میر رضا کے والد کا چیف جسٹس سے از خود نوٹس کا مطالبہ، پولیس تفتیش پر سنگین سوالات اٹھا دیے

بیٹے کے بعد ہم پر ہی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں، ایم ایل او کرنے والا افسر کہاں ہے؟ کسی کو بچایا جارہا ہے، میر حسین

کراچی کے تاجر میررضا کے والد نے بیٹے کے قتل کیس میں ہونے والی اب تک  کی جانے والی تفتیش پراپنے عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کس کو بچایا جارہا ہے؟ چیف جسٹس اس پر نوٹس لیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق میر رضا کے والد میر حسین نے نے سوال اٹھایا کہ رضا کے قتل پرتفتیش نہ کرکے کس کو بچایا جا رہا ہے،کون لوگ ہیں، بیٹے کے بارے میں تفصیلات ہم سے نہیں مانگی جا رہیں لیکن ہم پر ہی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا اگر بیٹے نے وافلکس کے حوالے سے انویسٹمنٹ لیں تو صرف میرا بیٹا ذہنی دباؤ میں کیوں تھا؟ اس کا پارٹنر اور اس کا بڑا بھائی کیوں ذہنی دباؤ میں نہیں تھے؟ کیا ان دونوں نے ملکر بیٹے کو ذہنی اذیت دی؟۔۔

بہادر آباد میں وافلکس کے مالک اور پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی بلاک 2 کے رہائشی  نوجوان میررضا علی نے والد میررضا حسین  نے اپنی رہائش گاہ پر ایکسپریس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہ کہ کہ گزشتہ 10 روزسے میررضا سے متعلق باتوں کوتوڑموڑپرپیش کیا جا رہا ہے۔ ہماری اوربیٹے کی کردارکشی کی جا رہی ہے لیکن بیٹے کے قتل پر کوئی بات نہیں کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا جناح اسپتال میں جب بیٹے کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جارہا تھا تواس وقت ریاست اورپولیس کی ذمہ داری تھی کہ وہ وہاں موجود ہوتی، میڈیکو لیگل افسرڈاکٹراسامہ شیخ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ اپنے سینیئرافسر سے کیوں شیئر نہیں کی، سینیئر افسران سے مل کر انہیں کیوں معلومات فراہم نہیں کی گیں؟

میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بہت سارے اہم نکات کا ذکر موجود ہی نہیں ہے صرف گولی لگنے کا بتایا گیا اور وہ بھی غلط بتایا جا رہا ہے کہ گولی آگے سے ماری گئی جبکہ بیٹے کو پیچھے گولی ماری گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کونسی تفتیش کررہی ہے اوروہ سمجھتے ہیں کہ بیٹے کے قتل کی تفتیش ہو ہی نہیں رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم سے کچھ شیئر نہیں کیا جا رہا،پولیس افسران اپنے کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں ہم کہاں جائیں پولیس اور ایل ایم اوکی کوتاہی کی وجہ سے اپنے بیٹے کو تکلیف دے رہے ہیں اگر تفتیش  درست انداز میں کی جاتی اوردرست اندازمیں پوسٹ مارٹم کیا جاتا تونتائج الگ ہوتے۔

انہوں نے بتایا کہ جس مقام سے بیٹے کی لاش ملی وہاں خون موجود نہیں تھا، گولی لگی توخون  بھی نکلا ہوگا تو خون کہاں گیا؟  پہلے دن ہی نشاندہی کردی گئی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں تاخیرکی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بیٹے پر تشدد کیا گیا تھا اب 10 دن کے بعد قبرکشائی کروا رہے ہیں، ہم انصاف کے لیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ پولیس کی تفتیش کا رخ غلط ہے مجھے سے رضا کی والدہ اور بہن سے تفتیش کرنی ہے کرو، رضا ہمارا اکلوتا بیٹا تھا اور اسے ہمارا سہارا بننا تھا بیٹا کے دنیا سے جانے کے بعد بہت پریشان ہوگیا ہوں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ رضا کے قتل پرتفتیش نہ کرکے کس کو بچایا جا رہا ہے، کون لوگ ہیں ؟، بیٹے کی لاش کس پوزیشن موجود تھی اوراس کے ہاتھ کی پوزیشن کیا تھی اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہے، ایک کچرے والے کی ویڈیو دکھا رہے ہیں کل اسلحہ بھی پیش کردیں گے ،اسلحہ کا تو پتہ ہی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کے کاروبار میں شریک پارٹنر احمد اس کا بڑا بھائی عبداللہ کہاں ہے حساب کتاب تو وہ دیکھتا تھا اس سے حساب کتاب لیا جائے۔

