یوکرین کی سفیر برائے امریکا پر کرپشن الزامات پر فرد جرم عائد؛ لاکھوں ڈالرز کے اثاثے
یوکرینی صدر نے کرپشن الزامات سامنے آنے پر خاتون سفیر کو ایک روز قبل ہی برطرف کیا تھا
یوکرین کی سفیر برائے امریکا اور سابق نائب وزیر اعظم اولہا اسٹیفانیشینا پر ناجائز اثاثے بنانے اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے تحت باضابطہ فردِ جرم عائد کر دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کی خصوصی انسدادِ بدعنوانی استغاثہ نے ہائی اینٹی کرپشن کورٹ میں سابق نائب وزیراعظم کے خلاف مقدمہ پیش کیا جہاں ان کی عبوری ضمانت اور دیگر قانونی پابندیوں پر سماعت جاری ہے۔
استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اولہا اسٹیفانیشینا کی رہائی کو ایک کروڑ 30 لاکھ ہریونیا تقریباً 2 لاکھ 90 ہزار امریکی ڈالر کے ضمانتی مچلکوں سے مشروط کیا جائے۔
اولہا اسٹیفانیشینا نے اپنے اثاثوں کے گوشواروں میں دو رہائشی اپارٹمنٹس، ان کی تزئین و آرائش پر ہونے والے اخراجات، والدہ کے علاج، ہوائی سفر، کرائے کے فلیٹ کے اور ایک ماتحت افسر کے نام پر رجسٹرڈ مرسڈیز گاڑی ظاہر نہیں کیے تھے۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اولہا اسٹیفانیشینا کے حاصل کردہ اثاثوں کی مجموعی مالیت ایک کروڑ 39 لاکھ ہریونیا تقریباً 3 لاکھ 10 ہزار ڈالر رہی جبکہ ان کے اخراجات ان کی آمدنی اور جمع شدہ رقوم سے کہیں زیادہ تھے۔
پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ اولہا اسٹیفانیشینا نے 2024 میں نیشنل ایجنسی فار پریوینشن آف کرپشن کے سربراہ کے انتخاب کے عمل پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور حکومتی حمایت یافتہ سلیکشن پینل کے ارکان کو مخصوص امیدواروں کی حمایت کرنے کی ہدایات دیں۔
عدالت میں پیش کیے گئے پیغامات کے مطابق انھوں نے ایک امیدوار اولیکسینڈر سکوماروف کو کم سے کم نمبر دینے کی ہدایت بھی کی تھی تاکہ وہ انتخابی دوڑ سے باہر ہو جائیں۔ علاوہ ازیں کئی اثاثے دوسرے افراد کے نام پر بنائے۔
ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سابق سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں کسی شخص کے جرم کا ثبوت نہیں ہوتیں۔ قانونی طریقے سے اپنا دفاع کروں گی۔
انھوں نے کہا کہ جائیداد سے متعلق اٹھائے گئے سوالات پر وہ پہلے ہی میڈیا کو تمام ضروری دستاویزات فراہم کر چکی ہیں اور ان کے خلاف الزامات ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔
یاد رہے کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان الزامات کے سامنے آنے پر 3 اگست کو اولہا اسٹیفانیشینا کو امریکا میں سفیر کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
ان کے خلاف اس سے قبل بھی اثاثہ جات کی بازیابی اور انتظامی ایجنسی سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے کیس میں تحقیقات جاری تھیں۔
یوکرینی میڈیا کے مطابق ان کے سابق شوہر سے منسلک کمپنیوں کو ضبط شدہ اثاثوں کے انتظام کے ٹھیکے ملنے پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
مزید برآں، اسٹیفانیشینا پر 2019 میں بھی ایک علیحدہ سرکاری فنڈز میں خرد برد کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کی جا چکی تھی۔
یوکرینی ہائی اینٹی کرپشن کورٹ آئندہ سماعت میں ان کی ضمانت، سفری پابندیوں اور مقدمے کی مزید کارروائی سے متعلق فیصلہ کرے گی۔