افغان طالبان حکمرانوں پر نیا عدم اعتماد

’’زاویہ نیوز‘‘ موجودہ افغانستان کا ایک ایسا میڈیا آؤٹ لیٹ ہے جس نے تھوڑے سے عرصے میں افغان عوام کا اعتماد اور اعتبار حاصل کر لیا ہے ۔

tanveer.qaisar@express.com.pk

’’زاویہ نیوز‘‘ موجودہ افغانستان کا ایک ایسا میڈیا آؤٹ لیٹ ہے جس نے تھوڑے سے عرصے میں افغان عوام کا اعتماد اور اعتبار حاصل کر لیا ہے ۔ اِس کی خبریں ، تجزیئے اور انٹرویوز متشدد افغان طالبان حکام کے زیر سایہ سانس لیتے مجبور افغان عوام ( خصوصاً افغان خواتین) کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ جابر طالبان حکمران بسیار کوششوں اور تشدد کے باوجود ’’زاویہ نیوز‘‘ کی آوازیں خاموش نہیں کر سکے۔

اِس کے جری نمائندگان خاموشی اور محنت سے بیرونِ ملک خبریں بھیج کر دُنیا کو طالبان حکام کے جملہ تشدد اور مظالم سے آگاہ کررہے ہیں ۔ اِسی ’’زاویہ نیوز‘‘ نے 2اگست 2026 کو یہ انکشاف کیا ہے کہ ’’ 75فیصد افغان عوام طالبان کی حکومت، عوام سے رویئے اور طالبانی معیشت سے مطمئن نہیں ہیں ۔‘‘ مذکورہ میڈیا آؤٹ لیٹ کا دعویٰ ہے کہ ’’ہم نے17ملین ( ایک کروڑ 70لاکھ) افغانیوں سے مسلّط طالبان حکمرانوں کی طرزِ سیاست ، اندازِ حکمرانی ، موجودہ معیشت اور طالبان کے افغان عوام سے مجموعی سلوک بارے سوالات پوچھے تھے ۔ اِنہی سوالات کا مذکورہ جواب آیا ہے ۔

اِس سروے ہی سے ہم پاکستانی اور دُنیا بخوبی اندازے لگا سکتے ہیں کہ افغان طالبان کے جبر کارن افغان عوام کس قدر تنگ ہیں ۔ ہر جانب سے مقتدر طالبان نے افغان عوام کی مشکیں کس رکھی ہیں ۔تعلیم، روٹی اور دوائی کو ترستے افغان عوام کو کبھی حکومتِ پاکستان کی جانب سے کچھ ریلیف مل جایا کرتا تھا، مگر جب سے افغان طالبان نے بھارت کے ساتھ مل کر اور بھارت کی اشیرواد سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینا شروع کیا ہے، غریب اور مستحق افغان عوام پاکستان کے دستِ شفقت و مہربانی سے بھی محروم ہو گئے ہیں ۔ اپنی عیاشیوں اور سہولتوں میں مگن طالبان حکام مگر ایک عام افغانی کا دکھ درد جاننے اور بانٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔

مقتدر افغان طالبان کی اپنی بیٹیاں تو غیر ممالک میں ہر قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں ، مگر افغان خواتین پر تعلیم کے دروازے بھی بند ہیں اور روزگار کے بھی ۔ ہر جمعہ کو کاک شٹل برقعے پہنے افغان خواتین جس طرح افغانستان کی مساجد کے سامنے بھیک مانگتی نظر آتی ہیں، یہ انتہائی شرمناک مناظر ہوتے ہیں۔ طالبان حکمرانوں کو یہ مناظر دیکھ کر مگر حیا نہیں آتی ۔

