بلوچستان کے مسائل
salmanabidpk@gmail.com
بلوچستان کا معاملہ محض بلوچستان کے معاملات تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری مجموعی سیکیورٹی کا بحران ہے ۔اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح کی اختیار کی جانے والی مختلف پالیسیوں میں تضاد دیکھنے کو ملتا ہے۔
بلوچستان میں جہاں خارجی عوامل یعنی بھارت اور افغانستان کی مداخلت یا پاکستان مخالف پراکسی جنگ جیسے مسائل سرفہرست ہیں وہیں داخلی سطح کے مسائل بھی ہیں جو بلوچستان کی سطح پر ہونے والی دہشت گردی میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔
جو معلومات ہمیں بلوچستان کے حوالے سے آرہی ہیں وہ کافی تلخ ہیں اور ان کو ہم مکمل معلومات بھی نہیںکہہ سکتے ۔کیونکہ جو آزاد زرائع خبریں دے رہے ہیں وہ کافی تشویش کے پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہونے کی بجائے اس کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
بلوچستان کے معاملات کی خرابی میں چند برس نہیں لگے بلکہ کئی دہائیوں سے ہم اس صوبہ کے بحران کے شکار میںگرفتار ہیں اور اس کے حل میں جو بھی ہم نے سیاسی ،انتظامی اور سیکیورٹی کی حکمت عملی اختیار کی اس سے کوئی بڑا مثبت نتیجہ ہم عملا نہیں نکال سکے۔
اس میں سیاسی اور غیر سیاسی حکومتیں اور ان کے فیصلے بھی ناکامی کی وجہ بنے ہیں۔ ہمیں بلوچستان کی صورتحال کے درست ادراک کو بنیاد بناکر حقیقی صورتحال کا تجزیہ کرنا ہوگا اور ان امور کی نشاندہی کرنا ہوگی کہ ہم سے کہاں غلطیاں ہورہی ہیں۔
بالخصوص جب تک ہم اپنے داخلی مسائل اور خامیوں کو تسلیم نہیں کریں گے، آگے بڑھنے کے لیے درست حکمت کو اختیار کرنا کسی بھی صورت میں ممکن نہیںہوگا۔اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چیزوں کو نظرانداز کرکے یا لوگوں سے حقایق کو چھپا کر حالات کو درست کرسکتے ہیں تو ہمیں اس غلط فہمی سے بھی باہر نکلنا ہوگا۔ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں ہم کسی بھی صوبے یا علاقے کے مسائل کو نہ تو چھپا سکتے ہیں اور نہ ہی اس پر پردہ ڈال سکتے ہیں۔
اس طرز کا طرز عمل حکومت اور شہریوں کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرتا ہے ۔اصل میں کسی بھی علاقے میں ریاستی رٹ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔لیکن دہشت گرد چاہیں وہ داخلی ہوں یا خارجی بلوچستان کی سطح پر ہماری حکومت کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں اور دہشت گردی جیسے واقعات سے ہمیں کمزور کرنے کے کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے اور جوان فورسز مسلسل دہشت گردوں کا مقابلہ بھی کررہے ہیں اور اس مقابلہ میں اپنی بڑی جانوں کا نذرانہ بھی دے رہے ہیں اور ہمیں ان جوانوں پر فخر تھا ،ہے اور ہونا چاہیے۔
کیونکہ اگر یہ جوان وہاں ان حالات کا مقابلہ نہ کرتے یا کررہے ہوتے تو ہمارے ملکی سیکیورٹی کے حالات اور زیادہ خراب ہوتے ۔لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاسی سطح پر بھی اور سیاست یا وفاقی یا صوبائی حکومت کی سطح پر سیاسی اور سماجی حالات کا ادراک بہت کم ہے۔
اگر صوبائی حکومت کا بہت سے معاملات پر اپنا کنٹرول ہی نہیں ہوگا اور لوگ اس پر اعتماد نہیں کرتے تو پھر صوبے کے مسائل کا حل کیسے ممکن ہوگا۔ابھی تک ہم بلوچستان کے معاملات پر مقامی سیاسی قیادت اور جماعتوں کو مسائل کے حل میں جوڑنے یا ان سے مشاورت کرنے اور باہمی اتفاق رائے پیدا کرنے کی نہ تو حکمت عملی اختیار کرسکے اور نہ کوئی مشترکہ حکمت عملی کو سامنے لایا جاسکے۔
حکومت کو سیاسی حکمت عملی کے تحت ایسے لوگوں کو یہ ذمے داری دینی چاہیے جو حکومت اور دیگر سیاسی گروپوںکے درمیان مذاکرات کرائے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان کو حکومت کی سطح پر مذاکرات کا مکمل اختیار اور فیصلوں میں ان کی شمولیت کو ممکن بنایا جائے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت پر اعتبار کیا جائے اور ان کو موقع دیا جائے کہ مسائل کے حل میں اپنا کلیدی کردار ادا کرسکیں۔
