چوٹ

اپنی اس چوٹ کا ذکر‘ بہت ہی کم لوگوں سے کیا۔ اس پورے مسئلہ میں حمزہ نے میری بڑی مدد کی

کوئی دو ماہ قبل ‘گھر کی بیسمنٹ میں بڑے آرام سے جا رہا تھا۔ روزانہ ‘ ان گنت بار‘ ان سیڑھیوں پر چڑھنے اور اترنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ کبھی ‘ کسی طرح کا مسئلہ نہیں پیش آیا۔ مگر اس دن‘ توقع سے بالکل برعکس ‘ پیر پھسلا‘ اور میں بڑی شدت سے پختہ فرش پر گر گیا۔

دراصل ‘ ایک زینے پر پوری طرح پیر جما نہیں پایا۔ میرا بایاں گھٹنا ‘زور سے فرش پر لگے ہوئے پتھر سے ٹکرایا۔ اس وقت تو مجھے کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔ کمرے میں جا کر سو گیا۔ صبح اٹھا تو گھٹنے میں شدید تکلیف تھی۔ ڈاکٹر ہوں ۔بڑے آرام سے چوٹ کو دیکھا تو ششدر رہ گیا۔ پہچان ہی نہیں پایا کہ یہ میرے ہی جسم کا کوئی حصہ ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پورا گھٹنا ‘ بھرپور طریقے سے سوج چکا تھا۔ اسے ناپا تو وہ اپنے نارمل حجم سے تین گنا بڑا ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘ ٹانگ اور متاثرہ حصے کا رنگ بھی تبدیل تھا۔ جلد کے نیچے‘ مکمل طور پر سرخ خون جمع تھا۔بستر سے اٹھنے کی کوشش کی‘ تو بائیں گھٹنے پر وزن نہ پڑ سکا ۔ حد درجہ پریشان کن صورت حال تھی۔ گھر میں اکیلا تھا۔ کیونکہ اہل خانہ ملک سے باہر گئے ہوئے تھے، بڑے بیٹے کے پاس۔ اس کا اصرار تھا کہ ہم سب ‘ چند دنوں کے لیے اس کے پاس رہنے آ جائیں۔ میں ‘ کاروباری مصروفیات کی بدولت نہ جا پایا۔ مگر اہل خانہ چلے گئے۔

اب صورت حال یہ تھی کہ چلنا محال تھا۔ اور گھر پر کوئی بھی نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے‘بیڈ روم سے نکل کر‘ لاونج میں آیا۔ یہ دونوں بیسمنٹ میں ہی ہیں۔ صوفہ پر بیٹھ کر‘ دوبارہ چوٹ کو دیکھا۔ تو حیرت زدہ رہ گیا۔ سوجن اتنی زیادہ تھی کہ یقین نہیں آتا تھا۔ درد اور خون کا منجمد ہونا ساتھ شامل تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔ جب چل نہیں سکتا تو اسپتال تک کیسے پہنچا جائے۔ اور وہاں بھی کیا ہو گا۔ ایمرجنسی میں ڈیوٹی ڈاکٹر بھی ناتجربہ کار ہی ہوتے ہیں۔نجی اسپتال کی بات عرض کر رہا ہوں۔ سرکاری اسپتال کی ایمرجنسی آج بھی پرائیویٹ شعبے سے قدرے بہتر ہے۔ بحیثیت ڈاکٹر عرض کر رہا ہوں۔

لاہور بلکہ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی پر مختلف حکومتوں نے خاص الخاص توجہ دی ہے۔لاہور میں آج بھی‘ دل کے دورے کا جتنا بہترین علاج‘ پنجاب انسیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہوتا ہے، بڑے سے بڑے نجی اسپتال میں ممکن نہیں ۔ بالکل اسی طرح میواسپتال کی ایمرجنسی بھی بہت فعال ہے اور وہاں بہت محنتی اسٹاف موجود ہوتا ہے۔ مگر مسئلہ تو یہ بھی تھا کہ جہاں میں آج کل رہ رہا ہوں۔ وہاں نزدیک کوئی بھی حکومت کا اسپتال موجود نہیں ہے۔ خیر‘ پہلے دن ‘ دوائیاں‘ خود ہی میڈیکل اسٹور سے منگوائیں۔میڈیکل اسٹور سے فون پر دوائیاں منگوانے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔

