تھائی لینڈ؛ دورانِ پرواز خاتون کیساتھ نازیبا حرکات پر پاکستانی سیاح گرفتار

30 سالہ علی رضا کو پرواز کے لینڈ کرتے ہی ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا

تھائی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ہرجانہ کا مطالبہ بھی کریں گی

اٹلی سے تھائی لینڈ جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز میں 33 سالہ خاتون نے الزام عائد کیا کہ ایک پاکستانی مسافر نے انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا جب کہ ان کی 4 سالہ بیٹی گود میں سو رہی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہوائی جہاز کے عملے نے خاتون کی شکایت پر فوری طور پر عمل کرتے ہوئے دورانِ پرواز ہی پولیس کو آگاہ کردیا اور جیسے ہی طیارہ بینکاک کے ڈان میوانگ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا تو پاکستانی مسافر 30 سالہ رضا علی کو حراست میں لے لیا گیا۔

تھائی خاتون بیوٹ پیمپاپورن نے پولیس کو بتایا کہ پرواز اٹلی کے شہر میلان سے دبئی کے راستے بینکاک واپس آ رہی تھیں جو تقریباً چھ گھنٹے کی طویل پرواز بنتی ہے اور میں دوران پرواز اپنی بیٹی کو گود میں لیے سو رہی تھی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ میری گہری نیند کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ساتھ کی نشست پر بیٹھے پاکستانی مسافر نے میرے ساتھ نازیبا حرکات کیں اور نامناسب انداز میں جسم کو چھوا جس پر میں جاگ گئی۔

خاتون مسافر نے مزید بتایا کہ میں جب جاگ گئی تو پاکستانی مسافر نے ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کی جیسے وہ صرف اپنی سیٹ کے سامنے موجود اسکرین کو درست کر رہا ہو تاہم وہ مسلسل ان کی طرف دیکھتا رہا۔

تھائی خاتون نے بتایا کہ جب فضائی عملے نے ملزم سے پوچھ گچھ کی تو ابتدا میں اس نے الزامات کی تردید کی تاہم بعد میں مبینہ طور پر اپنے فعل کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنے لگا۔

خاتون نے بتایا کہ ملزم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر روتا رہا اور بار بار معافی کی درخواست کرتا رہا جبکہ اس کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر سیاحوں نے بھی خاتون سے اسے معاف کرنے کی اپیل کی۔

خاتون کا کہنا تھا کہ فضائی عملے نے واضح کر دیا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس میں پولیس کو شامل کیا جائے گا۔ اسی دوران ان کی چار سالہ بیٹی کو صورتحال سے دور رکھنے کے لیے عملے نے الگ نشست پر منتقل کر دیا تاکہ وہ یہ سب نہ دیکھ سکے۔

ڈان میوانگ پولیس کے افسر لیفٹیننٹ کرنل چمنانیوت کونگ کونگ کے مطابق ملزم کو تاحال تھائی لینڈ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی اور خاتون کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی قانونی کارروائی کے تحت دونوں فریقین کے درمیان مصالحت کی کوشش بھی معمول کا حصہ ہے تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

خاتون بیوٹ پیمپاپورن نے کہا کہ وہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھیں گی اور ہرجانے کا بھی مطالبہ کریں گی۔

ان کے بقول انہوں نے اپنی شناخت ظاہر کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تاکہ اکیلے سفر کرنے والی خواتین محتاط رہیں اور اگر ان کے ساتھ کوئی نازیبا واقعہ پیش آئے تو وہ خاموش رہنے کے بجائے فوری طور پر متعلقہ عملے سے مدد طلب کریں۔

دوسری جانب فلائی دبئی کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ کمپنی جاری تحقیقات اور مسافروں کی رازداری کے باعث اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کرے گی تاہم مسافروں اور عملے کی حفاظت کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔

 

Load Next Story