دنیا کی طاقتور ترین شمسی دوربین نے سورج کی حیران کن اور انتہائی واضح تصاویر حاصل کرلیں
سائنس دانوں نے دنیا کی سب سے طاقتور شمسی دوربین کی مدد سے سورج کی سطح کی اب تک کی سب سے تفصیلی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کر لی ہیں، جن میں پہلی بار سورج پر بننے والے گھومتے ہوئے بھنور انتہائی واضح انداز میں نظر آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت سورج کے مقناطیسی نظام اور خلائی موسم کو بہتر انداز میں سمجھنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق سورج کی سطح پر دکھائی دینے والے یہ بھنور دراصل گرم گیسوں کی حرکت کے باعث سورج کے مقناطیسی میدان کے مسلسل مڑنے اور گھومنے سے بنتے ہیں۔ یہی عمل بعد ازاں سورج پر توانائی کے شدید دھماکوں کا سبب بنتا ہے، جو خلائی موسم کو جنم دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلائی موسم زمین کے سیٹلائٹس، بجلی کی ترسیلی لائنوں اور مواصلاتی نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ خلا میں موجود خلاباز بھی اس کے ممکنہ خطرات سے محفوظ نہیں رہتے۔
یہ اہم تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے، جبکہ مشاہدات دنیا کی جدید ترین انوئے سولر ٹیلی اسکوپ کے ذریعے کیے گئے، جو امریکی ریاست ہوائی کے ایک بلند پہاڑی مقام پر نصب ہے۔ اس مقام کا صاف اور گرد سے پاک ماحول سورج کے انتہائی واضح مشاہدے کے لیے مثالی سمجھا جاتا ہے۔
سورج کی سطح کے قریب سے حاصل کی گئی تصاویر میں سائنس دانوں نے چھوٹے مگر طاقتور گھومتے ہوئے بھنور دیکھے، جن کے بارے میں این ایس او کے ماہر فلکیات ڈاکٹر ڈیوڈ کوریڈزے نے بتایا کہ یہی گھومتی ہوئی حرکات مقناطیسی توانائی پیدا کرتی ہیں، جو بعد میں بڑے شمسی دھماکوں کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
سائنس دانوں نے اس عمل کو ’کیلون-ہیلم ہولٹز انسٹیبلیٹی‘کا نام دیا ہے۔ یہ ایک ایسا طبیعیاتی مظہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مختلف رفتار سے حرکت کرنے والے سیال یا گیسیں ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کھاتی ہیں اور چھوٹے ارتعاش رفتہ رفتہ گھومتے ہوئے بھنوروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہی اصول سمندروں میں چھوٹی لہروں کے بڑی طاقتور موجوں میں تبدیل ہونے کی بھی وضاحت کرتا ہے۔
این ایس او کے ایک اور سائنس دان ڈاکٹر فریڈرک ووگر کے مطابق اس دریافت نے نہ صرف خلائی موسم کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے میں مدد دی ہے بلکہ اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ سورج کی بیرونی سطح اتنی زیادہ گرم کیوں ہوتی ہے۔ ان کے بقول یہی بھنور توانائی کو سورج کی بالائی تہوں تک منتقل کرتے ہیں، جہاں توانائی جمع ہونے کے بعد شمسی شعلوں یا کورونل ماس ایجیکشن کی شکل میں خارج ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی عملی اہمیت کے ساتھ ساتھ سائنسی اعتبار سے بھی غیر معمولی قدر ہے، کیونکہ سورج ہماری زمین کے قریب ترین ستارہ ہے اور اس کا مطالعہ کائنات میں موجود بنیادی طبیعیاتی قوانین کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آئن اسٹائن کے نظریۂ اضافیت کی پہلی تجرباتی تصدیق بھی سورج گرہن کے مشاہدات کے ذریعے ہی ممکن ہوئی تھی، اسی لیے سورج پر ہونے والی ایسی جدید تحقیقات مستقبل کی سائنسی ترقی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