مقتول میر رضا کا پورا کیس ٹریس کرلیا، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو

غیر متعلقہ میڈیکو لیگل افسر کیس پر کمنٹ کررہا ہے، میڈیکو لیگل ڈاکیومنٹ ایک بات اور آپ زبانی دوسری بات کررہے ہیں۔

انسپیکٹر جنرل آف پولیس جاوید عالم اڈھو نے کہا ہے کہ پولیس میر رضا کیس میں عنقریب تمام حقائق بتائے گی، میڈیکل بورڈ کا جو فیصلہ ہوگا اس کے مطابق پولیس کی تفتیش ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو میں آئی جی سندھ جاوید عالم اڈھو نے کہا ہے کہ پولیس نے میر رضا کیس میں بہت محنت کی ہے، پولیس نے میر رضا کا پورا کیس ٹریس کرلیا ہے۔ کراچی پولیس میر رضا کیس میں عنقریب تمام حقائق بتائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ میر رضا کیس میں تھوڑا سےابہام ہواہے، غیر متعلقہ میڈیکو لیگل افسر کیس پر کمنٹ کررہا ہے۔ میڈیکو لیگل ڈاکیومنٹ ایک بات اور آپ زبانی دوسری بات کررہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ کی طاقت اور اختیار ہے۔

جاوید عالم اڈھو نے کہا کہ میڈیکل بورڈ بٹھادیں ہم کوئی اعتراض نہیں۔ طبی ماہرین ہی اس پر فیصلہ کریں گے۔ میڈیکل بورڈ کا جو فیصلہ ہوگا اس کے مطابق پولیس کی تفتیش ہوگی۔

دوسری طرف بیٹے کی قبر کشائی کی درخواست دائر کرنے کے موقع پر والد میر حسن نے کہا کہ رپورٹ سے اندازہ کررہے ہیں کیا تفتیش ہورہی ہ، کبھی فنانس کے بات کرتے ہیں کبھی کچھ اور، بچے پر قرضہ تھا تو پورے ملک پر بھی قرضہ ہے۔ ہم قتل کے بات کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انویسٹی گیشن میں فنانس اور انویسٹمبٹ کی جارہی ہے۔ پوسٹ مارٹم کرنے والا ڈاکٹر اسامہ کیوں غائب ہے۔ ہم پریشان ہیں بچے کو پہلے ہی بہت تکلیف میں دیکھا۔ ہمیں تکلیف ہے کہ بچے کی دوبارہ قبر کشائی کی جارہی ہے۔

میر حسن نے کہا کہ پولیس تحقیقات کرے کہ شناخت کیوں مٹائی گئی۔ پولیس نے ابھی تک قتل تسلیم نہیں کیا۔ پولیس نے ابھی تک ہمارا بیان ریکارڈ نہیں کیا ہے۔ پولیس ہم سے کچھ اور باہر کچھ بات کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر خبر چلنے کے بعد پولیس سے رپورٹ مانگی تو ملی، ہمیں انصاف چاہیئے۔ درخواستگزار میر حسن کے وکیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم میں نقائص کی نشاندہی کی۔ پولیس کا کام ہے قبر کشائی کی درخواست دیتے لیکن نہیں دی۔ والدین نے قبر کشائی کی درخواست دی ہے۔ اصل قاتلوں تک پہنچے یا وجہ موت کے تعین کے لئے قبر کشائی ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کیس کو نمٹانا چاہتی ہے۔ پولیس سرجن آفس میں ڈاکٹر اسامہ کی رپورٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ مقدمے اندراج کے بعد آج تک تفتیشی افسر سے مدعی کا بیان تک نہیں لیا۔ افواہیں چل رہی ہیں لیکن شواہد جمع نہیں کئے گئے۔ سرکاری اداروں کا کام ہے مدعی کو تفتیش میں مطمئن کرے۔

Load Next Story