متوقع جنگ بندی معاہدہ ، امن کا واحد راستہ
کبھی کبھی دنیا کی سب سے بڑی جنگیں بارود سے نہیں بلکہ اُن سمندری راستوں کے گرد لڑی جاتی ہیں جہاں پانی خاموش دکھائی دیتا ہے مگر اس کی لہروں کے نیچے عالمی سیاست، معیشت اور عسکری حکمت عملی کی پوری بساط بچھی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جس قوت نے تجارتی راستوں پر اثر و رسوخ حاصل کیا، اس نے عالمی فیصلوں کی سمت بھی متعین کی۔ آبنائے ہرمز اسی حقیقت کی زندہ علامت ہے۔
یہ محض ایک تنگ بحری گزرگاہ نہیں بلکہ جدید عالمی نظام کی اقتصادی شہ رگ ہے، جہاں ہر گزرتا ہوا بحری جہاز صرف تیل یا گیس نہیں بلکہ درجنوں ریاستوں کی اقتصادی سلامتی، صنعتی پیداوار اور مالیاتی استحکام بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی راستے میں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی چند گھنٹوں کے اندر ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکا کی منڈیوں کو متاثر کرنے لگتی ہے، جب کہ سفارتی دارالحکومتوں میں سرگرمیاں غیر معمولی حد تک تیز ہو جاتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دیا گیا سخت انتباہ اور ساتھ ہی اڑتالیس گھنٹوں میں ممکنہ معاہدے کا عندیہ بظاہر ایک دوسرے کی ضد محسوس ہوتے ہیں، مگر بین الاقوامی سیاست میں طاقت اور مذاکرات اکثر ایک ہی سکے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ واشنگٹن اچھی طرح جانتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو طویل عرصے تک بند رہنے دینا نہ صرف عالمی معیشت بلکہ خود امریکی اقتصادی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ایک طرف سخت بیانات کے ذریعے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تو دوسری جانب سفارتی رابطوں کے ذریعے ایسا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے جس سے کشیدگی میں کمی بھی آئے اور کسی فریق کو مکمل پسپائی اختیار کرنے کی ضرورت بھی پیش نہ آئے۔
اسی تناظر میں امریکا، ایران اور عمان کے درمیان عبوری انتظام کے امکانات خاص اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ اگرچہ اس مجوزہ معاہدے کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ تمام متعلقہ فریق اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ تصادم کی موجودہ کیفیت کسی کے مفاد میں نہیں۔ ساٹھ روزہ عبوری انتظام، جہازوں کے لیے الگ الگ بحری راستوں کا تعین اور ٹرانزٹ فیس سے استثنا جیسے نکات دراصل اعتماد سازی کی ایسی کوشش ہیں جن کا مقصد فوری بحران پر قابو پانا اور بعد ازاں زیادہ پیچیدہ سیاسی و جوہری معاملات پر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔یہ امر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس پوری سفارتی سرگرمی میں عمان، قطر، پاکستان اور سعودی عرب جیسے علاقائی ممالک کا کردار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی سیاست گزشتہ کئی برسوں سے بڑی طاقتوں کے تصادم کا مرکز رہی ہے، مگر حالیہ پیش رفت اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ بعض اوقات علاقائی ریاستیں اپنی جغرافیائی حیثیت، متوازن خارجہ پالیسی اور سفارتی روابط کی بنیاد پر ایسے دروازے کھول دیتی ہیں جو بڑی طاقتیں براہ راست نہیں کھول سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر یہ عبوری انتظام کامیاب ثابت ہوتا ہے تو اس کا کریڈٹ صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان ممالک کی سفارتی کوششیں بھی عالمی سطح پر تسلیم کی جائیں گی جنھوں نے خاموشی سے رابطوں کے پل تعمیر کیے۔
دوسری جانب ایران کے رویے میں بھی ایک قابل غور توازن دکھائی دیتا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کے ساتھ ساتھ تنازع کو مزید وسعت نہ دینے کا اظہار اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اس مرحلے پر اپنی عسکری صلاحیت کا تاثر برقرار رکھتے ہوئے سفارتی راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ یہی حکمت عملی ایرانی قیادت کو داخلی سطح پر مضبوط پیغام دینے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو یہ باور کرانے میں مدد دیتی ہے کہ ایران مذاکرات سے انکار نہیں کر رہا بلکہ اپنی قومی خودمختاری اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
امریکی بیانات اور ایرانی موقف کے درمیان موجود یہ نازک توازن اس لیے بھی اہم ہے کہ چند ہفتے قبل تک دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے امکانات نمایاں دکھائی دے رہے تھے، اگر اب حالات تدریجاً سفارت کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافات ختم ہو گئے ہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ دونوں فریق جنگ کی قیمت کا اندازہ پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں کر چکے ہیں۔ جدید عالمی معیشت میں کسی بڑی جنگ کی قیمت صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات بینکاری، توانائی، بیمہ، جہاز رانی، سرمایہ کاری اور عالمی سپلائی چین تک پھیل جاتے ہیں۔
