تھے، دوسرے پر وزراء جو دانشمندی کی علامت تھے۔
تیسرے پر امراء تھے جن کے پاس دولت تھی۔ چوتھے پر متوسط طبقہ جو تعلیم یافتہ تھا۔ اور اس درجہ بندی میں سب سے نیچے چوتھے جس کو پڑھ کر ایک عجیب سا احساس ہوتا ہے کہ عوام کو گندے نچلے درجے کی حیوان نما مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ مطلب اعلیٰ طبقے نے عوام کو انسانیت کے درجے سے ہی نکال دیا تھا تاکہ ان پر حکومت کرنا اخلاقی طور پر جائز لگے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں سبولٹین تاریخ کا نظریہ سامنے آیا ہے۔ سبولٹین ہسٹری۔ اس ہسٹری میں دراصل انھی دبائے گئے کچلے ہوئے اور پسماندہ طبقات کی تاریخ کو سامنے لانے کی کوشش ہے۔
ڈاکٹر مبارک علی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صدیوں تک مورخین نے صرف بادشاہوں کی جنگوں محل کی سازشوں اور اعلیٰ طبقے کے شجروں کو ہی تاریخ سمجھا۔ یعنی عام آدمی کا تو کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔ لیکن جدید مورخین اب اس عمل کو بدل رہے ہیں۔ وہ حکمرانوں کے بجائے ان نچلے طبقوں، کسانوں ، مزدوروں اور عوامی تحریکوں کو تاریخ کا مرکز بنا رہے ہیں تاکہ ان داستانوں کو زندہ کیا جا سکے۔ جنھیں طاقتوروں نے ہمیشہ کے لیے دبا دینے کی کوشش کی تھی۔ ایک عام کسان کی زندگی میں تو کوئی بڑے واقعات نہیں ہوتے۔ اگر مورخ صرف کسانوں کی کہانیاں لکھنا شروع کر دے تو کیا ہم ان اہم اور بڑے فیصلوں سے بے خبر نہیں رہ جائیں گے۔ جو اس دنیا کا نقشہ بدلتے ہیں۔کھیت کسان اگاتا ہے۔ قلعے مزدور بناتا ہے اور جنگوں میں کس کا خون بہتا ہے ایک عام سپاہی کا۔ اگر صرف حکمرانوں کے فیصلے کو تاریخ مان لیا جائے تو یہ صرف نصف حقیقت ہو گی۔ یعنی آدھا سچ۔ تاریخ کو ایک عام فرد کی نظر سے دیکھنا بہت ضروری ہے۔
کتاب میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ حکمران طبقہ اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے اور عوام کی سوچ کو محدود رکھنے کے لیے تعلیم کو کیسے استعمال کرتا ہے۔ تعلیم کا فرق یعنی سلیبس الگ الگ تھے۔ تاریخ میں شہزادوں اور امراء کی اولادوں کو قابوس نامہ جیسی اعلیٰ درجے کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں۔ ان کتابوں میں انھیں اٹھنے بیٹھنے کے آداب ، ڈپلومیسی اور گفتگو کی تربیت اور حکمرانی کے پیچیدہ گر سکھائے جاتے تھے۔ جب بات عام لوگوں کی آتی تھی تو ان کے لیے جو نصاب تیار کیا جاتا تھا۔ اس کی بنیاد صرف اطاعت گزاری اور تابعداری پر مبنی ہوتی تھی۔ انھیں بس یہ سکھایا جاتا تھا کہ حکمران کی اطاعت ہی اصل کامیابی ہے اور بغاوت سب سے بڑا گناہ۔