درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف میں 52 فیصد کمی کی تجویز، اختلافات برقرار
فوٹو: فائل
حکومت نئی آٹو پالیسی پر جاری ڈیڈ لاک ختم کرنے میں تاحال ناکام رہی ،اگرچہ وزارتِ صنعت نے درآمدی گاڑیوں پر حفاظتی ٹیرف میں 2030 تک 52 فیصد تک کمی کی تجویز پیش کرکے اپنے سابقہ موقف میں نرمی دکھائی ہے تاہم مجوزہ ٹیرف اب بھی وفاقی کابینہ سے منظور شدہ قومی ٹیرف پالیسی کے مقابلے میں 300 فیصد تک زیادہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق 2026ء سے 2031ء تک کی آٹو اور آٹو پارٹس پالیسی کے مسودے پر غور کے لیے قائم وزارتی کمیٹی نے حالیہ دنوں میں متعدد اجلاس منعقد کیے، جن میں جمعرات کا اجلاس بھی شامل تھا، مگر کسی حتمی نتیجے پر اتفاق نہ ہوسکا۔
کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کر رہے ہیں جبکہ غیر ملکی ماہرین بھی اس کا حصہ ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ وزارتِ صنعت نے نظرثانی شدہ ٹیرف تجاویز کمیٹی کے سامنے پیش کیں، جن میں سابقہ مؤقف کے مقابلے میں لچک دکھائی گئی، تاہم وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کو الگ رکھنے کے باوجود مجوزہ کسٹم ڈیوٹیاں قومی ٹیرف پالیسی میں مقررہ شرحوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق 2030 تک زیادہ سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی 15 فیصد ہونی چاہیے، لیکن وزارتِ صنعت نے 1501 سے 1800 سی سی گاڑیوں پر 60 فیصد کسٹم ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے، جو قومی پالیسی سے 300 فیصد زیادہ جبکہ موجودہ شرح سے 34 فیصد کم ہے۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیرف پالیسی پر عمل درآمد انتہائی اہم ہے، تاہم توانائی کی قیمتوں، ٹیکسوں اور دیگر مسابقتی عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق ٹیرف پالیسی کا صرف ایک جزو ہے، جبکہ معیار بندی، معاہداتی ذمہ داریوں کی تکمیل اور صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی بھی نئی پالیسی کے اہم مقاصد ہیں۔
دوسری جانب وزارتِ صنعت کا موقف ہے کہ صرف حفاظتی ٹیرف ختم کرنے سے مارکیٹ میں حقیقی مسابقت پیدا نہیں ہوگی، جب تک مقامی صنعت کو کم توانائی لاگت، مستحکم ٹیکس نظام، مناسب شرح سود اور مستحکم شرح مبادلہ جیسی سہولتیں میسر نہ ہوں۔
وزارتِ صنعت نے 1800 سی سی تک گاڑیوں پر آئندہ پانچ برسوں میں ٹیرف میں 34 فیصد کمی کی تجویز دی ہے۔1001 سے 1500 سی سی گاڑیوں کے لیے 2030 تک کم از کم 45 فیصد ٹیرف تجویز کیا گیا ہے، جو قومی پالیسی سے 200 فیصد زیادہ لیکن موجودہ شرح سے 25 فیصد کم ہے۔
وزارت کے مطابق مقامی صنعت کو مکمل درآمدی گاڑیوں کے مقابلے میں محفوظ رکھنے کے لیے کم از کم 40 سے 45 فیصد تحفظ ضروری ہے۔801 سے 1000 سی سی گاڑیوں کے لیے 40 فیصد کم از کم ٹیرف تجویز کیا گیا ہے، جو قومی ٹیرف پالیسی سے 166 فیصد زیادہ جبکہ موجودہ شرح سے 45 فیصد کم ہے۔ اس زمرے میں 9.5 فیصد وفاقی ایکسائز ڈیوٹی بھی برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، حالانکہ قومی ٹیرف پالیسی کے مطابق اس ڈیوٹی کو ختم کیا جانا ہے۔
1801 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 75 فیصد کسٹم ڈیوٹی تجویز کی گئی ہے، جو قومی پالیسی سے 266 فیصد زیادہ مگر موجودہ شرح سے 52 فیصد کم ہے۔ ان گاڑیوں پر 60 فیصد تک وفاقی ایکسائز ڈیوٹی بھی تجویز کی گئی ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ بڑی گاڑیوں سے حاصل ہونے والی ایکسائز ڈیوٹی کا ایک حصہ آٹو برآمدات کے فروغ، عالمی معیار کے آٹو پارٹس ساز اداروں کو پاکستان لانے اور آٹوموبائل ٹیسٹنگ کی سہولتیں قائم کرنے پر خرچ کیا جائے۔وزارتِ صنعت نے ایس آر او 655 کے تحت آٹو پارٹس کی تیاری کے لیے درآمد کیے جانے والے خام مال پر زیادہ سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز بھی دی ہے تاکہ درآمدی متبادل صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی برآمدات کے اہداف اور ان پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے جرمانوں کے نظام پر بھی مختلف وزارتوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
وزارتِ تجارت نے ٹیرف میں کمی کے نفاذ کے لیے ایک سال کی مہلت دینے کی تجویز دی ہے، تاہم اس کا موقف ہے کہ 2030 تک کسٹم ڈیوٹی کو 15 فیصد تک لانے کے بنیادی ہدف سے انحراف نہیں ہونا چاہیے۔
جمعرات کے اجلاس میں اس امکان کا بھی جائزہ لیا گیا کہ اگر نئی پالیسی کے تحت مقامی آٹو پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کتنی بچت ممکن ہوگی۔سردار اویس لغاری نے کہا کہ کمیٹی جلد از جلد نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینا چاہتی ہے۔