افغان طالبان کو کابل میں برسرِ اقتدار لانے میں پاکستانی حکمران بھی برابر کے شریکِ جرم ہیں ۔ ہمیں یہ جرم تسلیم کرنا چاہیے ۔ افغان طالبان نے مگر پاکستانی احسانات کو قطعی فراموش کردیا ہے ۔ احسان فراموشی کرتے ہُوئے وہ بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان میں اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد بھیج کر پاکستان کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں (ویسے ہر قسم کی بلیک میلنگ کرنا افغان طالبان اپنا فن سمجھتے ہیں) پاکستان میں آئے روز خونریزی کی متعدد وارداتوں میں افغان شہری بھی رنگے ہاتھوں جس طرح گرفتار ہو رہے ہیں، یہ بھی اِس امر کا ثبوت ہے کہ وہ50لاکھ افغان عوام بھی نا شکرے اور محسن کش ثابت ہُوئے ہیں جنہیں پاکستان نے کمال فیاضی سے 40برسوں تک روٹیاں کھلائیں ۔ یہ افغان مہاجرین چونکہ برسوں سے پاکستان میں آزادانہ دندناتے رہے ہیں، اس لیے وہ پاکستان کے چپے چپے سے واقف اور آگاہ ہیں۔

اُردو زبان بھی بول لیتے اور سمجھتے ہیں، اس لیے پاکستانی عوام میں گھل مل جانا اِن کے لیے سہل اور آسان ہے۔اِس پردے میں افغانیوں کا پاکستان میں دہشت گردی کرنا اور اپنے( بھارتی و طالبانی) آقاؤں کے پاکستان میں دیے گئے اہداف تک پہنچنا مشکل نہیں ہے ۔ ہم آج شرحِ صدر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ افغان جہاد پاکستان اور پاکستانی عوام کے گلے میں طوق بن کررہ گیا ہے ۔ نجانے پاکستانیوں کو افغان جہاد میں جبریہ حصہ لینے اور افغان مہاجرین پر کی گئی مہربانیوں کی سزا کب تک ملتی رہے گی؟

ہم دیکھ رہے ہیں کہ پیسے کے لالچ میں افغان حکمران کس جی جان سے انڈین اسٹیبلشمنٹ پر فدا ہو رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر: جولائی 2026 کے تیسرے ہفتے افغان طالبان رجیم کے وزیر زراعت (مولوی عطاء اللہ عمری) بھارت پہنچے تو بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہُوئے کہا:’’ یہ میرا پہلا دَورئہ بھارت ہے ۔جب سے مَیں نے بھارتی سرزمین پر قدم رکھا ہے، مجھے ہر گز احساس نہیں ہورہا کہ مَیں کسی غیر ملک میں ہُوں ۔گویا مَیں اپنے ہی گھر کے صحن میں ہُوں ۔ مَیں دل سے کہہ سکتا ہُوں کہ بھارت اور طالبان کا ڈی این اے ایک ہی ہے ۔‘‘ طالبان وزیر مولوی عمری نے بجا ہی کہا ہے کہ ’’بھارت اور افغان طالبان کا ڈی این اے ایک ہی ہے‘‘ ۔ اِسی اعتراف کا شاخسانہ ہے کہ آج بھارت اور طالبان یکساں طور پر پاکستان میں دہشت گردیاں کررہے ہیں ۔بُتوں کی پوجا و پرستش کرنے والے بھارت اور طالبان (جس کے پرچم پر کلمہ طیبہ لکھا گیا ہے) کے وزیر کا مشترکہ ڈی این اے رکھنا سب کو حیران کر گیا ہے ۔

حیرانی کی بات مگر یہ ہے کہ افغان دہشت گردوں اور طالبان حکام کی پاکستان مخالف کارروائیوں کی موجودگی کے باوجود پاکستان سے اُن افغانیوں کو نکالنے میں مسلسل پس و پیش کیا جارہا ہے جو پاکستان میں مسلسل غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں ۔ پاکستان میں یہ غیر قانونی مقیم افغانی پاکستان کا کھاتے ہیں اور پھر بار بار پاکستان کی تھالی میں چھید کررہے ہیں۔ ہمارے حکمران آئے روز اِن غیر قانونی افغانیوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کے اعلانات تو کرتے ہیں( آخری ڈیٹ بھی دیتے ہیں) مگر اِن اعلانات پر عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ اِس سے دہشت گرد ذہنیت رکھنے والے افغان مہاجرین کو شہ مل رہی ہے اور وہ (بجاطور پر) سوچتے ہیں کہ یہ پاکستانی حکام ہمیں پاکستان سے نکالنے کے محض اعلان ہی کرتے ہیں، اس لیے ہم تو اِدھر ہی رہیں گے اور کھل کر دہشت گردیاں بھی کریں گے اور بھارتی ایجنسیوں کا مال بھی کھائیں گے ۔

