غزہ میں 3 سال بعد ملبے سے نکالی گئی 112 شہدا کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی

22 نومبر2023 میں اسرائیل کے الصابرا میں حملے میں متعدد رہائشی عمارتوں میں 300 افراد دب کر شہید ہوگئے تھے

غزہ میں رہئشی عمارتوں پر اسرائیلی حملے میں 300 افراد شہید ہوگئے تھے

غزہ کے علاقے الصابرا میں نومبر 2023 کی اسرائیلی بمباری کے تقریباً تین سال بعد ملبے سے نکالی گئی 112 فلسطینیوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نمازِ جنازہ کے موقع پر فضا سوگوار تھی۔ میتوں کو فلسطینی پرچموں میں لپٹے تابوت میں جلوس کی صورت میں قبرستان لایا گیا جہاں لواحقین اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ان میں ایسے کئی خاندان بھی تھے جنھوں نے ایک ہی دن میں اپنے متعدد عزیزوں کی تدفین کی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ تین سال تک اپنے پیاروں کی لاشوں کے انتظار نے ان کے زخم کبھی بھرنے نہیں دیے۔ 

غزہ کی شہری دفاع نے بتایا کہ شہدا یہ لاشیں غزہ شہر کے الصابرا محلے میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارتوں کے ملبے سے تقریباً 136 گھنٹے کی مسلسل ریسکیو کارروائی کے بعد نکالی گئیں۔

شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر شہدا الحسینہ ابو شریعہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے جبکہ برآمد ہونے والوں میں 40 بچے بھی شامل ہیں۔ اسی مقام پر اب بھی 157 افراد کی لاشیں ملبے تلے دبی ہونے کا خدشہ ہے۔

غزہ کی شہری دفاع کا کہنا ہے کہ محدود مشینری، ایندھن کی کمی اور تباہ حال انفراسٹرکچر کے باعث ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کی تلاش انتہائی مشکل ہے۔

امدادی کارکنوں کے مطابق بہت سے علاقوں میں اب بھی ایسی عمارتیں موجود ہیں جہاں لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور انہیں نکالنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

دریں اثنا ترکیہ، مصر اور قطر نے غزہ میں جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

ان ممالک نے زور دیا کہ شہریوں، اسپتالوں اور طبی مراکز کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت یقینی بنایا جانا چاہیے اور تمام فریق جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

2023 کا ہولناک حملہ

یہ سانحہ 22 نومبر 2023 کو پیش آیا تھا جب اسرائیلی فضائی حملے میں الصابرا کے رہائشی بلاک کی متعدد عمارتیں منہدم ہو گئی تھیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق اس حملے میں 308 افراد شہید ہوئے تھے۔ اس وقت شدید بمباری اور محدود وسائل کے باعث صرف چند درجن لاشیں ہی نکالی جا سکی تھیں جبکہ باقی افراد ملبے تلے دبے رہ گئے تھے۔

Load Next Story