نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے جیل ملاقات کی درخواست دائر

اسٹیبلشمنٹ کو ہماری بات سننی اور عمران خان کو ہماری بات سمجھنی ہوگی، رہنما نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی فواد چودھری

فوٹو فائل

اسلام آباد:

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے جیل ملاقات کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئی۔

درخواست گزاروں میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، سابق گورنر عمران اسماعیل، محمود مولوی اور بیرسٹر سیف شامل ہیں۔ درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ہوم پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں جیل حکام کے مبینہ نامناسب رویے اور بدسلوکی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ بانی کے دوست ہونے کی وجہ سے ان کی صحت اور خیریت پر شدید تشویش ہے، بانی اور بشریٰ بی بی کی مسلسل گرتی ہوئی صحت اور خیریت پر گہری تشویش ہے۔

درخواست کے مطابق بانی کے اہلِ خانہ، دوستوں اور قریبی رشتہ داروں کو کئی ماہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، ملاقاتوں پر پابندی کے باعث سوشل میڈیا پر افواہوں اور قیاس آرائیوں کو ہوا مل رہی ہے، ملاقات نہ ہونے سے عوامی سطح پر بے چینی اور تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سیاسی استحکام، آئین کی بالادستی اور قومی مصالحت کے لیے عدالت سے رجوع کیا، بانی سے ملاقاتوں پر پابندی آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 سمیت جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے، بانی کو ملاقاتوں سے محروم رکھنا اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے بھی منافی ہے، پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت بانی سے جیل میں ملاقات اور انٹرویو کی اجازت دی جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سپرنٹنڈنٹ جیل کو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے وفد کی بانی اور بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کروانے کا حکم دے، ملاقات کے لیے مناسب وقت مقرر کیا جائے تاکہ بانی اور بشریٰ بی بی کی صحت، ویلفیئر اور قانونی تحفظ کا جائزہ لیا جا سکے۔

درخواست فیصل فرید ایڈووکیٹ کے توسط سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی مرضی کے بغیر تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہو سکتی، ہماری اپروچ مختلف ہے اور ہم بات چیت کے ذریعے چیزیں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کو ہماری بات سننی اور عمران خان کو ہماری بات سمجھنی ہوگی۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ ہم حکومت اور مقتدرہ سے بھی بار بار مل کر اس موقف کا اعادہ کر چکے ہیں، ہمارا موقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ڈائیلاگ میں شامل کرنا ضروری ہے کیونکہ بانی کو ڈائیلاگ میں شامل کیے اور رائے کے بغیر کوئی بھی بڑا فیصلہ جو پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہو نہیں لیا جا سکتا۔

بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت ہمیں ملاقات کی اجازت دے، میں خاص طور پر مقتدرہ اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی یہ درخواست کروں گا کہ وہ بھی ہمیں سہولت فراہم کرتے ہوئے ٹینشن اور محاذ آرائی کی فضا کم کریں۔

Load Next Story