ان کا کہنا تھا میڈیکو لیگل افسر نے ان کے بیٹے کے پوسٹ مارٹم سے قبل پتہ نہیں کتنے لوگوں کے غلط پوسٹ مارٹم کیے ہوں گے ہم نے بھی واقعے کی ساری تصاویر اور ویڈیوز، معلومات حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک بھجوائی ہیں جبکہ یہاں پر بیٹے کے حوالے سے کچھ بھی نہیں بتایا جا رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم سے کچھ چھپایا جا رہا ہے، ہم کچرے والے کو ڈھونڈ رہے ہیں لیکن قاتل کو تلاش نہیں کیا جا رہا ہے ، بیٹے کا قتل ہوا تحقیقات درست سمت میں نہیں ہوئی کچھ نہیں پہت کچھ  چھپا رہے اور کسی کو بچایا جارہا ہے۔

میر حسین نے کاہ کہ وائرلیس کیوں نہیں چلایا گیا گلستان جوہر پولیس بیٹے کی لاش نامعلوم قرار دیکر سرد خانے میں کیوں جمع کروا رہی تھی، اگر بیٹے کی لاش سرد خانے چلی جاتی تو ہم  اپنے لخت جگر کو کیسے تلاش اور شناخت کرتے، ہم نے بیٹے کو اس کے کپڑوں کی مدد سے شناخت کیا جبکہ چہرہ بھی انتہائی خراب ہو چکا تھا، آخر لاش کو لاواراث قرار دیکر کیوں اتنی جلد بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گلستان جوہر پولیس نے 28 جولائی کو کیے جانے والے وائرلیس کا جواب کیوں نہیں دیا، آئی جی سندھ پتہ نہیں کیا کر رہے ان کے ماتحت افسران و اہلکاروں سے غلطی ہوئی ہے اب تک ہمیں تفتیشی افسر کا بھی نہیں پتہ ہم سے کچھ پوچھا نہیں جا رہا اس بات سے اندازہ کیا جائے ، بیٹے کے بارے میں تفصیلات ہم سے نہیں مانگی جا رہیں لیکن ہم پر ہی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ہدایت پر بننے والے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی اور نئی تحیققاتی ٹیم بننے کے 2 روز بعد جو رپورٹ سامنے آئی وہ سب کے سامنے ہے۔

مقتول نوجوان میر رضا کے والد نے مزید بتایا کہ بیٹے کی لاش کا پوسٹ مارٹم جس ایم  ایل او نے کیا اس کے خلاف کارروائی کے لیے متعلق حکام سے رابطہ کیا ہے، بہت سے لوگوں کو معطل ہونا چاہیے ، بیٹے کے کیس میں پولیس اور میڈیکو لیگل افسر سمیت سب سے غفلت برتی گئی ہے اور میں چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ بیٹے کے قتل کا ازخود نوٹس لیا جائے اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بیٹے نے وافلکس کے حوالے سے انویسٹمنٹ لیں تو صرف میرا بیٹا ذہنی دباؤ میں کیوں تھا اس کا پارٹنر احمد اور اس کا بڑا بھائی عبداللہ کیوں نہیں تھے کیا ان دونوں نے ملکر بیٹے کو ذہنی اذیت دی، پولیس تفتیش میں بہت ساری چیزیں چھوڑ کر کیس کو نارمل سمجھتے ہوئے اسے خود کشی قرار دے رہی ہے جو کہ غلط بات ہے میرے بیٹے نے خود کشی نہیں کی۔

Load Next Story