پچاسی فی صد تیل کے کنوئیں

کھلے گا ترک تعلق کے بعد باب فنا  یہ ایک ’’آہ‘‘ کا پردہ بھی اب ہٹا ہی دو

barq@email.com

حق ہے ، بالکل حق ہے اوراگر کوئی نہیں مانتا تو وہ احمق ہے ،صوبہ خیبر پختون خوا یعنی صوبہ خیر پخیر میں ’’تین باریاں‘‘ لگا کر پی ٹی آئی حکومتوں نے صوبے کی جو ’’پٹائی‘‘ کی ہے اور پی ٹی کرائی ہے اس کے بدلے جمہوری شہزادوں ، سلیکٹڈ حلقے کے ایلیکٹڈ عرف منتخب نمائندوں نے عوام کی جو خدمت کی ہے، اس کے بعد ان کا حق بنتا ہے کہ ان کی تاج پوشی کی جائے اور وہ تمام رعایات اورسہولیات دی جائیں جو مفتوحہ شہر میں فاتح لشکر کو حاصل ہوجاتی ہیں۔

اس پنڈرھوڑے اورمحاصرے میں ان لوگوں نے صوبے اورصوبے کے عوام کی جو ’’خدمت‘‘ کی ہے اورصوبے کو اس مقام پر پہنچایا ہے کہ سامنے جنت الفردوس ہے جو وزیروں، مشیروں اورمعاونوں کے بیانات میںصاف صاف دکھائی دے رہی ہے بس ’’سانس‘‘ کا پردہ ہٹائیے اورگھس پڑئیے ۔

کھلے گا ترک تعلق کے بعد باب فنا

 یہ ایک ’’آہ‘‘ کا پردہ بھی اب ہٹا ہی دو

سارے لائق فائق لوگ تھے بلکہ ہیں اوراپنے لائق فائق ترین ’’بانی کے وژن‘‘ کے پرتو سے اوربھی دوآتشہ سہ آتشہ ہوگئے تھے چنانچہ صوبے کو ہرلحاظ سے باغ وبہار اورگل وگلزار کرچکے ہیں ، فنڈز جو ادھر ادھر فضول کاموں میں خرچ ہو جاتے تھے اب ’’محفوظ ہاتھوں‘‘ میں پہنچا دیے گئے، یوں کہیے کہ انھیں بخوبی ٹھکانے لگایا جاتا ہے ۔ نوکریاں اورتبادلے انتہائی بے قاعدہ تھیں چنانچہ ان کے باقاعدہ نرخنامے مقررکردیے ہیں، باقاعدہ اورکھلے عام نیلامی ہوتی ہے یا فروخت کی جاتی ہیں، کسی بھی رو رعایت سفارش کے بغیر خالص قائداعظم کی تصاویر کے سائے میں ۔ سب سے بڑی بات یہ کہ پہلے صرف وزیر ہوتے تھے جو چند محکموں میں محدود سا دسترخوان بچھا دیا کرتے تھے لیکن اب محکموں سے محکمے، وزارتوں سے وزارتیں نکال کروزیروں کی تعداد ماشاء اللہ امریکا سے چارگنا زیادہ ہے پھر مشیروں اورمعاونوں کی برکت سے پورا صوبہ ایک خوان نعیما بن گیا ہے ۔

 ہم سوچ رہے تھے مدت سے کہ ان جمہوری شہزادوں سلیکٹڈ ، طبقے کے الیکٹڈ ،جمہوری خدمت گاروں کو ان کی خدمات کاکماحقہ صلہ ملنا چاہیے چنانچہ صوبے کی حکومت نے ان کے لیے کچھ کچھ مراعات اورسہولیات کا ارادہ تو کرلیا ہے لیکن وہ ان خدمت گاروں کے لیے ناکافی ہیں، ان کے بیوی بچوں کے لیے تاحیات سہولیتں بھی کافی نہیں بلکہ گھر میں پالتو کتے، بلیوں یا گائے بھینسوں کے لیے سہولتیں دینا بھی لازم ہے بلکہ آس پاس کے سات سات گھروں اوراگلی پچھلی سات پشتوں تک بھی سہولیات کا یہ سلسلہ دراز ہوناچاہیے ۔ بلکہ ہمارا خیال ہے کہ ان خدمت گاروں کو معاشرے میں خاص اور نمایاں کرنے کے لیے ان کے سروں پر سونے کا تاج نہیں تو کم از کم سونے کی ٹوپی ضرور ہونا چاہیے ، اب جب کہ ’’سونا‘‘ کا معاملہ طے پا گیا ہے تو چاندی کہاں جائے گی ، چنانچہ لباس چاندی کا ہونا چاہیے ، اتنا مشکل کام بھی نہیں جب شیشے وغیرہ کے دھاگے بن سکتے ہیں تو چاندی کے بھی بن سکتے ہیں پھر مزاآجائے گا ۔

چاندی جیسا رنگ ہے تیرا

سونے جیسے بال

تو ہی اک دھنوان ہے گوری باقی سب کھنگال

 اب آپ شاید یہ سوچنے لگے ہوں کہ اتنا خرچہ کہاں سے آئے گا ، تو شاید آپ کو ابھی تک یہ خبر نہیں پہنچی ہے کہ اس ملک کے پچاسی فی صد عوام تیل کے کنوئیں بن چکے ہیں اوررحمان بابا نے کہا ہے کہ کنوئیں کا پانی جتنا زیادہ نکالا جاتا ہے اتنا ہی بڑھتا چلا جاتا ہے ۔

Load Next Story