چین میں سیلاب: پانی میں مگرمچھوں کی وائرل ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی ہے
چین کو حالیہ قدرتی آفات کے دوران ایک نئے مسئلے کا سامنا ہے جہاں اے آئی سے تیار کی گئی جعلی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں چین میں آنے والے طوفانوں، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کرتی رہیں جن میں متاثرہ علاقوں کی صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے یا امدادی کارروائیوں سے متعلق غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ گمراہ کن مواد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور ریسکیو کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کا باعث بن رہا ہے۔
سیلابی پانی میں مگرمچھ والی ویڈیو جعلی ہے:
جولائی میں گوانگسی کے شہر ہینگژو میں سیلاب کے باعث سانپوں کے ایک فارم سے سینکڑوں سانپ نکل گئے تھے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اے آئی سے تیار کردہ ایسی جعلی تصاویر بھی پھیل گئیں جن میں مگرمچھوں کو دریا میں چھوڑتے ہوئے دکھایا گیا۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے مواد سے پہلے سے موجود ہنگامی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
حکام کی تشویش
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ژیجیانگ پولیس کے آن لائن سیکیورٹی ونگ کے نائب سربراہ ہوانگ ژی ہوا نے کہا کہ بہت سے لوگ زیادہ ویوز اور فالوورز حاصل کرنے کے لیے قدرتی آفات سے متعلق جھوٹی اور سنسنی خیز معلومات تیار کرتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
کمیونسٹ پارٹی کے سینٹرل پارٹی اسکول کے پروفیسر چن بن کے مطابق اے آئی نے جعلی معلومات تیار کرنا انتہائی آسان بنا دیا ہے، جہاں صرف چند ہدایات دے کر حقیقت سے ملتا جلتا متن، تصاویر، آڈیو اور ویڈیوز تیار کی جا سکتی ہیں۔
ایسٹ چائنا یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس اینڈ لا کے پروفیسر گاؤ فوپنگ کے مطابق کچھ لوگ تفریح کے لیے، کچھ ذاتی فائدے اور زیادہ ٹریفک حاصل کرنے کے لیے جبکہ بعض افراد معاشرے میں خوف اور بے چینی پھیلانے کے مقصد سے ایسا مواد تیار کرتے ہیں۔
چین میں اے آئی پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری
چین مصنوعی ذہانت کو مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی قرار دیتے ہوئے اس شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق ملک میں 6,000 سے زائد اے آئی کمپنیاں موجود ہیں۔
قانونی اور تکنیکی چیلنج
ماہرین کے مطابق اے آئی کی ترقی قانونی نظام سے کہیں زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے، جس کے باعث نئی قسم کی غلط معلومات سے نمٹنا مستقبل میں مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ صرف مواد بنانے والے ہی نہیں بلکہ اے آئی ایپس تیار کرنے والی کمپنیوں اور مواد شائع کرنے والے پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بھی واضح ہونی چاہیے۔