حوثیوں کے فوجی کیمپوں پر حملے میں 38 اہلکار ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے؛ یمن کی تصدیق
حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں 45 یمنی فوجی مارے گئے
یمنی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حوثی جنگجوؤں کے متعدد آرمی کیمپوں پر حملے میں کم از کم 38 اہلکار ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے یہ حملے یمن کے علاقوں مأرب اور حضرموت کے صوبوں میں قائم فوجی اڈوں پر کیے گئے۔
یمنی حکام کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے ایک ہی وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا اور فورسز کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا جس کے باعث فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
زخمی ہونے والے درجنوں اہلکاروں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جبکہ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یمنی حکام نے کہا کہ یہ حملے اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالث سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا عسکری تصادم ہیں۔
اگرچہ باضابطہ جنگ بندی کی مدت بعد میں ختم ہوگئی تھی تاہم دونوں فریقوں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ جنگ بندی برقرار تھی جس کے باعث بڑے پیمانے کی لڑائی میں نمایاں کمی آگئی تھی۔
حالیہ حملوں نے اس غیر رسمی امن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یمن دوبارہ وسیع پیمانے پر خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی فورسز پر حملے 'سعودی فوجی نقل و حرکت' کے جواب میں کیے گئے۔ ان حملوں میں 45 یمنی فوجی مارے گئے۔
تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملوں میں ڈرون، بیلسٹک میزائل یا دیگر ہتھیار استعمال کیے گئے یا نہیں تاہم ماضی میں حوثی ایسی کارروائیوں میں ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
حوثیوں نے کہا کہ انھوں نے ہمسایہ ملک سعودی عرب کی مبینہ فوجی نقل و حرکت اور حملے کی تیاریوں کے جواب میں یمن کے سرکاری فوج کے اڈّوں، کیمپوں اور پوزیشنوں پر حملے کیے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر الزام لگایا کہ وہ حملوں کی تیاری کے لیے بڑی فوجی نقل و حرکت کر رہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اسی لیے ہماری مسلح افواج نے سعودی دشمن کی فوجی جمع ہونے والی جگہوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑے اور انتہائی درست فوجی آپریشن کو انجام دیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی ایران، امریکا، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز، غزہ اور خلیج میں جاری سفارتی و عسکری سرگرمیوں کے باعث پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک بلکہ بحیرہ احمر اور عالمی بحری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ یمن میں 2014 سے جاری جنگ میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک ایک طرف جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور ماضی میں اس کی حمایت کرنے والا سعودی قیادت کا فوجی اتحاد دوسری طرف موجود ہے۔