لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں مذاکرات کا ساتواں دور روم میں شروع

ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو سفارتی ذرائع سے کم کرنے کی کوشش کرنا ہے

روم: لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کا ساتواں دور اٹلی کے دارالحکومت روم میں شروع ہو گیا ہے، جہاں دونوں فریق فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق مختلف امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔

لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے این این اے کے مطابق مذاکرات میں سرحدی اور سکیورٹی معاملات سمیت فریم ورک معاہدے سے متعلق زیر التوا نکات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو سفارتی ذرائع سے کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے ان مذاکرات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات لبنان کے لیے ذلت، رسوائی اور مسلسل سمجھوتوں کے سوا کچھ نہیں لائیں گے۔

ایک ٹیلی وژن خطاب میں نعیم قاسم نے لبنانی صدر جوزف عون کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو تمام فریقوں کے درمیان غیر جانبدار کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ اس کے بجائے ایک جانب جھکاؤ رکھنے والے اور تقسیم پیدا کرنے والے کردار میں نظر آ رہے ہیں، جو ان کے منصب اور لبنان کے قومی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

حزب اللہ رہنما نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے بجائے مضبوط قومی مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔

روم میں جاری یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں، جبکہ امریکا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مذاکرات کا یہ نیا دور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاہم حزب اللہ کی سخت مخالفت مستقبل میں کسی بھی ممکنہ پیش رفت کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

Load Next Story