یوگنڈا؛ پارلیمان نے غزہ میں عالمی امن فورس کیلیے اپنی فوج بھیجنے کی منظوری دیدی
یوگنڈا کی پارلیمنٹ نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی امن و استحکام فورس میں اپنے فوجی بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر دفاع نے قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کی تھی۔ جس کے بعد یوگنڈا پہلی بار بین الاقوامی فورس میں شامل ہونے پر آمادہ ہوگیا۔ اس سے قبل مراکش بھی اس مشن کے لیے فوج فراہم کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔
یوگنڈا نے اس فیصلے کی وجوہات یا کسی ممکنہ سفارتی یا سیاسی مفاہمت کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ تاہم اپوزیشن ارکان نے اس اقدام پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ یوگنڈا کے لیے سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے کیونکہ وہ او آئی سی کا بھی رکن ہے۔
اپوزیشن رکن پارلیمنٹ حسن کیرومیرا نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری فوج آخر کس کے ساتھ لڑے گی؟ ان کے بقول حکومت کو اس معاملے پر واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔
وزیر دفاع کیریووا کیوانوکا نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یوگنڈا کی فوج کو صومالیہ سمیت مختلف ممالک میں امن مشنز کا وسیع تجربہ حاصل ہے اسی لیے وہ غزہ میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ فورس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی تجویز کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے بعد غزہ میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے تشکیل دی جا رہی ہے۔
غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تجویز رواں سال فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس نے پیش کی تھی۔ 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل اس فورس کی قیادت امریکی میجر جنرل جیسپر جیفرز کریں گے۔
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ حماس نے غیر مسلح ہونے اور اسرائیل نے مرحلہ وار غزہ سے اپنی فوج واپس بلانے کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
اس معاہدے کے مطابق اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے بعد بین الاقوامی استحکام فورس غزہ میں تعینات کی جائے گی۔
تاہم معاہدے کا متن سامنے آنے کے بعد اسرائیل نے اس پر سنگین سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض نکات قومی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہیں جس کے باعث معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے حوالے سے ابھی بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