آنکھوں کے انفیکشن سے کیسے بچیں؟ ماہرین کی مفید ہدایات

آنکھوں میں خارش یا جلن محسوس ہونے پر انہیں بار بار رگڑنے سے گریز کرنا چاہیے

مون سون کا موسم جہاں گرمی سے وقتی نجات کا باعث بنتا ہے، وہیں مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھا دیتا ہے۔ انہی موسمی مسائل میں آنکھوں کے انفیکشن بھی شامل ہیں، جو برسات کے دوران زیادہ عام ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فضا میں بڑھتی ہوئی نمی، آلودگی اور جراثیم کی افزائش آنکھوں کو بیکٹیریا اور وائرس سے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات پیدا کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کے دنوں میں گندگی، گردوغبار، آلودہ پانی اور الرجی پیدا کرنے والے ذرات کی موجودگی آنکھوں کے مسائل میں اضافہ کرتی ہے۔ انفیکشن کی صورت میں آنکھوں میں سوزش پیدا ہوسکتی ہے اور آنکھ کا سفید حصہ سرخ دکھائی دینے لگتا ہے، جس سے روزمرہ معمولات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

آنکھوں کے انفیکشن کی عام علامات میں آنکھوں کی سوزش، درد، مسلسل پانی آنا، دھندلا دکھائی دینا اور آنکھوں کا سرخ ہو جانا شامل ہیں۔ اگر یہ علامات شدت اختیار کریں تو فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق اس موسم میں حفظانِ صحت کا خاص خیال رکھنا سب سے مؤثر حفاظتی تدبیر ہے۔ ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونا، گندے ہاتھوں سے آنکھوں کو نہ چھونا اور روزانہ صفائی کا اہتمام انفیکشن کے امکانات کم کر سکتا ہے۔

آنکھوں میں خارش یا جلن محسوس ہونے پر انہیں بار بار رگڑنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنے سے جراثیم مزید پھیل سکتے ہیں۔ آنکھ صاف کرنے کے لیے صاف ٹشو یا رومال استعمال کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

اگر آنکھوں میں تکلیف یا سوزش ہو تو چند منٹ کے لیے صاف اور نیم گرم کپڑا آنکھوں پر رکھنا آرام پہنچا سکتا ہے۔ ضرورت محسوس ہونے پر دن میں کئی مرتبہ گرم کمپریس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ انفیکشن کے دوران آنکھوں کا میک اپ استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اگر میک اپ استعمال کرنا ناگزیر ہو تو برش اور دیگر اشیا کی مکمل صفائی یقینی بنائی جائے۔

اس کے علاوہ بستر کی چادریں، تکیے کے غلاف اور تولیے باقاعدگی سے تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔ انہیں گرم پانی اور ڈٹرجنٹ سے دھونے سے جراثیم ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تولیہ، رومال یا آنکھوں سے متعلق استعمال ہونے والی ذاتی اشیا کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر کرنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے تاکہ انفیکشن ایک فرد سے دوسرے تک منتقل نہ ہو۔

اگر علامات میں بہتری نہ آئے یا انفیکشن شدید ہو جائے تو خود علاج کرنے کے بجائے ماہرِ امراضِ چشم سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اینٹی بائیوٹک یا اینٹی وائرل آئی ڈراپس استعمال کر کے بیماری پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکتا ہے۔

Load Next Story