خطے کی کشیدہ صورتحال؛ وزیراعظم شہباز شریف سعودیہ پہنچ گئے
خلیجی ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب وزیراعظم محمد شہباز شریف فیلڈ مارشل کے ہمراہ سعودی عرب کے تین روزہ سرکاری دورے پر جدہ پہنچ گئے جہاں وہ وزیراعظم و ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کریں گے۔
وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جس میں وفاقی وزرا بھی شامل ہیں۔
جدہ: 6 اگست 2026.
— Prime Minister's Office (@PakPMO) August 6, 2026
وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شیخ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلسعود کی دعوت پر دورہء سعودی عرب پر جدہ پہنچ گئے ہیں.
جدہ پہنچنے پر مکہ کے نائب گورنر شہزادہ سعود بن مشال بن عبدالعزیز، سعودی عرب کے وزیرِ زراعت، پانی و ماحولیات عزت مآب… pic.twitter.com/NiS0nyKe6X
دفتر خارجہ کے مطابق اس اہم دورے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی معاملات پر مشاورت کرنا ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif departs on his official visit to the Kingdom of Saudi Arabia, Rawalpindi, 6 August 2026. pic.twitter.com/vtXXV9cBuu
— Prime Minister's Office (@PakPMO) August 6, 2026
دورے کے دوران وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے، جس میں دونوں رہنما پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے، جبکہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
اسلام آباد: 6 اگست 2026.
— Prime Minister's Office (@PakPMO) August 6, 2026
وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیرِ اعظم شیخ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلسعود کی دعوت پر دورہء سعودی عرب کیلئے روانہ ہو گئے ہیں.
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف و چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی… pic.twitter.com/2Nv4ysyiRg
بیان کے مطابق یہ دورہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں ہو رہا ہے، تاہم اس کی اہمیت صرف موجودہ حالات یا قلیل مدتی معاملات تک محدود نہیں۔
توقع ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط مزید مضبوط ہوں گے، اسٹریٹجک تعاون کو وسعت ملے گی، علاقائی و عالمی امور پر باہمی رابطہ کاری میں اضافہ ہوگا اور کثیرالجہتی تعاون کو بھی مزید تقویت حاصل ہوگی۔