ساری دُنیا سے غیر قانونی اور مجرم افغانیوں کو نکالا جارہا ہے ۔ امریکہ سے بھی اور جرمنی سے بھی ۔ پاکستانی حکام کو اِن ممالک ہی سے کچھ سبق لینا چاہیے۔ ساری دُنیا افغان مہاجرین کی مجرمانہ سرگرمیوں اور مجرمانہ ذہنیتوں سے عاجز آ چکی ہے ۔ پچھلے دنوں افغان وزیر خارجہ ، مولوی امیر متقی، بڑے ترلے منتوں کے بعد جرمنی پہنچے، یہ درخواست کرنے کہ جرمنی میں مقیم غیر قانونی افغانیوں کو نہ نکالا جائے ۔ مگر جرمنی حکام نے یہ درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ اب تو جرمنی اُن غیر قانونی افغانیوں کو بھی ملک سے نکال رہا ہے جن کا کریمینل ریکارڈ بھی کوئی نہیں ہے ۔ امریکہ میںICEکی جانب سے غیر قانونی افغانیوں پر مضبوط ہاتھ ڈال کر زبردستی ملک سے نکال باہر کیا جارہا ہے ۔

پاکستانی حکام ملک میں مقیم غیر قانونی افغانیوں کو نکالنے میں کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں ؟ ایک طرف یہ تسلیم بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں آئے روز دہشت گردی کی خونریز وارداتوں میں افغان شہری پکڑے جارہے ہیں اور دوسری طرف اِنہی افغانیوں پر ہاتھ ہولا کیوں رکھا جارہا ہے؟ ہم سب حیران ہیں۔ 20جولائی 2026 کو خبر آئی کہ ’’ حکومتِ پاکستان نے تقریباً 40ہزار غیر قانونی افغانیوں کو واپس افغانستان بھجوا دیا ہے۔‘‘ مگر یہ تعداد تو کچھ بھی نہیں ۔ وطنِ عزیز کی سیاسی و معاشی اور سماجی فضاؤں کو آلودہ اور زہریلا کرنے والے یہ غیر قانونی افغان ہنوذ لاکھوں کی تعداد میں یہاں مقیم ہیں۔

انہیں بیک بینی و دوگوش ملک سے نکال دینا چاہیے ۔ بس بہت ہو گیا ۔ بی بی سی کے مطابق :’’جولائی 2026کے وسط میں جنوبی افریقہ سے53ہزار سے زائد غیر قانونی افراد کو ملک سے دھکے دے کر نکال دیا گیا ، اس لیے کہ جنوبی افریقہ کے شہری اِن غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی حرکات سے تنگ آ چکے تھے‘‘۔ ساتھ ہی افغان اخبار ’’آریانہ نیوز‘‘ نے جرمن اخبارTazکے حوالے سے خبر دی ہے کہ’’جرمنی نے فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی میں مقیم غیر قانونی افغانوں کو ملک سے نکالا جارہا ہے ، خواہ اُن کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہ ہی ہو۔‘‘ تو پاکستان کیوں جنوبی افریقہ اور جرمنی کے نقوشِ قدم پر نہیں چل سکتا؟ہچکچاہٹ کیا اور کیوں ہے؟ جرمنی کے وزیر داخلہ ( کرسٹین ڈوبرن) نے واضح الفاظ میں کہا ہے:’’ ہم اپنے ملک میں کسی ایک بھی غیر قانونی افغان کو ٹھہرنے نہیں دیں گے۔‘‘ کیا ہمارے حکمران پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغانوں بارے ایسا غیر مبہم اور مستحکم لہجہ اختیار کر سکتے ہیں؟

Load Next Story