ٹرمپ کی ایک پوسٹ سے کروڑوں ڈالر کمانے کا نیا طریقہ؟ امریکی صدر کی کمپنی پر نئی تنقید
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا ہے جب یہ انکشاف سامنے آیا کہ کمپنی نے وال اسٹریٹ کی بعض مالیاتی کمپنیوں کو ٹروتھ سوشل پر شائع ہونے والی اہم پوسٹس تک چند لمحے پہلے رسائی فراہم کرنے کی سروس متعارف کرا دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کی اس نئی سروس کو "Truth API" کا نام دیا گیا ہے، جس کے ذریعے ادارہ جاتی صارفین کو ٹروتھ سوشل کے بااثر اکاؤنٹس کی پوسٹس عام صارفین سے ملی سیکنڈز پہلے موصول ہو سکیں گی۔
رپورٹس کے مطابق اگرچہ کمپنی نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی اکاؤنٹ بھی اس سروس کا حصہ ہے یا نہیں تاہم ٹرمپ ٹروتھ سوشل کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے صارف ہیں اور ان کے بیانات اکثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور فنانشل ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق اس سروس کی ماہانہ فیس ایک لاکھ امریکی ڈالر تک ہو سکتی ہے تاہم کمپنی نے اس قیمت کی تصدیق نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق یہ سروس یکم اگست سے ادارہ جاتی صارفین کے لیے دستیاب ہونا شروع ہو گئی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سروس کا مقصد ہائی فریکوئنسی اور الگورتھمک ٹریڈنگ کرنے والی کمپنیوں کو تیز رفتار ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ وہ خودکار نظام کے ذریعے مارکیٹ میں فوری فیصلے کر سکیں۔
دوسری جانب ناقدین نے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سابق امریکی صدر جارج بش کے دور میں وائٹ ہاؤس کے اخلاقی امور کے مشیر رچرڈ پینٹر نے کہا کہ اگر سرکاری نوعیت کی معلومات یا پالیسی سے متعلق بیانات مالی فائدے کے لیے پہلے فراہم کیے جائیں تو اس سے اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت جیسے قانونی اور اخلاقی سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
امریکی سینیٹرز الزبتھ وارن اور ایڈم شف نے بھی امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اس سروس کی قانونی حیثیت اور ممکنہ اثرات کی تحقیقات کی جائیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر اس سے چند سرمایہ کاروں کو غیر معمولی برتری حاصل ہوتی ہے تو یہ مارکیٹ کی شفافیت اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سروس صرف عوامی معلومات کی تیز تر ترسیل فراہم کرتی ہے اور اس کا اندرونی معلومات سے کوئی تعلق نہیں۔ کمپنی کے مطابق ناقدین آزاد منڈی کے اصولوں کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالواسطہ طور پر کمپنی کے تقریباً 41 فیصد حصص کے مالک ہیں، جو ایک ٹرسٹ کے ذریعے ان کے بچوں کی نگرانی میں ہیں، اس لیے کمپنی کی آمدنی میں اضافے سے انہیں بھی مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سروس بڑے سرمایہ کاروں کو عام صارفین کے مقابلے میں معمولی وقت کی برتری بھی فراہم کرتی ہے تو اس کے مالیاتی منڈیوں، سرمایہ کاری کے نظام اور حکومتی اخلاقیات پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