یہاں یہ بات ضرور کرنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر‘ بحیثیت مریض‘ سب سے زیادہ مشکل انسان ہوتا ہے۔ اسے اپنی چوٹ‘ یا مرض کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔مگر بات یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ دراصل ‘ ہر ڈاکٹر کو اپنے مرض کی Complications کا بھرپور طریقے سے ادراک ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ چوٹ یا مرض‘ آگے بڑھ کر کیا ر خ اختیار کرسکتا ہے۔ اوریہی سب سے بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ اگر آپ کو ادراک نہ ہو کہ مرض بگڑ کر کیا رنگ اختیار کر سکتا ہے تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر ڈاکٹر کی حیثیت سے یہ معلومات سوہان روح بن جاتی ہیں۔ آپ کو وہم ہو جاتا ہے کہ ہو نہ ہو‘ کوئی نہ کوئی مشکل ‘ اس چوٹ کے ساتھ ضرور وارد ہو گی۔ خیر میں نے اپنے چھوٹے بیٹے‘حمزہ حیات کو فون کیا۔ وہ میرے گھر کے سیکنڈ فلور پر رہتا ہے۔

امریکا کی نیویارک یونیورسٹی سے قانون پڑھ کر ‘ واپس اپنے ملک میں آیا ہے ۔ اور اپنی عمر اور تجربہ کے حساب سے بہت اچھی پریکٹس کر رہا ہے۔ اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ میں اپنی تکلیف تو برداشت کر سکتا ہوں، پر اولاد کو پریشان دیکھنا‘ حقیقت میں‘ میرے بس کی بات نہیں۔ درد کم کرنے کی دوائیوں سے علاج شروع کیا۔ اتنی دیر میں حمزہ بھی پہنچ گیا۔ میں نے اسے صرف یہ بتایا کہ مجھے گھٹنے پر چوٹ لگی ہے۔ مگر‘ اس کی شدت کتنی ہے ، اس کی بابت خصوصاً کچھ نہ بتایا۔ وہ کہنے لگا کہ آپ فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ مشورہ تو درست تھا۔ مگر مجھے معلوم تھا کہ ایکس رے کے بغیر کسی بھی اچھے سرجن کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مگر جب چل ہی نہیں سکتا تھا تو ایکس رے سینٹر تک کیسے پہنچا جائے۔

چنانچہ دو تین دن‘ میں صرف‘ درد کی شدت کم کرنے کی دوائیاں کھاتا رہا۔ ان سے یہ وقتی فائدہ تو ہوا کہ درد ‘ کافی حد تک کم ہو گیا۔ مگر چلنے میں دشواری بدستور تھی۔ خیر‘ ٹھیک تین دن بعد ایکس رے کروانے کے قابل ہوا۔ ایکس رے سے کم از کم یہ تسلی تو ہو گئی کہ کوئی ہڈی نہیں ٹوٹی۔ مگر پٹھے اور Ligaments کے متعلق بالکل اندازہ نہیں ہو پایا۔یہ صرف ایم آر آئی ہی سے ممکن ہے۔خیر ایکس رے رپورٹ لے کر ڈاکٹر وقار فاروقی کے پاس گیا۔ جو ایک بہترین آرتھو پیڈک سرجن ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر‘ ایک نایاب اور عمدہ انسان ہے۔ وہ جس خوش دلی سے‘ اپنے مریضوں کو دیکھتا ہے۔ وہ عنصر ‘ اب ڈاکٹروں میں کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہ بھی بتاتا چلوں کہ وقار فاروقی‘ میرا کلاس فیلو بھی ہے۔

وقار نے جب گھٹنا دیکھا تو اس نے پہلا فقرہ یہ کہا کہ منظر‘ بہت ٹھیک ٹھاک چوٹ آئی ہے۔ اس نے حد درجہ مہارت سے پوری ٹانگ چیک کی۔ اور کہا‘ کہ پورا گھٹنا زخمی ہے۔اس پر یا تو پلستر کرنا پڑے گا۔ جو ایک حد درجہ تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گھٹنے کو Immobleکر دیا جائے۔ اس کے لیے میڈیکل اسٹور سے ایک پیڈ ملتا ہے۔ خیر‘ میں نے پلستر نہیں کروایا۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہے کہ ڈاکٹر وقار فاروقی نے کیا ہی نہیں۔ خیر‘ اب پیڈ لگا کر صوفے پر لیٹ گیا۔ مگر جب پیڈ باندھتا تھا ۔ تو گھنٹے کی تکلیف بڑھ جاتی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ‘ گھٹنے سے تھوڑا سا اوپر ‘ خون منجمد ہو چکا تھا۔ اور جب اس پر کوئی بھی چیز لگتی تھی تو شدت کی تکلیف ہوتی تھی۔ خیر دو ہفتے ‘ صوفے پر لیٹا رہا۔ رات کو پیڈ اتار لیتا تھا۔ ڈھائی سے تین ہفتوں میں جلد‘ اپنے فطری رنگ میں آ گئی۔ سوجن بھی کم ہو گئی۔

