نیتن یاہو نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر اعتراض اٹھا دیا، حماس سے متعلق نئی شرط رکھ دی

نیتن یاہو نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے مرکزی ایلچی نکولائے ملادینوف سے ملاقات کے بعد دیا

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ سے متعلق حالیہ معاہدے کے معاملے پر ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی تعمیرِ نو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حماس کو غیر مسلح نہ کیا جائے اور غزہ کو مکمل طور پر عسکری سرگرمیوں سے پاک نہ کر دیا جائے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے مرکزی ایلچی نکولائے ملادینوف سے ملاقات کے بعد دیا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ غزہ سے متعلق حالیہ معاہدے پر صدر ٹرمپ سے اپنے اختلافات کو نہیں چھپاتے۔ ان کے مطابق اسرائیل کا مؤقف واضح ہے کہ حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنا ہوں گے اور غزہ کو مکمل طور پر غیر فوجی علاقہ بنایا جانا چاہیے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جب تک یہ بنیادی شرائط پوری نہیں ہوتیں اس وقت تک غزہ کی تعمیرِ نو یا طویل المدتی استحکام کی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور مستقبل کے کسی بھی سیاسی یا سفارتی معاہدے میں سکیورٹی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ غزہ کے مستقبل، حماس کے کردار اور تعمیرِ نو کے طریقہ کار پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جو مستقبل کے مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Load Next Story