امریکی ویزا پالیسی میں بڑی تبدیلی، پاکستانیوں کو 20 ہزار ڈالر کی مالی ضمانت سے استثنیٰ مل گیا
واشنگٹن: امریکا نے اپنے ویزا بانڈ پروگرام کو مستقل پالیسی کا حصہ بنا دیا ہے، تاہم پاکستان اس پروگرام میں شامل ممالک کی فہرست میں شامل نہیں، جس کے باعث پاکستانی شہریوں کو امریکی وزیٹر ویزا حاصل کرنے کے لیے 20 ہزار ڈالر تک کی مالی ضمانت جمع کرانے کی شرط کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
بین الاقوامی آن لائن جریدے کے مطابق امریکا نے 2025 میں متعارف کرائے گئے ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام کو مستقل شکل دے دی ہے۔ اس پروگرام کے تحت بعض ممالک کے شہریوں کو کاروباری یا سیاحتی ویزا حاصل کرنے کے لیے 10 ہزار سے 20 ہزار امریکی ڈالر تک کی قابلِ واپسی مالی ضمانت جمع کرانا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق نئے قوانین کے تحت ویزا بانڈ کی زیادہ سے زیادہ حد 15 ہزار ڈالر سے بڑھا کر 20 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے۔
اس پروگرام میں بنگلا دیش، نیپال اور متعدد افریقی ممالک سمیت تقریباً 50 ممالک شامل کیے گئے ہیں، جبکہ پاکستان، بھارت، افغانستان اور ایران اس فہرست کا حصہ نہیں ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی شہریوں پر امریکی وزیٹر ویزا حاصل کرنے کے لیے ویزا بانڈ جمع کرانے کی نئی شرط لاگو نہیں ہوگی اور وہ پہلے سے رائج ویزا درخواست کے طریقہ کار کے مطابق ہی درخواست دے سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق امریکی حکومت نے یہ پروگرام ان ممالک کے لیے متعارف کرایا ہے جہاں سے ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام جاری رکھنے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے واقعات نسبتاً زیادہ رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس فہرست میں شامل نہ ہونا پاکستانی درخواست گزاروں کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ انہیں اضافی مالی ضمانت کی شرط پوری نہیں کرنا پڑے گی۔