یہاں الیکشن ایسے ہی ہوتے ہیں
m_saeedarain@hotmail.com
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کو دھاندلی زدہ، گولی اور قاتل الیکشن قرار دیا ہے جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی فتح کو عوامی اعتماد کا ثبوت ہے اور اس کامیابی کو میاں نواز شریف اور پوری ٹیم کی محنت کا ثمر بتایا ہے۔ پاکستان کے ہر الیکشن کے بعد ایسے ہی بیانات آتے ہیں ۔
جیتنے والی پارٹی اپنی جیت کو عوامی اعتماد اور ہارنے والے دھاندلی قرار دیتے آئے ہیں۔ 2018 کے الیکشن کو آر ٹی ایس اور 2024 کے الیکشن کو فارم 47 کا الیکشن اب تک قرار دیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے وزیر اعظم اور بعد میں صدارتی الیکشن بھی آر ٹی ایس رات گئے بٹھائے جانے کے نتیجے میں کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی نے ووٹ دے کر پی ٹی آئی کو جتوایا تھا اسی طرح 2024 کے کامیاب ارکان اسمبلی نے بھی حکومت بنائی ہے۔ مگر دونوں الیکشن میں فرق یہ ہے کہ 2018میں دونوں عہدیدار تحریک انصاف کے تھے جب کہ 2024 میں وزیر اعظم(ن) لیگ سے اور صدر مملکت پیپلز پارٹی سے ارکان اسمبلی نے منتخب کیے تھے۔
پیپلز پارٹی کو ڈھائی سال بعد یاد آیا ہے کہ انھوں نے جو حکومت بنائی تھی وہ فارم 47 کے ذریعے منتخب کرائے گئے ارکان اسمبلی کے ذریعے بنی تھی جو دونوں پارٹیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ایسا نہیں ہوا تھا کہ (ن) لیگ والے غیر حقیقی اور پیپلز پارٹی والے حقیقی طور منتخب ہوئے تھے بلکہ اس وقت بھی کے پی میں پی ٹی آئی اور سندھ میں پیپلز پارٹی پر دھاندلی کرا کر اور فارم 47 کے ذریعے منتخب ہونے کے الزامات دونوں کے مخالفین نے لگائے تھے۔
2013 کے الیکشن کو پی ٹی آئی دھاندلی زدہ قرار دیتی ہے مگر اس وقت بھی حکومت پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی مدد سے اور 2024 میں حکومت مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کی مدد سے بنائی تھی اور دونوں ہی پارٹیوں نے وزارتیں لی تھیں مگر (ن) لیگ صدر مملکت کے وعدہ پورا نہ ہونے پر پی پی حکومت سے الگ ہو گئی تھی اور اس نے صدارتی انتخاب میں پی پی کو ووٹ نہیں دیا تھا مگر 2024 میں صدر اور وزیر اعظم الیکشن میں منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے ہی منتخب کیے تھے، اگر وزیر اعظم کا انتخاب غلط تھا تو صدر مملکت کا انتخاب کیسے درست ہو سکتا ہے؟ دونوں ہی پارٹیوں نے الیکشن کو درست قرار دیا تھا مگر اب پیپلز پارٹی اسے متنازع بنا رہی ہے۔
راقم نے 1969 میں ایوب خان کے آخری دور میں صحافت کا آغاز کیا تھا اور 1970 میں جب جنرل یحییٰ خان نے الیکشن کرایا وہ پیپلز پارٹی کا بھی پہلا الیکشن تھا اور پی پی ملک بھر میں بہت مقبول تھی مگر سندھ و پنجاب میں بھاری اکثریت لے سکی تھی۔ مذکورہ الیکشن کو کسی حد تک منصفانہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ جنرل یحییٰ خان کی اپنی کوئی پارٹی تھی نہ وہ کسی کی حمایت میں تھے اور صدر مملکت منتخب ہونا چاہتے تھے مگر ان کی توقعات پوری نہ ہوسکی تھیں۔ ملک دولخت کرایا گیا پھر 1973 کا متفقہ آئین بنا جس کے بعد ملک میں پارلیمانی نظام لایا گیا تھا۔
1977 میں وزیر اعظم بھٹو نے خود کو مقبول سمجھ کر قبل از وقت الیکشن کرایا جس میں انھوں نے لاڑکانہ میں اپنے کسی مخالف کو الیکشن ہی لڑنے نہیں دیا تھا اور بلامقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کی ملک میں حکومت تھی جس پر زبردست دھاندلیوں کے الزامات لگے۔ شکارپور میں راقم نے خود پی پی کی دھاندلی دیکھی تھی اور بتایا گیا کہ ملک کی بہتری کے لیے بھٹو صاحب کو دوبارہ منتخب کرنا ملک کی ضرورت ہے۔
1977 میں پی پی کی دھاندلیوں کے خلاف ملک گیر نظام مصطفیٰ تحریک چلی۔ تین شہروں میں بھٹو صاحب نے مارشل لا لگایا۔ ملک بھر میں ہنگاموں میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا پھر طویل مارشل لا کے بعد 1985 میں جنرل ضیا الحق نے ملک میں غیر جماعتی الیکشن کرایا جس میں جس کا جہاں زور تھا اس نے بھرپور دھاندلی سے کامیابی حاصل کی مگر حکومت پر دھاندلی کے الزامات نہیں لگے پھر پاکستان مسلم لیگ وجود میں لا کر محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم بنوایا گیا۔
محمد خان جیسا مخلص وزیر اعظم پھر دوبارہ نصیب نہ ہو سکا۔ 1988 کے بعد 2024 تک ہونے والے جماعتی بنیاد پر جتنے الیکشن ہوئے کسی کو آج تک منصفانہ قرار نہیں دیا جا سکا۔ سیاسی پارٹیاں ہر الیکشن کو دھاندلی زدہ، انجینئرڈ قرار دیتی آ رہی ہیں۔ پی پی اور مسلم لیگ (ن) 1999 تک باریاں لیتی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتی ایک دوسرے سے سیاسی انتقام لینے میں مصروف رہیں اور دونوں نے ایک دوسرے پر ملک لوٹنے اور کرپشن کے مقدمات بنانے میں ہی وقت گزارا۔
جنرل پرویز مشرف نے دونوں کو کرپٹ قرار دیا جس کے بعد دونوں کی قیادت جلا وطن رہی پھر دونوں نے لندن میں میثاق جمہوریت کیا۔ دونوں پارٹیوں کو 2008 میں تیسری بار اقتدار ملا مگر دونوں ماضی سے سبق سیکھ چکی تھیں۔ 2018 میں انصاف اور ایمانداری کے دعویدار کو دونوں سابق حکمران پارٹیوں پر ترجیح دے کر اقتدار دلایا گیا جس نے سیاسی دشمنی کو انتہا پر پہنچانے میں کسر نہیں چھوڑی پھر 2024 میں درستگی کی کوشش ہوئی دونوں ایک دوسرے کی مخالف پارٹیاں اقتدار میں تو ہیں مگر بلاول بھٹو سندھ، بلوچستان اور جی بی کے بعد آزاد کشمیر کا بھی اقتدار چاہتے تھے تاکہ ان کے اقتدار کی راہ ہموار ہو۔ اقتدار میں رہنے والی تینوں پارٹیوں نے جو الیکشن کرائے ان پر بھی دھاندلی و خونریزی کے الزامات لگے۔ خون ہر دور میں بہایا گیا۔ ہلاکتیں ہر الیکشن میں ہوئیں اور ہوتی رہیں گی۔