کیا آپ کے بال بھی تیزی سے گر رہے ہیں؟ اس کی وجوہات اور نگہداشت کے آسان طریقے جانیے
بالوں کا جھڑنا ایک عام مسئلہ ہے جو مردوں اور خواتین دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ بعض افراد میں بالوں کا گرنا عارضی ہوتا ہے، جبکہ کچھ لوگوں میں یہ بتدریج بڑھتے ہوئے گنج پن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بالوں کے جھڑنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں غذائی کمی، ہارمونز میں تبدیلی، ذہنی دباؤ، بعض بیماریوں اور موروثی عوامل سمیت بالوں پر کی جانے والی بعض کیمیائی مصنوعات کا زیادہ استعمال شامل ہے۔
گنج پن کی ممکنہ وجوہات
بالوں کے غیر معمولی جھڑنے کی چند عام وجوہات میں ناقص یا غیر متوازن غذا، آئرن اور بعض غذائی اجزا کی کمی، ہارمونز میں عدم توازن، خون کی کمی، ذہنی دباؤ اور بعض طبی مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔
خواتین میں ہارمونز سے متعلق بعض مسائل بھی بالوں کے جھڑنے کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں ادویات یا طبی علاج کے اثرات بھی بالوں کی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔
بالوں کو جھڑنے سے بچانے کے لیے چند احتیاطیں
بالوں کی مجموعی صحت بہتر رکھنے کے لیے روزمرہ معمولات میں چند تبدیلیاں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
- متوازن اور پروٹین سے بھرپور غذا استعمال کریں۔
- آئرن، وٹامنز یا دیگر غذائی اجزا کی کمی کا شبہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
- بالوں اور سر کی جلد کو باقاعدگی سے صاف رکھیں۔
- بالوں پر کیمیائی مصنوعات اور ہیئر ٹریٹمنٹس کا غیر ضروری استعمال کم کریں۔
- گیلے بالوں میں سختی سے کنگھی کرنے سے گریز کریں۔
- مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
- ذہنی دباؤ کم کرنے اور مناسب نیند لینے کی کوشش کریں۔
- بالوں میں کوئی بھی نیا تیل یا گھریلو نسخہ استعمال کرنے سے پہلے جلد پر اس کا معمولی حصہ لگا کر حساسیت کا جائزہ لے لیں۔
گھریلو ٹوٹکا: پیاز کا رس سر کی جلد پر لگائیں
گھریلو ٹوٹکوں میں پیاز کے رس کو بالوں کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ بھی عام ہے۔ اس مقصد کے لیے پیاز کا رس نکال کر سر کی جلد پر لگانے اور کچھ دیر بعد دھونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
تاہم پیاز کے رس کو گنج پن کا یقینی یا مکمل علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حساس جلد رکھنے والے افراد میں اس سے جلن یا الرجی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے استعمال سے قبل احتیاط ضروری ہے۔
ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟
اگر بال تیزی سے جھڑ رہے ہوں یا سر کے کسی حصے میں واضح طور پر بال کم ہوگئے ہوں تو صرف گھریلو نسخوں پر انحصار کرنے کے بجائے ماہرِ جلد سے مشورہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