خود مولانا فضل الرحمن کو بھی مزاکرات کے عمل میں حصہ دیا جائے۔اسی طرح یہ سمجھنا ہوگا کہ بلوچستان کے مسائل محض انتظامی نوعیت کے نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق سماجی،معاشی اور انسانی حقوق دیگر بنیادی حقوق سے جڑے ہوئے ہیں۔بلوچستان کی گورننس کا مسئلہ بھی سنجیدہ ہے مگر ہم صوبے کے ان معاملات کو عملا نظرانداز کرکے وہاں کے لوگوں کی متبادل آوازوں کو سننے کے لیے تیار نہیں۔
متبادل آوازوں کو تسلیم نہ کرنے کی سوچ نے مقامی لوگوں میں حکمرانی سے دوری پیدا کی ہے ۔حالیہ اکنامک سروے2025-26میں بھی صوبے کی سطح پر جو سیاسی،سماجی اور معاشی اعداد وشمار سامنے آئے ہیں وہ صوبائی گورننس اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ملکی سطح پر 18 ویں ترمیم کے باوجود صوبائی حکومت کی کمزور کارکردگی اس کی ناکامی ہے۔
بلوچستان کے معاملے میں وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی بھی درست نہیں۔ایک ایسا صوبہ جو عملا دہشت گردی کا شکار ہے اس پر وفاقی حکومت کی عدم دلچسپی اور اس کی ساری ذمے داری دوسروں پر ڈال کر خود کو بچانے کی پالیسی بھی درست نہیں۔
سیاسی ذمے داری سیاسی جماعتوں اور وفاقی یا صوبائی حکومت پر ڈالنی چاہیے اور ان کو ہر سطح پر جوابدہ بناناچاہیے۔اصل میں بلوچستان کے لوگوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ حکومت ان کے مسائل کا حل سیاسی بنیادوںپر تلاش کرنے کے لیے تیارنہیں۔اس نقطہ پر حکومت اور مختلف جماعتوں کی سطح پر بات چیت ہونی چاہیے اور مسائل کا حل سیاسی اور قانونی فریم ورک میں ہی تلاش کرنا ہوگا۔
حالیہ واقعات نے ہی عملی طور پر بلوچستان کے حالات کو خراب کیا ہے۔اصل میں بلوچستان کے لوگوں کو ایک مضبوط سیاسی نظام جمہوریت کی بنیاد پر درکار ہے یا اس میں مقامی حکومتوں کے نظام کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے تاکہ ان کو اوپر سے لے کر نچلی سطح تک جمہوری عمل کا حصہ بنایا جائے اور ان کی مقامی فیصلہ سازی میں شرکت ان کے حکومت پر اعتماد کو بحال کرنے کا سبب بنے گا۔
سیاسی لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ وسائل پر قابض ہیں مگر ناکامی کا سارا بوجھ دوسروں پر ڈالتے ہیں۔اس لیے ریاستی اداروں کو بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
جہاں تک بھارت اور افغانستان کی مداخلت کا تعلق ہے تو اس کا مقابلہ بھی دو سطحوں پر کیا جاسکتا ہے۔اول دنیا کے ساتھ سفارت کاری کی بنیاد پر اور دوسرااپنے داخلی مسائل کی درستگی کی بنیاد پر ۔یہ مقابلہ تن تنہا نہیں ہوسکتا اور اس میں ایک بڑے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ محض خارجی ڈپلومیسی نہیں بلکہ ہمیں بلوچستان کے بحران کے حل کے لیے پہلے داخلی ڈپلومیسی کی بھی ضرورت ہے۔کیونکہ یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگر ہم داخلی طور پر کمزور ہونگے اور لوگ ہم پر اعتماد نہیں کریں گے تو پھر پاکستان دشمن قوتیں ہمارے داخلی حالات اور کمزوریوں کا فایدہ اٹھا کر ہماری ریاست رٹ کو دہشت گردی کی بنیاد پر چیلنج کرتی ہیں۔
اس لیے داخلی بحران کا حل بنیادی کنجی کے زمرے میں آتا ہے۔خاص طور پر صوبے کی سیاسی قیادت سمجھتی ہے کہ وفاق اور ان کے درمیان توازن کی ضرورت ہے۔ حکومت کی پالیسی بلوچستان کے لوگوں کو جوڑنے سے ہونی چاہیے اور ان میں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ حکومت ان کے مسائل کے ساتھ کھڑی ہے۔
اگر ہم یہ طے کرلیں کہ ہم نے بلوچستان کے تمام معاملات کا حل سیاسی بنیادوں پر نکالنا ہے تو پھر اس کے لیے ہمیں سیاسی اور سیکیورٹی کی سطح پر بھی ایسی ہی ٹیم کو منتخب کرنا ہوگا جو حکومت کی مدد سے سیاسی راستہ نکالنے میں پہل کرے اور جو لوگ سیاسی حل کے مخالف ہیں ان کے خلاف آخر میں طاقت کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے،لیکن پہلی ترجیح سیاسی حل ہی ہے۔