اسی حقیقت کی جھلک عالمی منڈیوں کے فوری ردعمل میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ جیسے ہی مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئیں، خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مثبت رجحان پیدا ہوا۔ یہ ردعمل اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ سرمایہ کار آج عسکری طاقت سے زیادہ سیاسی استحکام کو اہمیت دیتے ہیں۔ عالمی سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں غیر یقینی کم ہو اور تجارتی راستے محفوظ ہوں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے مثبت پیش رفت نے کم از کم وقتی طور پر یہی تاثر پیدا کیا کہ توانائی کی عالمی سپلائی میں فوری تعطل کا خطرہ کم ہو رہا ہے۔
جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ صنعتی پیداوار، دفاعی سپلائی چین، مالی وسائل اور مسلسل اسلحہ سازی کی صلاحیت کے امتحان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ جدید میزائل نظاموں کی تیاری مہینوں نہیں بلکہ بعض اوقات برسوں پر محیط عمل ہوتی ہے، اس لیے ہر بڑی جنگ دفاعی منصوبہ بندی کو ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔یہ صورت حال ایک اور اہم حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، مسلسل کشیدگی ان کی معاشی اور عسکری استعداد پر بوجھ ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اس مرحلے پر ایک ایسے عبوری انتظام کا خواہاں دکھائی دیتا ہے جو بیک وقت عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بھی بنائے اور کسی نئی فوجی مہم کی ضرورت بھی پیش نہ آنے دے۔
دوسری طرف ایران بھی گزشتہ برسوں کے تجربات سے یہ سبق حاصل کر چکا ہے کہ مستقل محاذ آرائی اقتصادی پابندیوں، سرمایہ کاری کی کمی اور داخلی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اسی لیے تہران کی کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیت کے تاثر کو برقرار رکھتے ہوئے ایسا راستہ اختیار کرے جس سے نہ صرف علاقائی کشیدگی کم ہو بلکہ مستقبل میں جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق مذاکرات کے امکانات بھی زندہ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کو محض ایک بحری تنازع سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے ساتھ خطے کی مجموعی سلامتی، اقتصادی بحالی اور سفارتی توازن کے کئی پہلو وابستہ ہو چکے ہیں۔
اس تمام منظرنامے میں پاکستان کے لیے بھی کئی اہم سفارتی امکانات پیدا ہوئے ہیں، مختلف ذرائع کے مطابق عمان، قطر اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان نے پس پردہ رابطوں اور سہولت کاری میں اہم کردار ادا کیا ہے ، یہ اس امر کی علامت ہے کہ متوازن خارجہ پالیسی، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں سے روابط کسی بھی ملک کو تعمیری سفارت کاری کا موثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان جغرافیائی محل ِ وقوع پاکستان کو پہلے ہی ایک منفرد اہمیت عطا کرتا ہے، تاہم اس اہمیت کو دیرپا سفارتی سرمایہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی میں تسلسل، اقتصادی استحکام اور داخلی مضبوطی کو یکساں ترجیح دی جائے۔
یہ بحران ایک وسیع تر سبق بھی دیتا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا استعمال اگر سفارت کاری سے مکمل طور پر الگ ہو جائے تو اس کے نتائج اکثر غیر متوقع اور مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح صرف مذاکرات بھی اس وقت تک پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتے جب تک ان کے ساتھ باہمی اعتماد، بین الاقوامی قوانین کا احترام اور علاقائی سلامتی کے مشترکہ اصول وابستہ نہ ہوں۔ پائیدار استحکام ہمیشہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب سیاسی قیادتیں وقتی برتری کے بجائے طویل المدت امن کو ترجیح دیں۔
اگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری سفارتی کوششیں عملی معاہدے کی صورت اختیار کر لیتی ہیں تو یہ صرف ایک بحری راستے کی بحالی نہیں ہوگی بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہوگا کہ شدید ترین کشیدگی کے بعد بھی مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوتا، تاہم اس کامیابی کو حقیقی معنوں میں موثر بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ اسے عارضی انتظام تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایسے جامع علاقائی مکالمے میں تبدیل کیا جائے جو خلیج، بحیرہ عرب اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی، آزاد بحری تجارت اور باہمی احترام پر مبنی نئے توازن کی بنیاد رکھ سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عالمی معیشت کو بار بار کے جھٹکوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور یہی وہ حکمت ہے جو طاقت کی سیاست کو ذمے دار سفارت کاری میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