امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو سنگین نتائج ہوں گے، ایران کی سخت وارننگ
تہران: ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو خطے میں موجود امریکی بحری جہازوں اور فوجی اہلکاروں کو سنگین خطرات اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور واشنگٹن کو اپنی موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا تو امریکی بحریہ اور اس کی افواج کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ تاہم انہوں نے اپنی اس وارننگ کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
محسن رضائی نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی متبادل یا دوسرے بحری راستے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ میں ایران کے مقرر کردہ راستے کے علاوہ کسی نئے بحری کوریڈور کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے جولائی میں ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی تھی۔
امریکی اقدام اس وقت سامنے آیا جب جون میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت آبنائے ہرمز کے انتظام اور کنٹرول سے متعلق اختلافات کے باعث مؤثر نہ رہ سکی۔
سیاسی اور دفاعی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی پر براہِ راست اثرات مرتب کر سکتی ہے۔