مگر چلنے پھرنے میں تکلیف تھی اور آج بھی ہے۔ دوبارہ ڈاکٹر وقار سے مشورہ کیا۔ تو اس نے Heating Pad لگانے کی تجویز دی۔ میرے پاس‘ ہیٹنگ پیڈ موجود تھا۔ چنانچہ ‘ دن میں تین چار دفعہ‘ تقریباً ایک گھنٹہ گھٹنے پر حدت پہنچانا شروع کیا ۔ اس سے کافی فرق پڑا۔ جب گھنٹے کو گرمائش پہنچ جاتی تھی تو چلنا پھرنا آسان ہو جاتا تھا۔ درد کی شدت میں بھی کمی آ جاتی تھی۔ مگر دو چار گھنٹے بعد‘ تھوڑی سی تکلیف دوبارہ عود کر آتی تھی۔ مگر اب آہستہ آہستہ تمام دوائیاں چھوڑ چکا ہوں۔ منجمد خون کا ابھار بھی قدرے کم ہو چکاہے۔ سیڑھیاں بھی آہستہ آہستہ چڑھ لیتا ہوں۔ بحیثیت ڈاکٹر ‘ علم ہے کہ اس چوٹ کو نارمل ہونے میں کم از کم پانچ سے چھ ماہ لگیں گے۔

اب گاڑی بھی چلا سکتا ہوں۔ پر بہت زیادہ محتاط ہوں۔دن میں دو چار بار ہیٹنگ پیڈ ضرور استعمال کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔یہاں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں  کہ ہمارے نجی شعبے میں اچھے اور قابل ڈاکٹر تک پہنچنا‘ مرض کے آدھے علاج کے برابر ہے۔ خدانخوستہ اگر آپ بدقسمتی سے کسی غیر سنجیدہ معالج کے ہتھے چڑھ گئے تو یقین مانئے کہ مرض کا ٹھیک ہونا تو دور کی بات ‘ مختلف حیلے بہانوں سے آپ کے مالی معاملات بھی دگرگوں ہو جائیں گے۔

 اپنی اس چوٹ کا ذکر‘ بہت ہی کم لوگوں سے کیا۔ اس پورے مسئلہ میں حمزہ نے میری بڑی مدد کی۔ کہیں سے ایک چھڑی بھی لے آیا۔ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن چلنے کے لیے مدد کی ضرورت پڑے گی۔ بہرحال‘ دو ہفتے تو چھڑی کے سہارے ہی چلتا رہا۔ اس کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا۔ اب دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ مگر اب یہ سب کچھ لکھنے کو اس لیے دل چاہا کہ ہم لوگ ‘ اپنی صحت پر زیادہ توجہ نہیں دیتے ۔ ہر امر کو ایک روٹین میں سمجھتے ہیں۔ بغیر سہارے کے چلنے پھرنے کو بھی ہم ایک معمول سا گردانتے ہیں۔ مگر جب‘ اس روٹین میں کوئی خلل آتا ہے تو پھر معلوم پڑتا ہے کہ صحت اور انسانی جسم کی ہر طرح سے تندرستی کتنی اہم چیز ہے۔ اس کا کوئی نعم البدل موجود ہی نہیں ہے۔

ذرا سوچیے! آپ کے پاس دنیا کی ہر آسائش موجود ہوں۔ مگر آپ چل پھر نہ سکیں‘ تو کیا محسوس ہو گا؟ صرف گزارش کر سکتا ہوں کہ اپنی صحت کو قطعاً معمولی حیثیت سے نہ دیکھیں۔ اپنے آپ کی قدر کیجیے ۔ ورنہ ایک چوٹ‘ اس طرح اپاہج بنا سکتی ہے‘ کہ آپ صرف اور صرف دوا اور دعا کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال سے ہر قیمت پر بچیے۔ کیونکہ صرف ایک چوٹ‘ آپ کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل سکتی ہے؟

Load Next Story