افغانستان میں مہنگائی اور بے امنی پر طالبان مخالف آوازیں بلند ہونے لگیں
(فوٹو: فائل)
افغانستان میں مسلسل بڑھتی مہنگائی اور بے امنی پر طالبان مخالف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔
طالبان حکومت کے خلاف افغانستان میں مسلح مزاحمت اور عوامی ردعمل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ملک میں جاری صورتحال، ہوشربا مہنگائی اور ظلم و زیادتی سے تنگ شہری اب کھل کر طالبان حکومت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
کابل سے ایک افغان شہری نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ طالبان حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ طالبان کے خلاف افغان عوام کو خود اٹھنا ہوگا کیونکہ انہیں بچانے کے لیے کوئی اور نہیں آئے گا۔
ویڈیو پیغام میں افغان شہری نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ افغانستان کو طالبان سے آزاد کرایا جائے اور ان کا خاتمہ کیا جائے۔ شہری نے طالبان حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے عوام سے مزاحمت کی اپیل بھی کی۔
دوسری جانب جلال آباد کے ایک شہری نے بھی طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کا کہنا تھا کہ جلال آباد، جو ماضی میں انگوروں اور زرعی پیداوار کی وجہ سے مشہور تھا، اب ظلم اور جبر کا گڑھ بن چکا ہے۔
جلال آباد کے شہری نے کہا کہ مقامی لوگ طالبان کے ظلم کا شکار ہیں جبکہ ملا ہبۃ اللہ کو اس کی خبر تک نہیں۔ شہری کے مطابق طالبان اپنے نظریات کے برعکس یہود و ہنود کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت اور عوامی ردعمل نے ظاہر کیا ہے کہ شدت پسند حکومت کو وسیع پیمانے پر مخالفت کا سامنا ہے۔