ایران سے مذاکرات جاری، جنگ جلد ختم ہوگی اور آبنائے ہرمز کھل جائے گی، ٹرمپ کا دعویٰ

دونوں ممالک ایک ایسے ممکنہ انتظامی معاہدے پر غور کر رہے ہیں جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز بھی دوبارہ مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے اور انہیں یقین ہے کہ موجودہ جنگ زیادہ عرصہ جاری نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران طویل عرصے تک اس جنگ کو جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے جلد کسی نہ کسی مثبت پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز بھی دوبارہ کھل جائے گی، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے گی۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک الگ بیان میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے کام سے انتہائی مطمئن ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور صورتحال امریکا کے حق میں جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایران اس وقت عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق مذاکرات کر رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک ایک ایسے ممکنہ انتظامی معاہدے پر غور کر رہے ہیں جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

تاہم ایرانی حکام متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت صرف آبنائے ہرمز کے انتظام اور جہاز رانی سے متعلق ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر خطے میں سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات عالمی تیل کی منڈی، بحری تجارت اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Load Next Story