مصنوعی ذہانت کے دور میں ذمے دارانہ صحافت کی ضرورت
نیوز روم کی وہ رات مجھے آج بھی یاد ہے۔ اسکرین پر ایک ویڈیو آئی، ہو بہو حقیقی، آواز جانی پہچانی، مگر جیسے ہی اسے دوبارہ دیکھا تو کچھ عجیب سا لگا۔ نہ آنکھ کا جھپکنا فطری تھا، نہ ہونٹوں کی حرکت آواز سے پوری طرح میل کھا رہی تھی۔ وہ ویڈیو جعلی تھی، ایک ڈیپ فیک۔ اسی رات مجھے احساس ہوا کہ آج کے صحافی کا اصل امتحان خبر دینا نہیں، بلکہ یہ جاننا ہے کہ خبر سچی بھی ہے یا نہیں۔
یہی سوال لے کر میں چند دن پہلے ایک ایسی ورکشاپ میں پہنچا جس نے میری اس الجھن کا جواب دینے کی کوشش کی۔ ورکشاپ ’’ڈیجیٹل ٹرسٹ اینڈ فری ایکسپریشن اِن دی اے آئی ایرا‘‘ کے عنوان سے ڈپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ ڈیولپمنٹ کمیونی کیشن، یونیورسٹی آف دی پنجاب میں منعقد کی گئی، جو یو ایس مشن ٹو پاکستان کی معاونت اور پاکستان۔ یو ایس ایلمنائی نیٹ ورک (PUAN) کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔
ایک ایسے صحافی کے طور پر جو گزشتہ ڈیڑھ سال سے پروگرامنگ پروڈکشن اور نیوز اینکرنگ سے وابستہ ہو، یہ نشست میرے لیے محض ایک تربیتی سیشن نہیں بلکہ ایک آنکھ کھولنے والا تجربہ ثابت ہوئی۔
ورکشاپ کا آغاز ایک ایسے موضوع سے ہوا جس نے سب کو چونکا دیا: AI Hallucinations، یعنی مصنوعی ذہانت کا خود سے جھوٹی یا فرضی معلومات تخلیق کرلینا۔ مقررین نے واضح کیا کہ AI اعتماد سے بات کرتا ہے، مگر اعتماد کا مطلب سچائی نہیں۔ صحافی کے لیے سبق سیدھا تھا: ٹول جو بھی بتائے، تصدیق کیے بغیر شائع نہ کریں۔
اس کے بعد گفتگو کا رخ فیکٹ چیکنگ، ویریفکیشن اور ڈیجیٹل ٹرسٹ کی طرف مڑا۔ ایک بات جو دل پر نقش ہوگئی، وہ یہ تھی کہ کسی بھی میڈیا ادارے کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے ناظرین کی تعداد نہیں بلکہ ان کا اعتماد ہے، اور اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ کمانا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
ڈیپ فیک اور کانٹینٹ کی ہیرپھیر پر ہونے والی نشست نے مجھے وہ نیوز روم والی رات دوبارہ یاد دلا دی۔ بتایا گیا کہ آج کی اے آئی ٹیکنالوجی اتنی ترقی یافتہ ہو چکی ہے کہ جعلی ویڈیو اور انسانی تصویر کو آنکھ سے پہچاننا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے، اسی لیے ویژیول ویریفکیشن کے جدید ٹولز اور تکنیکس سیکھنا اب صحافی کے کام کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔
اخلاقی صحافت اور اے آئی کے ذمے دارانہ استعمال پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بات واضح طور پر سامنے آئی: مصنوعی ذہانت صحافی کا معاون ہوسکتی ہے، اس کا نعم البدل نہیں۔ حقائق کی تلاش، غیر جانبداری اور عوامی مفاد کا تحفظ، یہ وہ ذمے داریاں ہیں جو کوئی الگورتھم صحافی سے نہیں چھین سکتا۔
’رسپانس ایبل ڈیجیٹل اسٹوری ٹیلنگ‘ کے سیشن نے ایک اور اہم نکتہ اجاگر کیا: ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر مواد بناتے وقت مقصد صرف زیادہ ویوز یا وائرل ہونا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ مواد معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، یا کسی فرد و گروہ کے حقوق کو نقصان تو نہیں پہنچا رہا۔
ورکشاپ کے اختتام پر ڈیجیٹل دور میں صارفین کے اعتماد حاصل کرنے پر بات ہوئی، اور یہی وہ نکتہ تھا جس نے پوری نشست کا لب لباب سمو دیا: میڈیا کی کامیابی ناظرین کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے اعتماد سے ناپی جاتی ہے۔
پروگرامنگ پروڈکشن اور نیوز اینکرنگ، دونوں شعبوں میں کام کرنے کے تجربے نے مجھے یہ سکھایا تھا کہ ٹیکنالوجی اپنانا آسان ہے، مگر اسے ذمے داری سے استعمال کرنا اصل چیلنج ہے۔ اس ورکشاپ نے اس سبق پر مہر ثبت کردی کہ اے آئی ایک طاقتور اوزار ضرور ہے، مگر انسانی فیصلہ، تنقیدی سوچ اور تصدیق کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوگی۔ ایسی نشستیں نوجوان صحافیوں کو نہ صرف نئے چیلنجز سے روشناس کراتی ہیں بلکہ انہیں ایک ذمے دار، بااعتماد اور پیشہ ورانہ صحافی بننے کا راستہ بھی دکھاتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں سے سیکھا گیا ہر سبق میری آئندہ صحافتی زندگی میں میرا ساتھ دے گا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