ایران نے پاکستان سمیت مسلم ممالک کی افواج پر مشتمل سیکیورٹی اتحاد کی تجویز پیش کردی
آبنائے ہرمز کے معاملے پر بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران نے امریکی دھمکیوں کا سخت جواب دیا۔
ایران نے نیٹو کی طرز پر مسلم ممالک پر مشتمل فوجی دستے کی تجویز پیش کردی جس کا مقصد اسلامی سیکیورٹی اتحاد کو فروغ دینا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابنِ رضا نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایران، ترکی، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور دیگر اسلامی ممالک پر مشتمل مشترکہ سیکیورٹی اتحاد قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
جنرل سید مجید کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی صرف خطے کے ممالک ہی یقینی بنا سکتے ہیں جبکہ خطے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی عدم استحکام میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
قائم مقام وزیر دفاع نے اتوار کو ترک وزیر دفاع یشار گولر سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہا کہ حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ علاقائی سلامتی کا انحصار خطے کے ممالک کے باہمی تعاون پر ہونا چاہیے، نہ کہ بیرونی فوجی قوتوں پر بھروسہ کیا جائے۔
بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابنِ رضا نے ایران، ترکی، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور دیگر اسلامی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ علاقائی سیکیورٹی نظام تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اتحاد سے خطے کو بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور مستقل امن کی راہ ہموار ہوگی۔
انھوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت خطے میں استحکام کی بحالی اور دوست و ہمسایہ ممالک کی درخواست پر طے کی گئی تاہم امریکا کے ماضی کے طرزِ عمل کی وجہ سے ایران کو اس پر مکمل اعتماد نہیں۔
ایرانی قائم مقام وزیر دفاع نے غزہ، لبنان، شام اور ایران میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی حمایت نے اسرائیل کو مزید جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا موقع دیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا حزب اللہ کے خلاف نیا محاذ کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے پورا مشرق وسطیٰ ایک نئے سیکیورٹی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
انہوں نے شام اور لبنان میں اسرائیل کی مجوزہ سیکیورٹی زونز کی پالیسی کو بھی خطے میں وسیع تر بحران کی تمہید قرار دیا۔