سمندر کی ہزاروں میٹر گہرائی میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

تحقیق کے مطابق ہر سال تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ ٹن سے زائد پلاسٹک سمندروں میں شامل ہوتی ہے

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کے ذرات سمندر کی ہزاروں میٹر گہرائی میں واقع ایسے ماحولیاتی نظام تک بھی پہنچ چکے ہیں جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی، جس سے سمندری آلودگی کے پھیلاؤ پر نئی تشویش جنم لے رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق ہر سال تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ ٹن سے زائد پلاسٹک سمندروں میں شامل ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ پلاسٹک ٹوٹ کر نہایت باریک ذرات، یعنی مائیکرو پلاسٹک، میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو سمندری دھاراؤں کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پھیل جاتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ ذرات نہ صرف سمندری حیات کے لیے خطرہ بن رہے ہیں بلکہ غذائی زنجیر کے ذریعے انسانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں ساحلی علاقوں اور سمندر کی سطح پر مائیکرو پلاسٹک کی آلودگی کی تصدیق ہو چکی تھی۔ تاہم، گہرے سمندر میں موجود ماحولیاتی نظام پر اس کے اثرات کے بارے میں معلومات بہت محدود تھیں۔

محققین کے مطابق خاص طور پر سمندر کی تہہ میں موجود آتش فشانی وینٹ سسٹمز پر پلاسٹک آلودگی کے اثرات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ یہ منفرد گہرے سمندری ماحول سورج کی روشنی کے بغیر بھی مختلف اقسام کی حیات کو سہارا دیتے ہیں اور اب ان میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

Load Next Story