پی سی بی نے ایشین لیجنڈز لیگ میں شرکت کرنے والے سابق کرکٹرز کو خبردار کر دیا
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے زیمبیا میں جاری ایشین لیجنڈز لیگ میں نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کیے بغیر شرکت کرنے والے سابق پاکستانی کرکٹرز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا عندیہ دے دیا۔
پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ نے اس غیر منظور شدہ ٹورنامنٹ میں سابق قومی کرکٹرز کی شرکت کا سخت نوٹس لیا اور جو بھی سابق کھلاڑی پیشگی اجازت اور این او سی کے بغیر اس ایونٹ میں شریک پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
PCB Reiterates Commitment to ICC Regulations on Participation in Unsanctioned Cricket Events
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) August 4, 2026
Details here ➡️ https://t.co/pirvYQdO2c pic.twitter.com/V2BE9l6og6
پی سی بی کے مطابق ایسے کھلاڑیوں پر دو سال تک کسی بھی منظور شدہ غیر ملکی لیگ یا کرکٹ ایونٹ کے لیے این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ وہ دو سال تک پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کوچنگ، مشاورت، مینٹورنگ یا کسی بھی دوسرے عہدے کے لیے نااہل ہوں گے۔
بورڈ نے واضح کیا کہ وہ آئی سی سی کے ضوابط پر مکمل عملدرآمد اور کرکٹ کے نظم و نسق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، اس لیے تمام موجودہ اور سابق کرکٹرز پر لازم ہے کہ بیرون ملک کسی بھی ایونٹ میں شرکت سے قبل پی سی بی سے باقاعدہ این او سی حاصل کریں۔
دوسری جانب زیمبیا کرکٹ یونین پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ ایشین لیجنڈز لیگ کو اس کی جانب سے نہ تو منظوری دی گئی ہے اور نہ ہی یہ ایک باقاعدہ منظور شدہ ٹورنامنٹ ہے۔
رپورٹس کے مطابق محمد حفیظ، سہیل تنویر اور عمر اکمل لیگ میں شرکت کے لیے لوساکا پہنچے تھے، تاہم ایونٹ کی منظوری نہ ہونے کا علم ہونے پر انہوں نے مقابلوں میں حصہ لیے بغیر واپسی کا فیصلہ کیا جبکہ دیگر کئی سابق پاکستانی کرکٹرز مبینہ طور پر ٹورنامنٹ میں شریک ہو چکے ہیں۔
ایشین لیجنڈز لیگ میں پاکستان پینتھرز، انڈین رائلز، سری لنکن لائنز، بنگلہ دیش ٹائیگرز، افغانستان پٹھانز اور ایشین اسٹارز سمیت چھ ٹیمیں شریک ہیں جن میں مختلف ممالک کے سابق بین الاقوامی کرکٹرز کھیل رہے ہیں۔