فیکٹ چیک: کنگنا رناوت پر حملے کی وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کنگنا رناوت ہیں

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک خاتون کو گاڑی سے باہر نکلنے کے بعد ہجوم کی جانب سے دھکے دینے، بال کھینچنے اور تشدد کا نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پولیس اہلکار ہجوم سے خاتون کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون بھارتی اداکارہ اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت ہیں اور انہیں جین زی سے متعلق متنازع بیان پر مشتعل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

ایک فیس بک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کنگنا رناوت کو ان کے متنازع بیان پر مشتعل ہجوم نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ دعویٰ غلط ہے:

ایکسپرس نیوز نے اس دعوے کی تحقیق کی تو پتا لگا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔

وائرل ویڈیو میں موجود خاتون کنگنا رناوت نہیں بلکہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رہنما پرنایتا داس ہیں، جنہیں 30 جولائی کو مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی کوتوالی پولیس اسٹیشن کے باہر مبینہ طور پر مظاہرین کی جانب سے دھکے دیے گئے اور ہراساں کیا گیا۔

وائرل ویڈیو پر مغربی بنگال کے نیوز ادارے ’جے ڈی ایس نیوز‘ کا لوگو بھی موجود ہے۔ اسی ادارے نے 30 جولائی کو اپنے فیس بک پیج پر ویڈیو کی واضح ورژن شیئر کی تھی، جس میں خاتون کی شناخت پرنایتا داس کے طور پر کی گئی تھی۔

خلاصہ:

واضح رہے کہ کنگنا رناوت حالیہ دنوں میں جین زی سے متعلق اپنے بیانات کے باعث خبروں میں رہی ہیں۔ انہوں نے طلبہ احتجاج کے دوران بعض نوجوانوں کے انداز اور زبان پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’گٹر جنریشن‘ قرار دیا تھا، جس پر سوشل میڈیا پر انہیں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم وائرل ویڈیو کو کنگنا رناوت پر حملے سے جوڑنا غلط ہے اور ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کنگنا نہیں بلکہ ٹی ایم سی رہنما پرنایتا داس ہیں۔

Load Next Story